Urdu News and Media Website

ہیپا ٹا ئٹس پاکستان سمیت دنیا بھر کے لیے صحت کا بڑا مسئلہ

لاہور(نیوزنامہ)ہیپاٹائٹس پاکستان سمیت دنیا بھر کے لیے صحت کا بڑا مسئلہ ہے۔ دنیا میں 35کروڑ افراد ہیپا ٹائٹس بی کا شکار ہیں۔ جن میں سے 75فیصد کا تعلق ایشیائی ممالک سے ہے۔ جب کہ کل 25فیصد متاثرہ افراد کا ہیپا ٹائٹس بی یا اس سے متعلقہ امراض کی وجہ سے موت کا شکار ہونے کا خدشہ ہے۔ ساڑھے چار فیصد پاکستانی ہیپا ٹائٹس سی جبکہ اڑھائی فیصد ہیپا ٹائٹس بی کا شکار ہیں۔ صرف امریکا میں 40لاکھ افراد ہیپا ٹائٹس سی کا شکار ہیں۔ پاکستان میں یہ تعدا کہیں زیادہ ہے۔ ہیپاٹائٹس بی، سی اور ڈی خون یا جسم سائل مادوں سے پھیلتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہیپاٹائٹس بی اور سی پیوندکاری متاثرہ والدین کے نومولود بچوں ایک سے زیادہ افراد کے ساتھ جنسی روابط رکھنے سے اور ٹیکے کے ذریعے نشہ کرنے والوں کو بھی ہو سکتا ہے۔ اِن خیالات کا اظہار پروفیسرحکیم محمد احمد سلیمی ،پروفیسرحکیم سیدعمران فیاض،حکیم محمد افضل میو،حکیم امجد وحید بھٹی ،حکیم طاہر نوید جنجوعہ،حکیم احمد حسن نوری،حکیم عطاء الرحمان صدیقی،حکیم حامد محمود،حکیم محمد ابو بکر،حکیم محمد شہباز سرور،حکیم فیصل طاہر صدیقی،حکیم ڈاکٹر عمر فاروق گوندل اور ڈاکٹر سکندر حیات زاہد نے پاکستان طبی کانفرنس لاہورڈویژن کے زیر اہتمام ہیپا ٹائٹس کے موضوع پر منعقدہ مجلس مذاکرہ میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ہیپا ٹائیٹس بی کی ویکسین موجود ہے۔ جو ہیپا ٹائٹس ڈی کے لیے بھی موئثر ہے۔ 90فیصد لوگوں میں یہ ویکسین کارآمد ثابت ہوئی ہے۔ تا ہم جن کو ہیپا ٹا ئٹس بی ہو چکا ہے ان پر یہ ویکسین اثر نہیں کرتی۔ ہیپا ٹا ئٹس بی اور سی کے جلد تشخیص اور علاج ازحد ضروری ہے تاکہ بعدکی پیچیدگیوں، جگر کے کینسر اور جگر کے ناکارہ ہونے سے بچا جا سکے، جس کا علاج صرف جگر کی پیوندکاری ہی ہے۔ ہیپاٹائٹس اے یا پیلا یرقان بہت عام بیماری ہے جو گندے پانی اور غیر معیاری کھانے پینے کی اشیاء سے پھیلتا ہے۔ چھوٹے بچوں کو یر قان کی ویکسین دینی چاہیے۔صاف ستھرا ماحول اور صحتمند طرز زندگی اپنانا چاہیے تاکہ یرقان سمیت دیگر کئی بیماریوں سے بچا جا سکے۔انہوں نے بتایا کہ ہیپا ٹائٹس کی تمام اقسام کا طب یونانی طریقہ علاج کے تحت کامیاب علاج کیا جا رہا ہے۔

تبصرے