Urdu News and Media Website

پی ایس پی کی پرواز

تحریر: چوہدری محمدالطاف شاہد۔۔۔پاکستان میں قابل ذکرپارٹیوں کی باگ ڈورسرمایہ داروں کے ہاتھوں میں تھی اوران پارٹیوںکے تنظیمی ڈھانچوں میں مڈل کلاس سیاسی کارکنان کاکوئی کردارنہیں تھا۔اس صورتحال میں یہ پارٹیاں اشرافیہ کاکلب بن گئی تھیں اوراس کلب کے ارکان کوسیاسی کارکنان اورعوام کے مسائل سے کوئی سروکار نہیں تھا ۔اس ماحول میں پاک سرزمین پارٹی کاقیام ایک تازہ ہواکاجھونکاہے ،اس جماعت اوراس کی قیادت نے عام آدمی کوخاص آدمی بنادیا۔پی ایس پی کی رفتاراورپروازسے لگتا ہے آنیوالے دنوں میں یہ کامیابیوں کی بہت بلند ی پرجائے گی۔پی ایس پی محض ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ یہ ایک تحریک اورپاکستان کے روشن مستقبل کی نویدسعید ہے۔پاک سرزمین پارٹی کی قیادت نے مادروطن پاکستان کو مختلف مسائل اوربحرانوں سے پاک کرنے کا جو اعلان کیا ہے اسے عملی جامہ پہنانے کیلئے پاک سرزمین پارٹی نے 25جولائی 2018ء کے عام انتخابات میں موزوں امیدواروں کو میدان میں اتاراہے، موجودہ انتخابات میں شہر قائدؒ کی عوام کا مانناہے کہ انہیں پاک سرزمین پارٹی کی صورت میں ایک متبادل سیاسی جماعت مل گئی ہے ،پاک سرزمین پارٹی موجودہ حکومتی نظام کو قانون سازی کے ساتھ عوام کیلئے کار آمد بنانے کی بات کررہی ہے اس خواب کوشرمندہ تعبیر کرنے کیلئے پاک سرزمین پارٹی کے عوامی نمائندوں کی ایک بڑی اکثریت کا انتخابات میں جیت کر قومی اورصوبائی اسمبلیوں میں پہنچنا ناگزیرہے ،کیونکہ پاک سرزمین پارٹی کے رہنمائوں کا یہ مانناہے کہ اس ملک کی عوام کا مقامی حکومتوں پر سے اعتماد اٹھ چکاہے اوراب اس اعتمادکوصرف عوامی خدمت کی بدولت ہی دوبارہ بحال کیا جاسکتاہے۔پاک سرزمین پارٹی کے پڑھے لکھے اور دیانتدار رہنمائوں نے ریاستی اداروں کی خود مختاری کی کے لیے جو پروگرام مرتب کیاہے اس پر عملدرآمد کے لیے بھی اسی انداز میں کوششیں کی جارہی ہے ، کراچی میں راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچنے والی جماعت پاک سرزمین پارٹی اس وقت شہر قائدـؒ کی نہیں بلکہ پورے پاکستان کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ جس انداز میں منتخب ارکان قومی وصوبائی اسمبلی نے اپنی اپنی پارٹیاں چھوڑ کر پی ایس پی میں جوق درجوق شمولیت اختیار کی ایسا پاکستان کی تاریخ میں اس سے پہلے نہیں دیکھا گیا کیونکہ ایک نئی جماعت کواپناوجودمنوانے اور لوگوں کو سمجھ آنے کیلئے ایک طویل وقت درکار ہوتاہے۔
بے شک پاک سرزمین پارٹی ایک نئی جماعت کے طور پر ابھری ہے مگر اس کے بانی ومرکزی چیئرمین سیّد مصطفی کمال ،مرکزی صدر انیس احمدقائم خانی اورمرکزی سیکرٹری جنرل رضاہارون سیاسی حلقوں میں کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ ایک ورکنگ اور مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والی سیاسی قیادت نے شہرقائدؒ اور اس ملک کی تقدیر سنوارنے کاپختہ ارادہ کیا تو انہیں سب سے پہلے متو سط اور غریب گھرانو ں کے لوگوں نے ہی خوش آمدیدکہا اور ایک نئی نویلی جماعت نے چند ہی دنوں میںایک تاریخی جلسہ کرکے اس بات کو ثابت کردیاکہ سید مصطفی کمال نے جس قافلے کا چنائو کیا ہے اب اسے منزل تک پہنچنے سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔جہاں تک سید مصطفی کمال کی شخصیت کاتعلق ہے تو انہوںنے اپنی ابتدائی تعلیم کراچی سے حاصل کی، ملائیشیا سے گریجوایشن کیااور پھر انگلینڈ سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی اس کے بعد قدرت نے کراچی کی تقدیر سنوارنے کیلئے سیّد مصطفی کمال کاانتخاب کیا، تاریخ گواہ ہے کہ سیّد مصطفی کمال 2005ء سے 2009ء تک کراچی کے ناظم رہے۔ انہوںنے اپنے اس دور میں ترقیاتی منصوبوںکی وہ بھرمارکی جس کی نظیر پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی، جہاں انہیں اپنی دن رات کی انتھک محنت کے نتیجہ پاکستان کے چاروں صوبوں میں بیحدسراہاگیا وہاں امریکی جریدے فارن پالیسی نے 2008ء کیلئے سیّد مصطفی کمال کو دنیا کا بہترین مئیر قراردیا۔آج جب سیّد مصطفی کمال نے دیکھا کہ جس انداز میں انہوںنے شہر قائدؒ کو سنوارنے کیلئے اپنی انتھک محنت کے طفیل اسے دنیا کے چندجدید اور ترقی یافتہ شہروں میں تبدیل کر دیا تھا،ان دنوں اس شہر میں جابجاگندگی کے ڈھیر ہیں۔کراچی کے لوگ پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں۔ جس شہرقائدؒ میں لوگ اندرون ملک وبیرون ملک سے سیر وسیاحت اورتجارت کیلئے آتے تھے اب وہاں مسائل کے انبارلگے ہیں۔بدامنی کے سبب کاروباری ،تجارتی ،ثقافتی اورسیاسی سرگرمیاں ماندپڑگئی ہیں،ہر طرف فرقہ وارانہ تشدد کی خبریں اور شہر قائدؒ کے بوند بوند پانی کیلئے ترس رہے لوگوں کا دکھ ان سے نہیں دیکھا جاتا ، آج بھی بنیادی ضروریات اورشہری سہولیات سے محروم لوگ نجات کیلئے سیّدمصطفی کمال کو یاد کرتے ہیں۔ انہیں پھر سے ایک ایسے ایڈمنسٹریٹر کی ضرورت ہے جو اس شہرقائدؒ کے ساتھ قائد ؒ کے پاکستان کی بگڑے حالات کو سنوارے اورسدھارے۔
پھر ایک روز شہر قائدؒ کی عوام اورقائدؒ کے پاکستان کی سنی گئی جب سیّدمصطفی کمال نے ایک نظریاتی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کیا۔ انہوںنے پاک سرزمین پارٹی کے نام سے پلیٹ فارم کیا بنایاملک کے طول وارض سے پرجوش نوجوانوں سمیت ہرعمر کے افراد نے اس سے وابستہ ہونا شروع کردیا اور آج یہ جماعت پاکستان کی چند بڑی پارٹیوں میں اپنا منفرد مقام رکھتی ہے۔ ایسے میں25جولائی 2018ء کے انتخابات کی آمد آمد ہے ،سیّد مصطفی کمال اور ان کے جانثاران کا یہ مانناہے کہ اس بار پاک سرزمین پارٹی کے امیدوار ملک بھر سے سب کو حیران کردیں گے اور یہ کہ سندھ میں اس بار وزیراعلیٰ بھی پاک سرزمین پارٹی سے ہی منتخب ہوگا۔،ایسے میںسیّد مصطفی کمال کا فلسفہ سیاست اور منشورمقبول عام ہورہاہے کیونکہ پاک سرزمین پارٹی جس اندا ز میں ٹیکس کے نظام میں دوررس اصلاحات متعارف کرنے کی بات کررہی ہے ،اور جس انداز میں ریاستی اداروں میں پھیلی بدعنوانیوں کو ختم کرنے کی بات کررہی ہے اس کے ساتھ ان لوگوں کااحتساب بھی چاہتی ہے جنہوں نے ہر دور میں قومی وسائل میں نقب لگائی اورقومی معیشت کوشدیدنقصان پہنچایاہے۔آج پی ایس پی کے عمائدین جس انداز میں غیر ملکی قرضوں کے خاتمے کی بات کررہے ہیں اسی انداز میں ان قرضوں کو قوم کے سروں سے اتارنے کے لیے عوام کو یقین دہانی بھی کروارہے ہیں۔پینے کے صاف پانی کی فراہمی سے لے کر صحت کے مسائل سے نجات تک اور بیروزگاری سے لے کر تعلیم کے میدان میں انقلاب برپا کرنے تک کونسا ایسی ضروری عمل ہے جس پر ان کے ماہرین کام نہیں کررہے ہیں۔خواتین پاکستان کی نصف سے آبادی ہیں،انہیں ہردور میں نظر انداز کیا جاتارہاہے ۔خواتین پر مظالم رکوانے کا سلسلہ کسی بھی دور حکومت میں قانون سازی سے آگے نہیںبڑھا ، میں سمجھتا ہوں کہ اس پر عملدرآمد بھی ایسی ہی قیادت کے ہاتھوں ممکن ہوگا جو صرف اور صرف غریبوں کی بات کرتی ہے، امن کی بات کرتی ہے، اس ملک سے نفرت ،منافرت اورتعصبات ختم کرنے کی بات کرتی ہے ۔
میری اس تحریر کا بنیادی مقصد سیّد مصطفی کمال ،انیس احمدقائم خانی اوررضاہارون سمیت ان کی جماعت کی تعریف وتوصیف کرنا نہیں ہے بلکہ عوام کو یہ بتانامقصودہے اس ملک میں ایک ایسی جماعت بھی ہے جس کے منشورمیں امیر اور غریب دونوں کیلئے ہی ترقی کے یکساں مواقع ہیں۔ جو پڑھے لکھے اور نوجوان طبقات کو بیروزگاری سے نکال کرآبرومندانہ روزگار دینا چاہتے ہیں ۔پی ایس پی کی قیادت صرف معاشرے کے عام آدمی کی زندگی میں آسانی، آسودگی اور خوشحالی کی خواہاں نہیں بلکہ اس کیلئے شب وروزکوشاں بھی ہے ،سیّد مصطفی کمال ،انیس احمدقائم خانی اوررضاہارون سمیت ان کے ٹیم ممبرزاس ملک سے اندھیرے ختم کرکے صرف شہرقائدؒ کو ہی نہیں بلکہ پاکستان کے طول وارض کو روشنیوںسے منورکر نا چاہتے ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ اس ملک میں توانائی کا شدید بحران موجود ہے جو اس وقت ملکی کاروبار اور معیشت کیلئے ناسور بناہواہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہوسکتاہے کہ انرجی سمیت متعدد قومی بحرانوں سیّد مصطفی کمال کی صورت میں ایماندار،باضمیر،باکردار اوربا اصول اورباکمال قیادت ہی ختم کرسکتی ہے ،اب گیندووٹرکی کورٹ میں ہے وہ سنجیدہ، ،مخلص اورہمدردنمائندوں کاانتخاب کریں ۔

نوٹ:نیوزنامہ پر شائع ہونے والی تحریریںلکھاری کی ذاتی رائے ہے،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.