Urdu News and Media Website

پاکستانی کی اقتصادی شہ رگ میں اندھیرے اور حکومت

تحریر: صابر مغل۔۔۔پاکستان کا پہلا دارالحکومت ،دنیا کا تیسرابڑا شہر اور روشنیوں کاخوبصورت ترین شہرنا اہل قیادت کے باعث عوام کے اذیت ناک اور مسائل کی آماجگاہ بن چکا ہے،الراقم 1990کے قریب پہلی مرتبہ کراچی پہنچا 5دن کے ٹور پر کراچی کو بڑے قریب سے دیکھا تب لگتا تھا ہم کسی اور ہی ملک میں سیر کرنے آئے ہیں اتنی خوبصورتی ،صفائی ،امن و امان کی بہترین حالت ،سمندر کے حسین نظارے آج بھی یادہیں حالانکہ یہ وہ وقت تھا جب کراچی میں پہلی بار سیاسی ، سماجی اور لسانیت کے باعث ہنگامہ آرائی اور کسی حد تک دہشت گردی کا شکار ہواامن و امان کی حالت بگڑنا شروع ہوئی،پاکستان کا یہ تجارتی حب بد تر حالات کے باوجود پاکستان بھر سے روزگار کی خاطر آنے والوں کو اپنے دامن میں سمیٹتا رہا ،کراچی ایک کثیر النسلی اور کثیر الثقافتی شہر ہے جس میںمہاجر،سندھ،پنجابی،بلوچی پٹھان،گجراتی،کشمیری، افغان مہاجرین،روہنگیا مسلمان،پارسی ،عیسائی وغیرہ رہتے ہیں،سمندر کنارے موجود یہ خوبصورت شہر بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی پیدائش کے وقت بھی ترقی یافتہ شکل اختیار کر چکا تھایہ بہت بڑا شہر نہ صرف صنعتی تجارتی ،تعلیمی ،مواصلاتی اور اقتصادی مرکز بھی ہے،1960کی دہائی میں یہ شہر ترقی پذیر دنیا کے لئے رول ماڈل سمجھا جاتا تھا ،جنوبی کوریا نے اپنے شہروں کو ترقی دینے کے لئے اسی شہر کو نقل کیا کراچی کے آئی آئی چندریگر روڈ کو اب بھی پاکستان کا وال اسٹریٹ کہا جاتا ہے،کہتے ہیں اس شہر کو نظر لگ گئی حالانکہ ایسا نہیں تھا اس شہر کی وسیع تر آبادی کے پیش نظر مختلف قوتوں نے یہاں لسانیت،صوبائیت جیسی لعنت کو خوب ابھارا ،کئی دہائی قبل یہاں مہاجروں کو قوت بخشنے کے بعد پختون پنجابی اتحاد سامنے لایا گیا سابق صدر غلام اسحاق خان کے داماد عرفان اللہ مروت اس اتحاد کے کرتا دھرتا تھے،وقت کے ساتھ ساتھ یہ شہر تمام رکاوٹوں کے باوجود ترقی کی منازل طے کرتا گیا تو یہاں بھتہ خوری،ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی پھن پھیلا کر کھڑی ہو گئی، سندھ رینجرزکی تعیناتی کے علاوہ آپریشن ردالفساد نے کامیاب حکمت علمی کے تحت بڑی حد تک اس شہر کو ایک بار پھر امن کا گہوارا بنا دیا مگر شہریوں کے امن و امان کی مصیبتوں کے علاوہ 2006کی تاریخ ساز لوڈ شیڈنگ جیسے مصیبتیں ایک بار عوام پر عوام کے رہبروں نے مسلط کر دیں،2017کی مردم شماری کے مطابق 14.9ملین آبادی اور 3780مربع کلومیٹر رقبہ پر سجے شہر میں ہر طرف کچرے ،غلاظت اور گند کے ڈھیرجبکہ دوسری جانب شہریوں کو پانی و بجلی جیسے بنیادی ضروریات سے محروم کر دیا گیا،صاف پانی کا مسئلہ یوں تو پورے ملک میں ہے مگر کراچی جیسا شہر اس حوالے سے قحط زدہ صورتحال اختیار کر گیا کئی ٹائونز ایسی ہیں جہاں کئی ماہ سے پانی نہیں پہنچ رہا اس وقت پورا شہر ٹینکرز مافیا کے رحم و کرم پر ہے،قیام پاکستان کو ستر سال سے زائد عرصہ گذر چکا ہے مگر پالیسی سازآج تک کراچی کو پانی اور بجلی جیسی ضروریات کی یقینی فراہمی بارے کوئی ایک بھی منصوبہ پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا سکے، نا اہل قیادت کی وجہ سے یہ خوبصورت شہر ذلت کی بلندیوں کو چھوتا ہوا عوام کے لئے مسائلستان بن گیا،کیا عجب تماشہ ہے جسے ہم پاکستان کی معاشی و اقتصادی شہ رگ کہتے نہیں تھکتے وہاں عوام کو بجلی و پانی تک میسر نہیں ،عوام کہتی ہے بجلی آتی ہے تو پانی نہیں پانی ہے تو بجلی نہیں ،حکمران عیش و عشرت کی زندگی گذار رہے ہیں اور عوام ذلت و رسوائی میں جکڑے نظر آ رہے ہیں بجلی کیوں بند ہے ؟ کہا جاتا ہے کہ کے الیکٹرک اور سوئی سدرن گیس کے درمیان رقم کی عدم ادائیگی کا تنازعہ ہے کیا یہ کام بھی عوام کے کرنے کے ہیں کہ اداروں کے درمیان تنازعات حل کرائیں ؟یہاں وفاق اور صوبہ ایک دوسرے پر نشتر برسا رہے ہیں مگر نشانہ عوام ہیں،یہ نورا کشتی تب بھی نہ تھمی جب کراچی کے عوام سڑکوں پر نکل آئے،دھرنے دئیے ،سڑکوں پر احتجاج کرتے ہوئے ٹائر چلائے راستے بند کر دئیے ،ٹریفک معطل کر دی شہری اور کر بھی کیا سکتے ہیں ؟جب عوام کو محرومیوں کا سامنا ہو انہیں اعصاب شکن سنگین صورتحال میں دھکیل دیا جائے تو احتجاج نہ کریں تو اور کیا کریں،اس دھرتی پر حکمران اتنے بے حس ہو چکے ہیں کہ جب تک ہر چیز پر ٹیکس ادائیگی کے باوجود اپنے حقوق کے لئے سڑکوں کا رخ نہ کریں،روڈ بند نہ کریں،لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا نشانہ نہ بنیں ،روڈز کی بندش کے تحت مریض سڑکوں پرٹرپ ٹرپ کر موت کو گلے نہ لگائیں تب تک حکومتی مشینری حق دار کو حق دینے پر راضی نہیں ہوتی، جماعت اسلامی ،ایم کیو ایم ،پی ٹی آئی ،پاک سر زمین پارٹی نے احتجاج میں عوام کا ساتھ دیا ،دھمکی دی گئی کہ اگر بجلی و پانی فراہم نہ کیا تو وزیر اعلیٰ ہائوس کا گھیرائو کیا جائے گا جبکہ وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ اس لوڈ شیڈنگ پر تمام جماعتیں وزیر اعظم ہائوس کے سامنے دھرنا دیں کیونکہ بجلی کی وجہ سے سندھ پریشان ہے کراچی سے بدلہ لیا گیا وفاق کو پرواہ نہیں گیس کم دی جا رہی ہے ،ایل این جی کیوں لیں ان کے مطابق 270ایم جی ڈی ایف گیس کی بجائے صرف 90ایم جی ڈی ایف گیس کے الیکٹرک کو دی جا رہی ہے جس وجہ سے 500میگا واٹ کے پاور پلانٹس بند پڑے ہیں بجلی کی وجہ سے پانی بھی ناپید ہے ،وزیر اعلیٰ سندھ کے جواب میں وزیر بجلی اویس لغاری نے واضح کیا کہ جب تک کے الیکٹرک واجبات ادا نہیں کرتا بجلی نہیں ملے گی جبکہ وزیر اعظم نے کے الیکٹرک اور سوئی گیس کا معامل مفتاح اسماعیل کے حوالے کردیا کہ دیکھو کیا کرنا ہے عوام ذلیل ہو رہی ہے ان کا لمحہ بہ لمحہ قیامت خیز ہے مگر حکومتی (صوبائی و وفاقی )ایوانوں میں مسئلے کے حل پر بحث و مباحثہ جاری رہا،ملک میں گیس کی پیداوار میں سندھ کا حصہ70فیصد ہے اور قدرتی وسائل پر سب سے پہلے اس علاقے کا حق ہوتا ہے جہاں سے وہ پیدا ہوتے ہیں،فرض کریں ایسا نہ بھی ہو تو کراچی جہاں ملک کی سب سے بڑی آبادی رہ رہی ہے ریوینیو کا سب سے زیادہ حصہ وہیں سے آ رہا ہے وہاں اندھیروں اور کربلا کا راج ہے،کے الیکٹرک اگر پیسے ادا نہیں کرتی تو یہ ذمہ داری کس کی ہے؟سوئی سدرن گیس فراہم نہیں کرتی تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟شدید احتجاج کے بعد وزیر اعظم نے بمشکل وقت نکال کر کراچی اڑان بھری اور کے الیکٹرک اور سوئی سدرن کے درمیان معاملات طے کرا دئیے ہیں یہی الراقم کے سوال ہیں کہ یہ ذمہ داری عائد کن پر ہوتی ہے کیا ہی اچھا ہوتا ہے شاہد خاقان عباسی یہ کام بر وقت کر لیتے ،پالیسی سازوں اگر تم میں ذرہ بھی شرم ہے تو ڈوب مرو تم نے تو پاکستان کے حب کو بھی اندھیروں میں دھکیلنے سے محفوظ نہ بنا سکے،لعنت ہی ایسی گورنس پر وہ بھی کئی دہائیوں پر مشتمل ۔پنجاب میں لوڈ شیڈنگ کے آغاز کا تو علم ہے مگر پتا چلا ہے کہ اندرون سندھ میں نواب شاہ،میر پور خاص ،نو شہرو فیروز ،سکھرکے علاقوں میں 16سے 20گھنٹے تک بجلی کی بندش ہوتی ہے،خیبر پختونخواہ میں بھی یہی سلسلہ شروع ہو چکا ہے ،اب میاں شہباز شریف کراچی جا کر کہتے ہیں کہ اگر عوام نے اعتماد کیا تو میں کراچی کو لاہور اور نیو یارک بنا دوں گا(لاہور کے بھی 60فیصد سے زائد عوام گندہ پانی پی رہے ہیں ) کمال ہے پہلے حکومت کن کی ہے؟ویسے کمال ہے ایم کیو ایم کی کمال سیاست کی بھی،ایک طرف احتجاج اور ایک ایک طرف گل پاشی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.