Urdu News and Media Website

سنی ان سنی

تحریر:آئمہ محمود۔۔۔
ـــ؛ اگر آپ کہیں گے تو معاف بھی کر دیں گے، اتنا ظرف ہے ہمارا ـ ؛ جن کا خیال ہے کہ ہم نے کسی فلم یا ٹی وی ڈرامے کا ڈ ائیلوگ لکھا ہے تو وہ یقینا کسی ایسی جگہ رہتے ہیں جہاں 12 سے 16 گھنٹے تک لو ڈشیڈنگ ہوتی ہے اور ٹی وی نیوز تک انکی رسائی نہیں ، نہ ہی وہ اخبار پڑھنے کی زحمت کرتے ہیں اور وہ یقینا یہ کالم بھی نہیں پڑھیں گے لہذا ایسے لوگوں سے ہم مخاطب نہیں ۔ ہم تو سمجھدار اور اپ ٹو ڈیٹ معلومات رکھنے والوں سے مخاطب ہیں جن کو یہ اندازہ ہو گا کہ یہ مہربان الفاظ کس کے ہیں ؟ جی ہاں ہم سب کے انتہائی قابل احترام چیف جسٹس صاحب کے ! معاملہ تھا توہین عدالت کا، جس کی شنوائی کے دوران چیف جسٹس صاحب نے توہین کے مرتکب صاحب سے یہ فرمایا۔
بے شک یہ بہت kind words ہیں لیکن مسلہ یہ ہے کہ ایک عام شہری ہونے کی حیثیت سے ہمارا خیال تو یہ تھا کہ انصاف اور خصو صا عدالتی انصاف کا دارومدار ثبوت ، شواہد اورپیروی پر ہوتا ہے نہ کہ جج صاحبان کے ذاتی ظرف پر! یوں لگتا ہے کہ عدالتی معاملات میں ہماری سوجھ بوجھ کچھ بوسیدہ ہوگئی ہے اکیسویں صدی کے اس تیز رفتار دور میں انصاف کے تقاضے کچھ ذاتی قسم کے ہوگئے ہیں ۔ہماری کتابی سوچ تو ہمیں یہ بتاتی تھی کہ جن کے کندھوں پر فیصلہ کرنے اور لوگوں کو انصاف دینے جیسی عظیم ترین ذمہ داری ہو وہ بولتے کم اور سنتے زیادہ ہیںمحفلوں، بھیڑبھاڑ، پبلسٹی اور خاص طور پر صاحب اقتدار و اختیارات سے دور رہتے ہیںتاکہ انصاف کے تقاضے پورئے کرتے ہوئے ذاتی سوچ، پسند وناپسند داہ میں حائل نہ ہوں لیکن لگتا ہے یہ پرانے زمانے کے اصول ہیں جب منصف کمزور شخصیت کے مالک ہوتے تھے ورنہ آجکل کے جج صاحبان تو ماشااللہ فولادی اعصاب اور ارادے کے مالک ہیں جو اجتماعات میں خوب دل کی باتیں کرتے ہیں ، ٹی وی کیمروں کی فلش لائٹس سے انکی آنکھیں چکا چوند نہیں ہوتیں بلکہ انھیں دور نزدیک کی چیزیں بنا بائی فوکل کے صاف نظر آنے لگتی ہیںاور صاحب اقتدار سے دوری کیوں ہو بھلا ؟ وہ تو فریادی بن کر در پر حاضری دیتے ہیں فریادی کے اختیارات اور طاقت سے مرغوب کیوں ہونا!
سنا ہے انسان عمر بھر سیکھتا ہے چیف جسٹس صاحب نے ہمیں احساس دلایا کہ ہم تو سیکھنے کی سیڑھی کے پہلے پائیدان پر ہی ہیں اگلا مر حلہ طے کرنے کے لیے تو نہ جانے کتنی عمریں چاہئیں۔ کیا کہیں جناب ملک کے بڑے لوگوں نے تو تہیہ کر لیا ہے کہ ہماری سمجھ داری کو نہ سمجھی میں بدل دیں۔اب قابل احترام آرمی چیف صاحب کو دیکھ لیں صحافیوں سے آف دی ریکارڈ بات چیت کرتے ہیں جو کہ ساری کی ساری آن ریکارڈ ہو جاتی ہیں اور ایک ٹرم سامنے آتی ہے ـ؛؛باجوہ ڈاکٹرائین ؛؛ پڑھا تو حیرت بلکہ کنفیوزن ہوئی کہ یہ کیا ہے؟ آرمی چیف صاحب نے سا ئنس کی کوئی نئی تھیوری دریافت کی ہے کیا؟ وہ تو بھلا ہو میجر آصف غفور صاحب کا انھوں نے یہ کہہ کر ہماری پریشانی دور کی کہ باجوہ ڈاکٹرائین کو صرف اور صرف سیکورٹی کے تناظر میں دیکھا جائے کیونکہ اس کا بنیادی مقصد پاکستان کو امن کی طرف لے جانا ہے ۔
چلو یہ تو واضح ہو کہ یہ سائنس کا نہیں معاشرت کا معاملہ ہے بڑے بڑے لوگوں کی بڑی باتیں ۔ امن کا راستہ بلاشبہ اندرونی وبیر ونی اور اپنی پرائی جنگوں سے ہو کر نکلتا ہے۔ اہل منصب کا ذکر ہو رہا ہے تو ایک اور اونچے مرتبے پر فائز انسان کی بات کرتے ہیں جن کا تعلق ازبکستان سے ہے اور قابل اطمینان پہلو یہ ہے کہ انکی بات ہمیں سمجھ بھی آگئی ہے ازبکستان کے صدر جناب شوکت مزیبوئف نے حکم جاری کیا ہے کہ ہر شہری اپنے گھر کے صحن ، باغیچے اور اضافی زمین کو سبزیاں اور پھل پودے اگانے کے لیے استعمال کریں گھروں میں مرغیاں پالیں ورنہ انھیں تین گنا ٹیکس دینا پڑے گا اپنی اضافی زمین پر۔ انھوں نے ا س بات پر مایوسی کا اظہار کیا کہ لوگ انڈے، آلو۔پیاز، ٹماٹر وغیرہ خریدنے کے لیے بازار کا رخ کرتے ہیں ۔ صدر صاحب نے اپنے گھر میں مرغیاں پال رکھی ہیں اور فر صت میں وہ انکی دیکھ ریکھ کرتے ہیں ازبکستان کے صدر جو ٹھہرے ! پاکستانی صدر صاحب جو 865 ملین سالانہ بجٹ کے ساتھ انتہائی وسیع و عریض محل میں رہتے ہیں اگر وہ خود اور اپنے سٹاف کی مدد سے سبزیاں اگائیںتو اسلام آباد کی بڑی آبادی کی سبزیوں کی ضرورت کو باآسانی پورا کیا جا سکتا ہے لیکن صدر صاحب ایسا کیوں کریں؟ انھیں ٹرپل ٹیکس دینے کی دھمکی جو نہیں دی گئی ان کو کون دھمکی دے سکتا ہے وہ بذات خود صدر ہیں۔ ازبکستان کے صدر صاحب کی بات سن کر ہماری پرانی سوچ پھر سامنے آکر کھڑی ہو گئی اور کہنے لگی ہمیں بڑے بڑے محاذوں کی فکر سے آزاد ہو جانا چاہیے قوم کو انصاف کی فراہمی اور ملکی امن وامان کی ذمہ داری قابل لوگوں کے ہاتھ میں ہے وہ جانتے ہیں کہ انھیں اپنا کام کیسے کرنا ہے ہم کیو ں نا اپنے گھروں اور گھروں سے باہر سڑکوں کے کنارے درخت لگائیں دیسی اور اپنی زمین کے درخت ٹالی، دھریک،پیپل ،کیکر ،شہتوت وغیرہ یہ وہ درخت ہیں جو اسی آب وہوا کے ہیں اور بہت کم دیکھ ریکھ کے با آسانی پروان چڑھ جاتے ہیں۔ انکھوں کو طراوت ، سائے کی فراہمی اور ماحول کی کثافت کو کم کرنے کے لیے درختوں سے بہتر اور کیاہو سکتا ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ فنسی یا دیگر علاقوں و ملکوں کے پودوں اور درختوں کی اہمیت کم ہے لیکن کم خرچ بالانشین ہماری تر جیح ہو نی چاہیے۔
اسی طرح اپنے گھروں ، محلوں ، آبادیوں، دیہاتوںاور قصبوں میں سبزیاں کی کاشت پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے اسمیں شک نہیں کہ سب گھروں میں بڑے صحن یا باغیچے نہیں لیکن چھوٹے گھروں میں بھی گملوں وغیرہ میں اپنے وسا ئل کے مطابق با آسانی ایسا کیا جا سکتا ہے ۔ لاہورمیں بڑی بڑی سوسا ئٹیاں ہیں جن کے پاس نہ صرف جگہ ہے بلکہ وسائل ، افراد اور انتظامیہ بھی ہیں انھیں پہل قدمی کرنے کی ضرورت ہے وہ آسانی سے اپنے مکینوں کے لیے خود سبزیاں اگا سکتے ہیں اس حوالے سے kitchen gardening کی کواپرئٹو بنا کر کام شروع کیا جا سکتا ہے۔ سکولوں ، کالجوں کو اس ذمہ داری کا احساس کرنے کی ضرورت ہے سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کو اپنے سٹوڈنٹس کو سبزیا ں ، پھولوں، پودوں کی کاشت میںinvolve کرنے کی ضرورت ہے طلبہ، طالبات کا اپنی دھرتی اور قدرت کے ساتھ گہرا تعلق جوڑنے کا یہ بہت ہی سہل طریقہ ہے۔
ستارہ ہوٹلوں اور ریستوارنوں کو اس طرف پیش قدمی کرتے ہوئے اپنے کیچن کیلیے درکار سبزیوں اورہربز(herbs) خود اگانا چاہیے جس سے ان کے پروفائل میں مذید ستارے لگنے کی گارنٹی ہے کیونکہ ترقی یافتہ ملکوں میں یہ کیا جا رہا ہے۔ عظیم الشان مقاصد طے کرنا ،پوشیدہ گتھیوں کو سلجھانا، بلند بانگ دعوے کرنا بجا ،لیکن اپنے مسائل کے حل کے لیے کیوں نہ ان بنیادی قدموں کو پہلے اٹھایا جائے جن کا اٹھانا ہم سب کے لیے ممکن ہے اور جو بڑی مسافتوں کو طے کرنے کے لیے لازم وملزوم ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.