Urdu News and Media Website

نواز شریف کی نابالغ سیاست..

تحریر: محمد اعظم عظیم اعظم ۔۔
بالآخر پچھتاتے ہوئے ہی سہی مگر گزشتہ دِنوں سابق وزیراعظم نوازشریف کی زبان پہ سچ آہی گیاہے اُنہوں نے ایک بار پھر موقعے کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے اپنے مخصوص معصومانہ مگرمفادپرستانہ انداز سے تاریخ کے اوراق بہت دیر دے پلٹتے ہوئے یہ کہہ ہی دیاہے کہ ’’ مجھے پیپلزپارٹی کی حکومت اور حُسین حقا نی کے خلاف میمو گیٹ کیس کا حصہ نہیں بننا چا ہئے تھا‘‘ ہا ئے رے..!! کا ش یہ بات نواز شریف کو تب سمجھ آجاتی کہ جب وہ یہ جو کچھ کررہے تھے اور وہ یہ سمجھ جا تے کہ اِن کا یہی عمل اِنہیں ایک نہ ایک دن تنہا کردے گا اِن کاکبھی بھی پی پی پی ساتھ نہیں دے گی آج ایسا ہوگیاہے کہ نوازشریف تنہا ہیں کو ئی بھی اِنہیں سہارا دینے والا نہیں ہے۔
تب ہی تو اہلِ دانش کہتے ہیں کہ انسا ن کو اپنی ترقی اور اپنے آسمان پر پہنچے اُوجِ کمال سے ڈرتے رہنا چاہئے کیو ں کہ اِس کی کوکھ میں نظر نہ آنے والا زوال بھی کہیں پل رہاہوتاہے اور ہمک رہا ہوتاہے یہ اپنے جنم کے ساتھ تب نمودارہوتا ہے جب بلندی پر پہنچنے کی حد کی انتہا ہوجانے کے بعد زمین کی جانب تیزی سے واپسی کا سفر شروع ہوکر ختم ہوتا ہے اُس کے بعد سِوائے نوازشریف کی طرح پچھتاوے اور کفِ افسوس کے کچھ ہاتھ نہیں آتا ہے پھر منہ سے پچھتاتے ہوئے یہی الفاظ نکلتے ہیں’’ مجھے میموکیس کا حصہ نہیں بنناچاہئے تھا‘‘اور ’’ مجھے کیو ںنکالا‘‘؟۔
سیاست کا کو ئی دین دھرم نہیں ہوتا ہے اِس کا میدان ہرسر حد اور پابندی سے آزاد ہے مگر اِس کا اپنا ایک اصول ضرور ہے کہ یہ خدمتِ انسانیت کے جذبے سے لبریز ہے مگر پھر بھی ہر زما نے ہر تہذیب اور ہر معاشرے کے کچھ انسان سیاست کو اپنے ذاتی اورکاروباری و سیاسی مفادات کے احاطے میں لے کر چلتے ہیں پھر سیاست اِن کی ذاتی و کاروباری مقاصد اور مفادات تک قید ہوکر رہ جا تی ہے بدقسمتی سے نوازشریف نے سیاست کو اپنے ذاتی اور کاروباری مقاصد اور مفادات کے لئے استعمال کرنے کا کلیہ بنا کر سیاست کے کینوس کو اِنسا نیت کی خدمت کے وسیع تر باب میں ذاتی اور کاروباری مفادات کو ٹھونس ڈالاہے ۔آج تب ہی نوازشریف کی نابالغ سیاست کو دیکھ کراندازہ ہوتا ہے کہ نوازشریف سیاست کے میدان میں ابھی تک آدھے انگوٹھے چھاپ اور پورے آف شور کمپنیوں کے مالک بن کر سالم اقا مے والے ہو کر پوراقومی خزانہ ہڑپ کرنے والے ہوگئے ہیں۔آج ہاتھ سے جاتی کُرسی کے غم میں نوازشریف پھرجوکچھ کررہے ہیں یہ سب کُرسی پر دوبارہ بیٹھنے کے لئے کیا جارہاہے اِنہیں انداز ہوگیاہے کہ اَب اِن کے لئے اکیلے کُرسی کا حصول جہاں مشکل ہے تو وہیںناممکن بھی ہوگیاہے اِس سے انکار نہیں کہ نوازشریف اپنی مفادپرستانہ اور خود غرض طبیعت کے باعث ہمیشہ اکیلے ہی کُرسی کے مزے لوٹتے رہے اور ہمیشہ اِن کے نیچے سے کُرسی کھسکنے اور سرکنے کی بڑی وجہ اِن کی مفادپرستی اور موقعہ پرستی ہی بنی ہے آج یہ کس منہ سے یہ اپنی غلطی تسلیم کررہے ہیں اور اَب پھر پی پی پی سے ہاتھ ملانے کو بیقرار ہورہے ہیں ۔
بہر حال،لگتاہے کہ نوازشریف کے اِس معصومانہ بیان کے بعد برف کچھ پگھل سی گئی ہے تب ہی پیپلز پارٹی جو شائد برسوں سے انتظار میں تھی کہ کبھی جھوٹے منہ ہی نواز شریف اِس بابت اپنی غلطی تسلیم کریں تو یہ اِنہیں تُرنت معاف کردے گی اور آج ایسا محسوس ہورہاہے کہ جیسے پاکستان پیپلز پارٹی نواز شریف کو تنہادیکھ کر اِن کی فوری مدد کرنے کو بیتاب ہے اِسی لئے اِس کا یہ بیان بہت تیزی سے وائرل ہوگیاہے کہ ’’ بس میمواسکینڈل پر نوازشریف معافی مانگیں تو پھر اِن کے لئے پی پی پی کچھ کرے گی‘‘ ۔تاہم اَب دیکھنا یہ ہے کہ نوازشریف اپنی مفادپرستانہ طبیعت کے ہاتھوں مجبور ہو کر کیا پاکستان پیپلز پارٹی کی اِس خواہش پر فوری عملی جامہ پہناتے ہیں یا اپنی بات کو یہیں تک رکھتے ہیں فی الحال، پی پی پی اِس انتظار میںہے کہ نوازشریف میموکیس پر باقاعدہ طور پر اِس سے ہاتھ جوڑ کر او ر دامن پھیلا کر معافی مانگیں اور مدد طلب کریںتو یہ دس قدم آگے بڑھ کر اِن کی قدم بوسی کر ے اورپھر یہ دونوں ایک ہوکرایک ایک گیارہ بن جا ئیں اور ایک دوسرے کی مدد کریں کیونکہ پاکستان پیپلز پارٹی یہ بات اچھی طرح سے سمجھتی ہے کہ گردابوںمیںپھنسنے کی اگلی باری اِس کی ہے۔بیشک،آج جہاں مُلک میںمتوقعہ عام انتخابات2018ء کے لئے ہماری تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں اپنے لائحہ عمل ترتیب دے کرالیکشن کی تیاریوں میںمصروف ہیں تووہیں کچھ اہلِ دانش اور تبصرہ نگاربھی اپنے تئیں انتخابات کے بروقت انعقاد پر سوالیہ نشان لگاکر اِسے مبہم بنا نے کے لئے بھی اپنی کوششوں میںلگے پڑے ہیں ایسا نہیں ہے کہ یہ سب اندھیرے میں تیرچلارہے ہیں اِن کے پاس بھی ایسے حقائق اور شواہداور مشاہدات بھی ضرورہوں گے جن کی بنیاد پر یہ اگلے انتخابات کے بروقت انعقاد پر سوالیہ نشان لگارہے ہیں اَب اِن کے سوالیہ نشان کو مٹانا اور ہٹانا تو اُن کا کام ہے جن کی الیکشن کراناذمہ داری ہے۔
بہرکیف ،آج اِس میںکوئی دورا ئے نہیںہے کہ مُلک میں ایک اور این آر اُواور میثاقِ جمہوریت کی راہ ہموار کی جا نے کی شروعات ہوچکی ہے جہاں ایک طرف نوازشریف نے اپنے معصومانہ مگر مفادپرستانہ لب و لہجے کا سہارا لیتے ہوئے میمو کیس کے حوالے سے پی پی پی سے ماضی کی غلطی پر شرمندگی کا احساس عیاں کردیاہے تو وہیںنوازشریف کے نامزدکردہ وزیراعظم پاکستان شاہدخاقان عباسی نے اپنی خصوصی درخواست پر بغیر پروٹوکول سُپرکورٹ میں چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار سے بھی ملاقات کی ہے جس کے بعد موجودہ مُلکی سیاست میں ایک نئی بحث کا آغازہوگیاہے اِس طرح دونوں کی اچانک دوگھٹنے طویل ہو نے والی ملاقات نے پیپلز پارٹی سمیت مُلک کی دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں میںشک پیداکردیاہے حالانکہ وزیراعظم اور چیف جسٹس کی ملاقات پر سیاسی جماعتوں کی جانب سے شک وشبہات کا پیداہونا بڑا ہی معنی خیز ہے ایسا لگتا ہے کہ جیسے ہماری سیاسی جماعتوں کے پاس سِوا ئے شک و شبہات پیدا کرنے کے کچھ اور کام ہی نہیں ہے جب کہ سیاسی جماعتوں کو یہ بات بھی سمجھنی چا ہئے کہ آج مُلک میں تمام حکومتی ادارے اپنے دائرے میں متحرک ہیں کوئی کسی کے دباؤ میںیا کسی سے ڈکٹیشن لے کر کام نہیں کررہاہے تمام ادارے اپنے کام اپنے متعین کردہ اختیارات میں ہی رہ کررہے ہیں اور جیسا کہ پہلے ہی پاک فوج واضح کرچکی ہے کہ فوج کا این آر او سے کوئی لینا دینا نہیںہے اور جنرل انتخابات اپنے وقت پر ہوں گے الیکشن کرانا فوج کا نہیں الیکشن کمشنرکام ہے اَب اِس کے بعد کسی کے پاس شک و شبہات پیدا کرنے کو کچھ نہیں رہ جاتا ہے ۔
ہاں البتہ، اِس سے انکارنہیں کہ نوازشریف نے ہمیشہ اپنی نا بالغ سیاست کا خود ہی نقصان اُٹھا یا ہے اور اگر یہ ابھی نہ کچھ سمجھے تو یہ ایک صدی تک بھی سیاست کرتے رہیں تو اِنہیں حسب روایت اورعادت ہمیشہ اپنی بچگانہ سیاست سے سِوا ئے نقصان اُٹھا نے کے کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا اَب کچھ بھی ہے مگر ساتھ ہی نوازشریف کو یہ ضرور تسلیم کرنا پڑے گا کہ اگلی باری نہ نواز نہ زرداری نہ عمران بلکہ کسی اور کی ہے ۔

نوٹ:نیوزنامہ پرشائع ہونے والی تحریریں لکھاری کی ذاتی رائے ہے،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.