Urdu News and Media Website

مولوی، عالم، پیر

تحریر:غلام قادر۔۔
سیٹی بج چکی تھی صف بند یا ںہو رہی تھی پا کستا ن کو سامنا تھا تا ر یخ کے سب سے بڑے معر کہ کا اور داو پر تھی نظر یا تی سر حد یں وہ نظر یہ پا کستا ن جس کی بنیا د دو قو می نظر یہ پر رکھی گئی تھی ۔جس کو حا صل کر نے کیلئے کبھی ؛مسلم ہے تو لیگ میںآ کا نعر ہ بلند ہو ا اور کہیںمنز ل کا تعین کر تی ۔ پا کستا ن کا مطلب کیا ۔لا الہ ا لااللہ ۔ کی صدائوں نے فضائوں کو مہکایا۔ اسوطن عزیز کو ستر سالوں میں جغرافیائی سرحدوں پر کئی بار چیلنج پیش آئے ۔مگر ہم سرخرو ہوئے ۔کیونکہ ہم جاگ رہے تھے ۔ہم متحد تھے محافظ قربانیاں پیش کرتے رہے اور سپہ سالار بر وقت مستقبل کا احاطہ کرتی رہنمائی مگر آج سب کچھ الٹ تھا۔ امریکہ ہو یا بھارت، اسرائیل ہو یا یورپ، نظریاتی سرحدوں پر حملہ کرتے۔ سیاستدان ہو یا رائے بناتا ۔فضاء ہموار کرتا میڈیا سب ایک پیج پر امریکہ ، یورپ ہمارے ملک میں ہمارے نبی ﷺ کی عزت کے لیے بنائے گئے قوانین کے خلاف برملا بولے۔ان کو خوش کرنے کے لیے ہمارے حکمران عاشق رسول ﷺ کو تو شہید کردیں ۔مگر گستاخوں کو مہمان بنا کر رکھا جائے ۔میڈیا غازی کو تو قاتل کہے اور گستاخ کو ہیرو بنا کر پیش کرے ۔آپ ﷺ کے خاکے بنانے والے کو حکمران باہر بھگا دیں ۔میڈیا سوشل ورکر کہے ۔اور تمام سیاستدان مل کر ختم نبوت ﷺ کا قانون بدل دیں ۔میڈیا عوام کو گمراہ کرے جب کوئی ملزموں کی سزا کا مطالبہ لے کر سڑکوں پر آئے ۔تو میڈیا کو ساری دنیا کی برائیاں اس میں نظر آئیں۔ ہر گھنٹے بعد بلیٹن ہو یا کئی کئی گھنٹے کے پروگرام مگر ختم نبوت کے پروانوں پر چلنے والی گولیاں کسی کو نظر نہ آئیں۔ہاں سڑک بند کرنا مسئلہ تھا مگر کئی لوگوں کو شہید کرنا ان کے لیے کوئی بڑی بات نہیں ۔ناموس رسالت ﷺ پر حملوں سے شروع ہونے والا سلسلہ ختم نبوت کے قانون تک جاپہنچا ۔نہ حکمران اور سیاستدانوں کو شرم آئی اور نہ وہ عالمی اسٹیبلشمنٹ کو خوش کرنے کے مشن سے پیچھے ہٹیں اور نہ ہی میڈیا کے دلیری میں کوئی کمی آئی ۔مگر دوسری طرف جنہوں نے نظریاتی سرحدوں کا دفاع کرنا تھا ۔دین کی ترجمانی کرنی تھی ۔وہ دیکھ نہیں رہے یا فیصلہ نہیں کر پارہے ۔معاملہ کتنا حساس ہے اور وقت کا تقاضا کیا ہے جن کا کام دوسروں کو آگاہی دینا شعور پھیلانا۔ سورج کی پہلی کرن اور بارش کا پہلا قطرہ بننا تھا وہ آج خود ابہام کا شکار تھے یا پھر اپنی دھن میں مگن۔ ترجیحات غلط تھی یا راستے کا انتخاب۔وہ سمجھ نہیں پا رہے تھے یا سمجھنا نہیں چاہتے تھے۔ آج پاکستان میں ہر مولوی عالم سجادہ نشین کو فکر تھی، بہت زیادہ فکر اس قوم کی اس امت کی۔کسی کو فخر تھا ہزاروں چاہنے والوں کا اور کسی کو ہزاروں مریدین کا ۔ایک طرف ان کی محبت بے لوث ۔جس میں وہ اپنا مال اپنا وقت اور اپنا سب کچھ نچھاور کر رہے تھے ۔اور دوسری طرف کہ بھی کیا کہنے تھے ۔کبھی نماز صحیح کروائی جا رہی تھی اور کہیں روزے کی اہمیت کو اجاگر کیا جا رہا تھا کسی نے حج کی ترغیب دی ۔اور کوئی پاکیزہ زندگی کا درس دے رہا تھا ۔نماز ، روزہ ، زکوۃ سب اچھے ۔مگر ایمان پہلے یا اعمال ۔دشمن آج 20کروڑ کے ایمان پر ڈاکہ زن تھا اور ہمیں صرف فکر تھی اعمال کی ۔یہ بالکل اسی طرح تھا جیسے کوئی پودے کو پانی دے تن آور درخت بنائے ۔اس کی وقت پر کانٹ چھانٹ کرے۔ اور جب کیڑے اس کی جڑوں میں لگ جائیں ۔تب بھی وہ اسے پانی دینے اور اس کی کانٹ چھانٹ پر اکتفا کر ے ۔اس میں قصور کس کا تھا کیڑوں کا یہ مالی کا ۔مالی نے تو وہی کیا جو وہ ہمیشہ سے کرتا تھا جیسے اس نے ننھے پودے کو تن آور درخت بنایا وہ اس سے محبت بھی کرتا تھا اور اس کی چھائوں میں بیٹھتا بھی ۔پھر وہ اس کو کیسے نقصان پہنچاتا ۔شاید مالی وقت کا تقاضا نہ سمجھ پایا ۔یا وقت پر سد باب نہ کیا ۔یا پھر اس شخص کی طرح جسے گھر سے گھڑا بھرنے بیجھا جائے وہ سفر کرے کنویں پر جائے گلاس بھر کے گھڑے میں ڈالے با بار ڈالے گھڑا بھرے ، گھر جائے مگر گھر جانے پر گھڑا پھر خالی ۔پھر کنویں پر آئے ۔پھر پانی ڈالے پھر گھر پہنچے تو گھڑا خالی کا خالی ۔وہ تو روز کی طرح کام کر رہا تھا گھڑا بھی وہی تھا اور کنوا ں بھی ۔بھرنے کا طریقہ بھی نہ بدلا اور نہ گھر کا فاصلہ ۔شاید آج پیندے میں ہوا سُراخ اسے نظر نہیں آرہا تھا یا وہ دیکھنا نہیں چاہ رہا تھا ۔اب اصل بات کی طرف واپس آتے ہیں ۔اس ملک میں ہونے والے پہ در پہ ہونے والے واقعات کا جائزہ لیں ۔ایک طرف اس کے لیے رائے ہموارکرنے والے لیبرل میڈیا کا کردار اور دوسری طرف دین کی نمائندگی کرنے والوں کی منطق ، سوچ اور اظہار بیزارگی یا نیم دل کو ششیں۔ اگر اب بھی کوئی شخص ان سب واقعات کے ذمہ دار پارٹیوں یا سیاستدانوں کو اپنا نمائندہ چنتا ہے تواس کا قصور وار کون ہے ۔جن پر اعتبار کیا جنہوں نے اس کو مشکل وقت میں صاف لفظوں میں رہنمائی کرنی تھی ۔جن کی ہر بات کو لاکھوں حکم سمجھتے تھے ۔آج غازی صاحب کی شہادت سے شروع ہونے والا سلسلہ ختم نبوت ﷺ تک پہنچ گیا اب کس بات کا انتظار۔ اگر اب بھی صحیح رہنمائی نہ کی گئی اور یہی لوگ دوبارہ منتخب ہوگئے تو میں یہ کہنے پر حق بجانب ہوں کہ میرے ملک کے پیر علماء مولانا قاری حافظ آج بھی مصلحت پسندی کا شکار تھے اور دین دشمن دلیر ۔یا پھر نماز روزہ حج زکوۃ بچانے میں اتنا مصروف تھے کہ ایمان کی فکر ہی نہ رہی ۔یا پھر مسجد ، خانقاہ ، درگاہ ، آستانہ تو بچا لیا مگر ایمان ۔ذرا سوچئیے۔ کل بھروسہ کرنے والے معتقدین اگر سوال کریںکہ ہمیں ہر گناہ سے روکنے والے کا ش نبی پاک ﷺ کی عزت کے غداروں کا ساتھ دینے سے روک لیتے ۔ہمیں نیکی کا راستہ دکھانے والے ختم نبوت پر پہرہ دینے والوں کی پہچان بتا دیتے۔ جن کی راہنمائی میں میں نے داڑھی مبارک سجائی ۔امامہ مبارک اپنا یا ۔زندگی کے معاملات تبدیل کر لیے ۔اگر صاف بتا دیتے۔ تو ووٹ کی پرچی کی کیا حیثیت تھی ۔جب معاملہ آپ ﷺ کی عزت پر پہرا دینے والوں اور غداروں میں تھا میں لکیر کے اس طرف یا لکیر کے درمیان میں تماشا دیکھنے والوں میں کیوں رہتے۔ جھوٹ، فراڈ، چوری بڑا جرم تھا یا آپﷺ کی عزت کے غداروں کو ووٹ دینا، ان کا ساتھ دینا؟ ہر برائی سے روکنے والوں نے اتنے بڑے جرم سے کیوں نہ روکا؟ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ کی ترغیب بہت اچھی۔ جب بات ختم نبوتﷺ کے قانون میں ترمیم کرنے والوں اور ختم نبوتﷺ کے قانون کے لئے کھڑے ہوجانے والوں کے درمیان تھی تو صحیح اور غلط کی پہچان بتانا کس کا کام تھا؟ مجرم کون؟ میرے رہبر یا راہزن؟

نوٹ:نیوزنامہ پر شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کی ذاتی رائے ہے۔ادارے کا متفق ہوناضروری نہیں۔



جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.