Urdu News and Media Website

      انتظامیہ یا مافیا

سر جی صرف سو روپے ہیں اور پیسے نہیں ہیں پلیز جانے دیں،موٹر سائیکل بند کر دی تو ابو سے بہت مار پڑے گی ،جیب خرچ بھی بند ہو جائے گا،یہ جملے آپ کو رات کے وقت اکثر پولیس ناکوں پر سننے کو ملیں گے،صاحب جی آپ کے لیے بہترین پھل پیٹیاں کھولتے ہی رکھ دیا ہے الگ کر کے۔ گھر پہنچا دوں یا گاڑی میں رکھوادوں یہ سر گوشیاں رمضان بازار،اتوار بازار ،ریڑھی پر پھل فروخت کرنے والوں اور ٹاون اہلکاروں کے درمیان سننے کو ملتی ہیں،رات کے وقت پولیس والے جیسے ہی موٹر سائیکل پر دو لڑکوں کو دیکھتے ہیں تو دیہاڑی پکی ہو جاتی ہے،کیونکہ ان کو پتہ ہوتا ہے کہ یہ گھر والوں کو چکر دے کر موٹرسائیکل لے کر آئے ہیں، لائسنس پاس ہے نہ ہی کاغذات ۔ایسے لڑکوں کو ناکوں پر روک کر پہلے ذہنی طور پر ٹارچر کیا جاتا ہے پھر دیہاڑی لگائی جا تی ہے،جن اہلکاروں کا مطمع نظر ہی دیہاڑی لگانا ہو وہ جرائم خاک روکیں گے ،کیا ہی اچھا ہو کہ رات کے وقت یا دن کےوقت بائیک چلانے والے کم عمر لڑکوں کو روکتے ہی فوری طور پر والدین کو اطلاع دی جائے اور بلا کر تحریری یقین دہانی حاصل کی جائے کہ بچوں کو موٹر سائیکل اورگاڑیاں نہیں دی جائیں گی، کیونکہ یہی کم عمر بچے  ہی ون ویلنگ کرتے ہیں اپنی جان سے بھی جاتے ہیں اور کئی دوسری جانوں کے ضیاع کا بھی باعث بنتے ہیں۔معصوم بچوں کے گلے کاٹنے والی قاتل ڈور کا خونی کھیل پھر عروج پر ہے اور پولیس سمیت تمام متعلقہ ادارے اس کو کنٹرول کرنے میں مکمل طور پر ناکام نطر آتے ہیں، سیاسی اثرورسوخ بھی اس خونی کھیل کے جاری رہنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، شہر میں دن دیہاڑے پتنگ بازی کی جا رہی ہے اور یہ زیادہ تر سیاسی رہنماوں کے گھروں کی چھتوں پر ہوتی ہے، کیونکہ سیاسی رہنماوں کی رہائشگاہوں کے قریب جاتے ہی پولیس کے پر جلتے ہیں،چند دن قبل بھی اس قاتل ڈور نے ایک شخص کا کان کاٹ دیا،گردن کو شدید زخمی کردیا، کیا یہ ممکن ہے کہ انتظامیہ کی سرپرستی کے بغیر پتنگیں تیار ہوں، مارکیٹ میں فروخت ہوں اور شہر بھر میں اڑائی بھی جائیں۔ رمضان بازاروں میں ناقص اشیاء کی فروخت کے ذمہ دار بھی حکومتی اہلکار ہی ہیں کیوں کہ مفت میں فروٹ وغیرہ کے شاپر بھر کے جو لے جانے ہوتے ہیں، یہ انتظامیہ کے اہلکار اپنے تھوڑے سے فائدے کے لیے غریب عوام کو بھاری نقصان پہنچاتے ہیں،صحیح کہا جاتا ہے سرکاری ملازمین کام نہ کرنے کی تنخواہ لیتے ہیں جبکہ کام کرنے کی رشوت وصول کی جاتی ہے۔ ایک اور مزے کا معاملہ ہے لاہور کے ٹاونز کے عملے سمیت سول انتظامیہ کو رمضان بازاروں میں لگا دیا ہے جبکہ باقی شہر بھر میں اشیا ضروریہ کو ذخیرہ اندوزوں کے حوالے کردیا، شہریوں کی بڑی قلیل تعداد ہی رمضان بازاروں کا رخ کرتی ہے اکثریت عام دکانوں، مارکیٹوں سے ہی اشیا ضروریہ خریدتی ہے،اس اکثریت کو منافع خوردونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں،صوبائی دارالحکومت میں گیارہ لاکھ گندے انڈوں کا برآمد ہونا لمحہ فکریا ہےاور انتہائی افسوسناک ہے اور اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ امر یہ ہے کہ ان گندے انڈوں کی خریدار شہر کی مشہور بیکریاں اور بیکری آئٹم بنانے والی کمپنیاں ہیں، سپر سٹورز سے فوڈ آئیٹمز بڑے اعتماد کے ساتھ خریدتے ہیں مگر یہ حقائق سامنے آنے کے بعد اعتماد ڈگمگاگیا ہے کہ آخراعتماد کریں توکس پر کریں۔ پولیس اور سیاسی رسہ گیروں کی سرپرستی کے بغیر جرائم نہیں ہوسکتے ،واپڈا ملازمین کی مرضی کے بغیر بجلی چوری نہیں ہو سکتی،محکمہ انہار اہلکاروں کی سرپرستی کے بغیر پانی چوری نہیں ہوسکتا،غرض کسی بھی محکمے میں کرپشن ہو یا اس کے دائرہ اختیار میں، ملی بھگت یقینی ہے، جب  ایک بچے سے رشوت وصول کی جائے گی تو بڑے ہو کر اس کا پختہ یقین ہوجائے گا رشوت دیے بغیر کوئی کام ممکن ہی نہیں ہے، سرکاری اداروں کو رشوت،کرپشن،دونمبری سکھانے کی نرسریاں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا،کیونکہ سرکاری ملازمین ایماندار ہو جائیں تو کس کی جرات ہے رشوت کا نام بھی لے سکے، بازاروں میں منافع خوروں کا راج ہو،یہ سب کچھ حکومتی مشینری کی سرپرستی میں ہورہا ہے۔جب سے پنجاب فوڈ اتھارٹی بنی ہے نت نئے ہولناک انکشافات ہو رہے ہیں،چند روز قبل ہی صوبائی دارالحکومت میں ایک بڑی ہربل کمپنی سے اٹھائیس ٹن جعلی شہد پکڑا گیا جو سارے کا سارا ہی کیمیکلز سے تیار کیا جا رہا تھااصلی شہد کا اس میں قطرہ تک نہیں تھا،اور یہ شہد تجزیہ کرنے پر اتنا خطرناک نکلا کہ ہوش ہی اڑا دیے، یہ جعلی شہد کینسر کا باعث بن رہا تھا،صوبائی دارالحکومت میں قائم تمام بڑے ہوٹلز،بیکریاں اتنی لش پش ہیں کہ اندر داخل ہوتے ہی گمان ہوتا ہے ہم کسی اور ہی ملک میں آگئے ہیں ہوٹلز اور بیکریوں پر کروڑوں اربوں روپے خرچ کر کے انتہائی زیادہ چمک دمک والے بنائے جاتے ہیں اور ان بیکریوں میں سروس فراہم کرنے والے ملازم ہاتھوں پر شاپر چڑھائے بغیر اشیاء کو ہاتھ تک نہیں لگاتے ،ہوٹلوں کے بیرے بے داغ لباس پہنے قانون کی عملداری کا مکمل نمونہ بنے نظر آتے ہیں مگر ان ہی ہوٹلز کے کچن اور بیکریوں کا سامان تیار کرنے والی جگہوں پو گندگی کے ڈھیر،چوہوں،کاکروچوں،بلیوں سمیت تمام حشرات وافرمقدار میں پائے جاتے ہیں،باسی اشیاء دھڑلے سے استعمال کی جاتی ہیں۔ مسلمان ہو کر ہم کہاں جا پہنچے ہیں، حضرت شعیبؑ کی قوم پر صرف ناپ تول میں کمی کرنے کی وجہ سے عذاب آیا تھا اور ہم توآج ہر حد ہی پھلانگ گئے ہیں، پیسے کمانے کے لالچ میں حرام حلال کی تمیز بھی بھول گئے، اپنے ہی مسلمان بھائیوں کو زہر کھلا اور پلا رہے ہیں،اس سب کی ذمہ دار بھی حکومت وقت ہی ہے کیونکہ جب حکومت کی رٹ قائم نہیں ہوگی تو ایسا ہی ہونا ہے۔ جعلی اشیاء خوردونوش تیار کرنے والی فیکٹریوں کو فوڈ اتھارٹی سیل کرتی ہے اور وہ اسی وقت ہی دوبارہ کھول کر زہر کی تیاری شروع کر دیتے ہیں،مجرموں،ون ویلروں،پتنگ سازوں اور پتنگ بازوں،جعلسازوں،فراڈیوں،لٹیروں کے خلاف کمزور مقدمات بنتے ہیں، فوری ضمانت ہو جاتی ہے،ان مافیاز کو لگام ڈالنے کے لیے قانون ہی مکڑی کے جالے جیسا ہو تو خاتمہ کیسے ممکن ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.