Urdu News and Media Website

سائنس وٹیکنا لو جی کی دوڑ میں دنیا ہم سے سو سال آگے چلی گئی

تحر یر : عبدالجبارخان دریشک۔۔
انسانی دما غ کا ئنا ت کی پیچید ہ ترین چیز وں میں سے ایک ہے ہم پور ی ز ند گی میں اپنی دما غی صلاحیت کو صرف چند فیصد ہی استعما ل میں لا تے ہیں اس چند فیصد کے استعما ل سے انسان نے ایجادات کر کے خود اس کو حیر انی میں مبتلا کر دیا ہے ۔دنیا میں انسان بڑھتے گئے ضروریات بڑھتی گئیں لیکن انسان کی کھوج کا عمل نہ روک سکا اور یہ سلسلہ صدیوں سے چلتا آیا ہے اور تا قیا مت چلتا رہے گا ۔ ہم زیادہ دور نہیں جا تے پچھلی صدی کی ایجا د ات کا جا ئز ہ لیا جا ئے تو ایک طر ف سابقہ نصف صدی اور مو جودہ کے چند سالوں کو دیکھیں لیں دنیا کتنی تر قی کر رگئیہے چیز یںتیز ی سے تبدیل ہو تی جا رہی ہیں آ ج کو ئی چیز انہو نی لگتی ہی نہیں ہے تو چند سال بعد اس کا وجود ہی نہیںتھا پہلے دور میں کو ئی چیز ایجا د ہوتی تواس کی ساخت اور ٹیکنالو جی تبدیل ہو نے میں وقت لگتا تھا پر اب دو تین سال میں کو ئی نا کو ئی نئی ٹیکنا لو جی متعارف ہو جا تی ہے۔ آنے والے دس سال کے اند ر دنیا یکسر تبدیل ہو جا ئے گی مو جو دہ دور کی آدھی سے زیادہ اشیاء ناکارہ اور بے کا ر ہو جا ئیں گی ان کی جگہ نئی ٹیکنالوجی اور نئی اشکال کی چیز یں آ جا ئیںگی
دنیا کے تر قی یا فتہ ممالک پہلے بھی ٹیکنا لو جی کی دوڑاور ایجا دا ت میں ہمارے ملک سے بہت آگے تھے اور وہ پہلے بھی سانئس و ٹیکنا لو جی سے بھر معا شی فا ئد ہ حا صل کر رہے تھے اور آ ئند ہ چند سالوں میں وہ مز ید عروج پر چلیں جا ئیں گے آنے والے دور میں ایسے ممالک دنیا پر حکمر انی بر قرار رکھیں گے وہ اب بھی ہر مید ان میں خواہ وہ معیشت ہو ‘زراعت ‘تعلیم ‘ صحت ‘ صنعت‘ حتیٰ کہ زند گی کا کو ئی شعبہ ہی کیوں نا ہو ہمیں وہ بہت پیچھے چھوڑ چکے ہیں ۔ پاکستان اور پاکستا ن جیسے غریب ممالک ان کے قرض پر چلتے ہیں یا پھر ان کی استعما ل شدہ اشیاء اور ان کی ناکارہ ٹیکنا لو جی پر چلتے ہیں ۔ہماری سوچ کبھی خود سے ایجاد ات اور تحقیق کی طر ف جا تی نہیںکہ ہم نے بھی دنیا کا مقا بلہ کر نا ہے تو سائنس و ٹیکنا لو جی کے مید ان میں ترقی کرنی ہو گی ۔ لیکن ان سے قرض لے کر ان ہی کے قرض سے ان کی ٹیکنا لو جی خر ید لاتے ہیں کیا خو ب ہما ری سو چ ہے ۔ترقی یا فتہ ممالک تھنک ٹینک کے ذریعے سو سوسال کی پالیسی بناتے رہے دو عالمی جنگوں میں دنیا مختلف بلاکس میں تقسیم ہو گئی معاشی طور پر مضبوط ممالک ہتھیا روں کے ساتھ زند گی کے ہر شعبے کو جد ید طر ز میں ڈھالتے رہے لیکن کسی دوسرے مما لک کاترقیکا راستہ روکنے کے لئے ان کو جنگوں ‘ باہمی جھگڑوں ‘دھشت گردی ‘ انتشا ر‘ خانہ جنگی میں دھکیلتے رہے تا کہ یہ اپنے مسائل میں الجھے رہیں نہ ہی یہ معا شی طور پر مضبوط ہوں گے اور نہ ہی ان کے پاس امن ہو گا جس سے انہیں سوچنے کا مو قع ہی نہیں ملے گا ۔ اور یہ ممالک تمام تر ضروریات اسلحہ سے لے کر خوراک تک اور قرض سے لے کر امد اد تک ان کے محتا ج رہیں گے ۔ آج ہمارے ملک کی بھی یہی صورت حا ل ہے آج ہم ان کے قرض اور امد اد کے محتا ج ہیں وہ ہمیں قرض دے کر ہماری پالیسی بھی وہ بنا تے ہیں کہ آپ نے یہ کر نا یہ نہیں کر نا کس ملک سے تعلق رکھنا کس سے نہیں اب وقت ہمارے ہاتھ سے نکل چکا ہے دنیا ہم سے سو سال آگے چلی گئی ہے
آج کے دور میںپاکستان کے اندر ہر شعبے اور نظام کو کمپیو ٹر کے ساتھ منسلک کیا جا رہا ہے تا کہ ہرچیز کا رریکارڈ بروقت اور آن لا ئین دستیا ب ہو سکے لیکن ترقی یا فتہ ممالک یہ کام سا بقہ صدی کے اختتا م سے پہلے مکمل کر چکے تھے آج کے دور میں ہم کمپیو ٹر ڈرائیو نگ لا ئسنس کے اجر ا ء کو بڑا کارنا مہ کہتے ہو ئے نہیں تھکتے کہ اس سے ہم حادثات میں کمی لاتے ہو ئے انسانی جانو ں کو محفو ظ بنا دیں گے ۔ دوسری طر ف ترقی یا فتہ مما لک بغیر درائیو ز کے خود کارگا ڑیاں سٹر کوں پر لانے کے آخری اور حتمی مر حلے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں حادثات میں 70 سے 80 فیصد کمی واقع ہو گی اور سٹر کوں پر پبلک ٹر انسپورٹ سے لے کر ذاتی گاڑیاں بغیر ڈرائیور کے دوڑیں گی ۔ چین ‘ جا پان ‘بر طانیہ ‘ فر انس ‘اور امر یکہ میں آنے دو تین سالوں میں یہ ٹیکنا لو جی عا م ہو جا ئے گی اس مقصد کے لئے برطا نیہ نے ان گا ڑیوں کو کنٹر ول کر نے کے لئے اپنی ایک 4400 میل طو یل شاہر ا کو فاسٹ وائی فا ئی کی رینج میں لانے کے لئے فا ئبر آپٹک بچھانے پر کام شر وع کر دیا ہے لیکن آنے والے چند سالوں میں ہمارا کیا ہو گا ہمارے ہم وطن جو مختلف مما لک میں با طور ڈرائیور نو کری کر تے ہیں اور ٹیکسی چلاتے ہیں وہ بے کار ہو جا ئیں گے سعودی عر ب میں خواتین کو ڈر ائیو نگ کی اجا ز ت ملنے سے تو اس پیشے سے وابستہ افر اد میںپہلے ہی تشویش پا ئی جا تی تھی لیکن خود کار گاڑیو ں کے بعد بے روزگاری اور پر یشانی میں مز ید آضا فہ ہو گا
اگر ہم پاکستان میں گاڑیو ں کی صنعت کی بات کر یں تو اپنی ضرورت کی تمام تر گاڑیا ں باہر ممالک سے امپو رٹ کر تے ہیں حتی ٰ کہ ان گاڑیوں کے پارٹس تک بھی۔ آج بھی ہماری سٹر کوں پر 1980 کے ماڈل کی گاڑیاں چل رہی ہیں ہم جا پان اور دیگر ممالک سے پر انی گاڑیاں خر ید کر بڑے فخر سے کہتے ہیں یہ جا پانی گاڑی ہے وہ ممالک اپنی پر انی گاڑیاں ہمیں دیتے جا رہے ہیں اور خود ایک نئی ٹیکنا لو جی پر شفٹ ہو رہے ہیں وہ ہا ئی برڈ گا ڑیوں سے خود کار اور بغیر ایند ھن کے الیکٹر ک گاڑیوں پر اپنا ٹر انسپورٹ کا نظام منتقل کر رہے ہیں دنیا کے ترقی یا فتہ ممالک 2030 تک تقریبا ً ایندھن کی مشکل سے آزاد ہو جا ئیں گے دنیا میں بڑی تیز ی سے الیکٹر ک گاڑیوں پر کا م ہو رہا ہے جن میں ایسی بیٹر ی استعما ل کی جا ئے گی جو صرف چند منٹ چار ج ہو نے کے بعد تین سو کلو میٹرسے بھی زیادہ سفر کر سکیں گی ۔ برطانیہ ‘فر انس ‘ چین تیل کی مشکل سے نکلنے کا اعلان کر چکے ہیں جبکہ بھارت تک نے بھی اس ٹیکنا لو جی پر کا م شروع کر دیا ہے ۔ لیکن اس وقت تک ساری دنیا کا کباڑ ہمارے پاس جمع ہو جا ئے گا جیسے ہمارے ہاں کمپیو ٹر ز کا بڑا کباڑ مو جو د ہے جو ہم نے خوشی سے ان کے استعمال شدہ کمپیو ٹر خر ید کر جمع کر تے رہے ہیں ۔ افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ ہم اپنی زمین سے تیل کے ذخیر ے نہ نکال سکے ۔ اور دنیا انہیں ختم کر کے کسی اور طر ف جا رہی ہے
پوری دنیا میں خود کار نظام مشینوں اور ربوٹس سے کا م لیا جا رہا ہے جو انسا نوں سے بہتر اند از میں جلد کا م کو مکمل کر لیتے ہیں بڑی تیز ی سے مصنو عی ذہانت پر تحقیق ہو رہی ہے جس میں سائنس دان کا فی حد تک کا میا ب ہو چکے ہیں ۔انسان اپنے سارے کا م کا بوجھ آہستہ آہستہ ربوٹس پر ڈال دے گا کو ئی بھی انسان ایک مخصوص آلہ سر پر لگا ئے گا اور کو ئی بھی کا م کا حکم صرف ذہن میں دے گا ربورٹس اس پرعمل شروع کر دیں گے ۔ہالی وڈ کی فلمیں اب حقیقت میں تبدیل ہو نے والی ہیں دنیا میں بڑی تیز ی سے ربوٹیک اور مصنو عی ذہانت کی ٹیکنا لو جی پر کا م ہو رہا ہے دبئی میں تو مصنوعی ذہا نت کی وزارت قا ئم کر دی گئی ہے دبئی میں ربوٹس پو لیس اور اڑنے والی ٹیکساں بھی آچکی ہیں ہمارے دوست ملک چین نے ربوٹ جج بنا دیے ہیں جو عام نو عیت کے مقد مات کی سما عت کر کے فیصلہ سنا رہے ہیں لیکن ہمارا کیا ہو گا ہم تو بچوں کا کھیلو نا ربوٹ بھی نہیں بنا سکتے وہ بھی چا ئینہ سے لیناپڑتا ہے
ہم کہنے کوکہے دیتے ہیں ہمار ا ملک ایک زرعی ملک ہے اور زراعت کے شعبہ معاشی نظام میں ریڑ کی ہڈی سمجھا جا تا ہے پر ہم اس ریڑکی ہڈ ی تو ڑ چکے ہیں ہم شرمند ہ کیسے نہ ہوں ٹماٹر ‘ پیاز ‘ ادرک‘ اور پھل چا ئنہ سے امپورٹ کر رہے ہیں اس کے ساتھ ہم یہ بھی دعوا کر تے ہیں کہ اپنی زراعت کو جد ید خطوط پر استو ار کر رہے ہیں ہم اپنے کسان کو لیز ر لیو ل مشین اور ڈریپ ایرگیشن سسٹم لگا کر دے رہے ہیں ۔ لیکن دوسری طر ف ترقی یا فتہ ممالک اس شعبہ میں بھی ہم سے بہت آگے چلے گئے ہیں ان مما لک میں ربوٹس کسان اور ڈر اؤن کو فصلوں کی بہتری کے لئے استعما ل کیا جا رہا ہے اس طر ح کے جد ید نظام سے فصل کی خوراک پانی اور بیماری سب کو پہلے سے بھانپ لیا جاتا ہے جس سے وقت کی بچت کے ساتھ پیداوار میں بھی آضا فہ ہو تا ہے ہمارے ہاں روایتی طریقہ کاشت ہے ہم ایک ایکڑ سے وہ پیداوار حاصل نہیں کر سکتے وہ اس کے کہیں زیادہ تھو ڑے سے زمین کے ٹکڑے سے حاصل کر لتیے ہیں ۔اب تو کسی بڑے حال میں گرین ہاوس اور جد ید قسم کے پنگ ہاوسز میں فصلیں کا شت کی جارہی ہیں ۔ اب تو مٹی کے بغیر خاص قسم کے محلو ل میں فصل کا شت کی جا تی ہے جو بکس بنا کر ان میں پو دے لگا ئے جاتے ہیں اور اس محلو ل میں مچھلیا ں پا لی جا تی ہیں جس سے پا نی کی 90 فیصد بچت ہو تی ہے اور مچھلیاں الگ سے پل جا تی ہیں ۔وہ ممالک خوراک میں خود کفیل ہو رہے ہیں اور ہمارے ہاں خوراک کی مسلسل کمی ہو رہی ہے وہ گوشت کو پیداوار میں کمی کی صورت میں مصنوعی گوشت تیار کر نے پر کا م کر رہے ہیں 2013 ء میں پو لینڈ کے سائنس دان اس میں کا فی حد تک کا میا ب ہو چکے ہیں
اکیسویں صدی کی دوسری دہا ئی بھی ختم ہو نے والی ہے ہم کسی طور پر بھی دنیا کا مقا بلہ نہیں کر سکتے ہم اب بھی پچھلی صدی میں مو جو د ہیں ہم تو صرف اپنا جمہوری نظام اور نظام عدل کا ڈھانچہ ٹھیک نہ کر سکے جو کسی بھی ملک کے ابتداء سے ہی بہتر ہو جاتا ہے ۔ہم آنے والی نسلوں کو مسائل ہو پر یشانی دے کر جا ئیں گے جس میں مزید آضا فہ ہو تا جا ئے گا اور وہ اپنی پر یشانی اپنی آگے والی نسل میں بمعہ منافع منتقل کر دیں گے وقت ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے سو چنے اور غور کرنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.