Urdu News and Media Website

لیڈر بننا آسان نہیں

تحریر:عتیق الرحمٰن خاں۔۔۔۔آزاد کشمیر کے الیکشن کا پہلا مرحلہ مکمل ہوا پارٹیوں کے کئے دعوےکچھ سچ اور کچھ ریت کی دیوار ثابت ہوئےہاں ایک روایت برقرار رہی کہ جس کی مرکز میں حکومت ہو وہی پارٹی آزاد کشمیر میں بھی کامیابی کے جھنڈے گاڑتی ہے

پی ٹی آئی نے اپوزیشن کے لگائے گئے تمام الزامات کو پیچھے دھکیلتے ہوئے 25 سیٹوں پر کامیابی اپنے نام کر لی خیال یہ کیا جا رہا تھا کہ ملک میں جاری مہنگائی بے روز گاری اور عالمی سطح کے چیلنجز نے پی ٹی آئی کی مقبولیت کو کافی کاری ضرب لگائی ہے

جس کاخمیازہ لازمی طور پر تحریک انصاف کو آزاد کشمیر الیکشن میں بھگتنا پڑے گامگر الیکشن کے رزلٹ نے اس خیال اور تجزیہ کو یکسر بدل کر رکھ دیا

کشمیریوں نے پی ٹی آئی کو دل کھول کر ووٹ دیئےاور اس قابل بنا دیا کہ وہ بغیر کسی کیساتھ الحاق کئے آزادانہ حالت میں اپنی حکومت قائم کر سکتے ہیں جہاں کشمیریوں نے پی ٹی آئی کو اپنے قیمتی ووٹ سے نوازا ہےوہیں پر انھوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کو بھی اپنی وفاداری ثابت کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی اور 11سیٹوں پر کامیابی سے ہمکنار کر دیا

ہاں اگر مایوسی ہوئی تو مسلم لیگ نواز گروپ کو ہوئی جو بہت بڑے جلسے کرکے بھی عوام کے دلوں میں اپنی محبت کی شمع روشن کرنے میں ناکام رہے اور وہ اس الیکشن میں 6 سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکے چونکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے بلاول بھٹو اور مسلم لیگ نواز گروپ کی جانب سے مریم نواز شریف اپنی پارٹی کو لیڈ کر رہے تھے

ماضی پر غور کیا جائے تو جب دونوں پارٹیوں کو ان کے والدین میری مراد پیپلز پارٹی کو محترمہ بینظیر بھٹو اور مسلم لیگ ن کو نواز شریف لیڈ کر رہے تھے تو حالات یکسر علیحدہ ہوتے تھے اس الیکشن کے رزلٹ کو دیکھتے ہوئے یہ فرض کیا جا سکتا ہے کہ بلاول بھٹو کی نسبت مریم نواز اپنی پارٹی کی محبت کشمیریوں کے دلوں میں اس طرح اجگر کرنے میں ناکام رہی ہیں جس طرح ان سے توقع کی جارہی تھی

اگرچہ انھوں نے اپنے کشمیری ہونے کا کارڈ بھی عوام کے سامنے استعمال کیا مگر وہ کچھ زیادہ سود مندثابت نہ ہو سکا یہی وجہ تھی کہ مریم نواز نے شاید اپنی مقبولیت کا کسی حد تک اپنے طور اندازہ لگا لیا تھااور انہیں الیکشن کے آنے والے رزلٹ کا کافی حد تک پتہ چل چکا تھا جس وجہ سے انھوں نے حکومت اور الیکشن کمیشن کو پہلے ہی اپنے جلسوں میں ووارننگ دینا شروع کر دی تھی کہ اگر ان کا رزلٹ ان کی توقعات کے مطابق نہ آیا تو وہ اس الیکشن کے رزلٹ کو کسی طور بھی قبول نہیں کرینگی ۔

رزلٹ کے بعد انھوں نے اپنے کئے اعلان کےمطابق الیکشن کے رزلٹ کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ نہ 2018کے الیکشن کے رزلٹ کو مانتے ہیں اور نہ آزاد کشمیر میں ہونے والے 2021کے الیکشن کے رزلٹ کا مانیں گےیہ الیکشن دھاندلی زدہ ہیں جبکہ الیکشن کے آخری دن تک آزاد کشمیر میں حکومت ن لیگ کی تھی الیکشن کا رزلٹ جاری کرتے ہوئےچیف الیکشن کمشنر آزادکشمیر عبدالرشید سلہریاکا کہنا تھا کہ آزادکشمیر الیکشن صاف اور شفاف طور پر ہوئے اور ٹرن آؤٹ 62 فیصد رہا، ہارنا جیتنا مقدر کی بات ہے، جو ہار جاتا ہے وہ کہتا ہےکہ دھاندلی ہوئی ہے، تاہم کسی بھی جماعت نے ابھی تک دھاندلی سے متعلق کوئی تحریری شکایت نہیں کی ہے

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے بھی اگرچہ دھاندلی کا الزام لگایا مگر انھوں نے الیکشن کے رزلٹ کو تسلیم کرتے ہوئے بہترین اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کا عزم دہرایاعام طور پر الیکشن کمپین کے دنوں میں اس بات کا ہر پارٹی حتی کہ امیدوار بھی خیال رکھتے ہیں کہ کوئی ایسا عمل نہ کیا جائے جس سے عوام کے دلوں میں کوئی نفرت کے جذبات جنم لیں مگر مسلم لیگ نواز نے شاید اس کلیہ سے کسی حد تک انحراف کیا اور عین اس وقت جب آزاد کشمیر کے الیکشن کی کمپین عروج پر تھی تو لندن میں مسلم لیگ نوازکے سربراہ میاں نواز شریف نے افغانستان کے سلامتی امور کے سفیر اور وزیر مملکت سے ملاقات کی جوکہ چند دن پہلے ہی پاکستان کیخلاف ہرزہ سرائی کر چکے تھے

اس سے پہلے بھی پاکستان مخالف لوگوں کیساتھ ملاقاتوں اور میل جول کی وجہ سے نواز شریف پر کافی سوالات اٹھائے جاتے تھے جس میں مودی کو اپنے گھر میں بلانا جندرال سے مری میں بغیر کسی کو بتائے ملاقات کرنا مودی کے جشن تاج پوشی کی تقریب میں شامل ہونا اور کشمیری حریت رہنمائوں سے ملاقات نہ کرنا یہ ایک لمبی تفصیل ہے جس کیوجہ سے ن لیگ کو دفاع کرنے میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے مگر ہر دور میں کسی کی بات پر کان دھرے بنا انھوں نے اپنی روش کو نہیں بدلا۔

جب کہ پاکستان کی تاریخ یہ ہے جس نے پاکستان کیخلاف کوئی غلط زبان استعمال کی ہمارے قائد نے اس کیطرف دیکھنا بھی پسند نہیں کیا فضل الحق جس کو شیر بنگال کہا جاتا ہےقائد اعظم کا خیال تھا کہ اس نے 1946کے الیکشن میںپاکستان کی مخالفت کرکے پاکستانی کاز کو نقصان پہنچایا ہےاس سے پہلے وہ ایک تقریر میں کہہ چکے تھے کہ کرسمس کے موقع پر میں وائسرائےکو ڈھاکہ اور بنگال تحفے کے طور پر پیش کرتا ہوں رضا ربانی کے والد عطائ ربانی لکھتے ہیں کہ سندھ اسمبلی کے باہر فضل الحق قائد اعظم سے ملاقات کیلئے آیا اور وہ اتنا جھکا کہ جیسے رکوع کی حالت تک پہنچ گیا مگر قائد اعظم نے اس کی طرف دیکھنا بھی گوارہ نہیں کیاآپ اپنی ناراضگی کا اظہار کسی کو برا بھلا کہہ کر نہیں کرتے تھے بس آپ کا یہ کہنا تھا کہ جس نے بھی پاکستان کیخلاف کوئی بھی لفظ نکالا وہ دیکھے جانے کے بھی قابل نہیں ہےلیڈر کی یہ نشانی ہوتی ہےاب اس ملاقات کا دفاع کئے بغیر مریم نواز کے پاس کوئی آپشن ہی نہیں تھا

یہ بحث ابھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ گوجرانوالہ میں مسلم لیگ ن کے امیدوار اسماعیل گجر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جذبات میں آکر یہاں تک کہہ دیا کہ انتظامیہ نے بات نہ سنی تو مدد کیلئے بھارت کو پکاروں گاجس نے نواز شریف کی ملک دشمن عناصر سے ملاقات کی بھڑکائی ہوئی آگ پر تیل کا کام کیا جس کا دوسری پارٹیوں نے بھر پور فائدہ اٹھایا اور سوشل میڈیا کہ ذریعے اس بیان کو ہر گھر تک پہنچا دیاجس کا آزاد کشمیر الیکشن پر بھی کافی گہرا اثر پڑا چونکہ کشمیری کئی دہائیوں سے کشمیر کی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور وہ بھارت کو اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتے ہیں اور اگر کوئی آپ کے دشمن سے مدد مانگے گا تو اس کا آپ پر کیا اثر پڑے گامگر شاید اقتدار کے حصول کیلئے یہ سب باتیں بھول جانے کو ہی سیاست کا نام دیا گیا ہے

مگر ملک سے دشمنی کرکے آج تک کوئی امر نہیں ہو سکا نیلسن منڈیلا کی مثال عام دی جاتی ہے کہ اس نے جیل اور سختیاں برداشت کیں مگر کبھی اپنے ملک کے دشمنوں سے مدد کا مطالبہ نہیں کیا اپنے ملک کی مثال دیں تو فوج کے قابل احترام سولجر مقبول حسین نے انڈیا کی جیل میں زندگی گزارنے کو ترجیح دی یہاں تک کہ اپنی زبان تک کٹوا دی مگر اپنے وطن کےخلاف ایک بھی لفظ اپنے منہ سے نہ نکالا اور یہی لوگ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے جائیں گے

نومولود سیاستدانوں کو نام کمانے کیلئے اور حقیقی معنوں میں عوامی نمائندے بننے کیلئے اس تاریخ کے سنہری باب کو پڑھنا پڑےگاجیلوں کی سلاخیں لیڈر کی زندگی کو نکھارتی ہیںبیرونی سہاروں کی بجائے کاز کیلئے لڑنے والوں کو دنیا لیڈر مانتی ہےاسی لئے تو کہتے ہیں کہ لیڈر بننا آسان نہیں۔

نوٹ:نیوزنامہ پر شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کی ذاتی رائے ہے، ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

تبصرے