Urdu News and Media Website

ایل ڈی اے شعبہ ٹاؤن پلاننگ کےافسران مبینہ طورپرغیرقانونی تعمیرات کرانے میں ملوث

لاہور(علی جنید) ترقیاتی ادارہ برائے لاہور (ایل ڈی اے ) ایک جانب وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے ویژن پر عملدرآمد کرتے ہوئے ترقی کی منازل عبور کر رہا ہے اور شہریوں کو سہولیات کے لئے پر عزم دکھائی دیتا ہے تو دوسری جانب ایل ڈی اے کے ہی شعبہ ٹاؤن پلاننگ نے پنجاب حکومت کے برعکس اپنی کرپشن کی نئی دنیا آباد کر لی ہے
اس سلسلہ میں پنجاب حکومت کی بلڈنگ پالیسی کو جہاں شعبہ ٹاؤن پلاننگ نے سبوتاژ کرنے کا اعادہ کر رکھا ہے تو وہاں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں موجود حکومت پنجاب کی جانب سے تعینات افسران کو بھی شعبہ ٹاؤن پلاننگ نے بالکل لاعلم رکھا ہوا ہے
جن میں حکومتی نمائندہ وائس چیئرمین ایس ایم عمران ، ڈائریکٹر جنرل احمد عزیز تارڑ اور سیکرٹری ہاؤسنگ کے علاوہ صوبائی وزیر ہاؤسنگ کو بھی شعبہ ٹاؤن پلاننگ نے اپنی ذاتی پلاننگ کے تحت ان ذمہ داران کو بھی اندھیرے میں رکھا ہوا ہے ۔
شعبہ ٹاؤن پلاننگ نے لاہور شہر کا حسن تباہ کر دیا ہے تمام شہر میں بائی لاز کے برعکس عمارتوں کی تعمیر کا سلسلہ عروج پر ہے اس زمرے میں پنجاب حکومت کو نقشہ و کمرشلائزیشن فیس کی مد میں سابق مالی سال میں اربوں روپے کا ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے ۔
شعبہ ٹاؤن پلاننگ کے افسران مبینہ طور پر لین دین کی بناء پر غیر قانونی تعمیرات کروا رہے ہیں ۔حال ہی میں شعبہ ٹاؤن پلاننگ نے فیروزپور روڑ پر کارروائی کی جس میں چونگی امرسدھو بینک کے قریبی عمارت کو معمولی سا مسمار کیا گیا جبکہ ایل ڈی اے شعبہ ٹاؤن پلاننگ کے علم میں تھا کہ مذکورہ عمارت غیر قانونی تعمیر ہوئی ہے اس کے باوجود افسران نے اس کے خلاف کوئی خاص کاروائی نہیں کی
مذکورہ کارروائی کاروائی 19 جولائی کو کی گئی تھی۔ اس خودساختہ سی کارروائی کے صرف 3 گھنٹے بعد ہی مالک بلڈنگ نے جو ایل ڈی اے کی جانب سے جو معمولی سا تصانیف پہنچایا تھا وہ دوبارہ تعمیر کر لیا گیا تھا
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ شعبہ ٹاؤن پلاننگ کے متعلقہ ذمہ داران نے محکمانہ طور پر کہا تھا کہ اس آپریشن کے دوران مسمار کی گئی عمارتوں کی مسماری کے ساتھ سیل بھی کیا گیا ہے ۔ اور اگر سیل کیا گیا ہوتا تو دوبارہ ان کی نا جائز تعمیر دوبارہ کیسے ممکن ہوئی ؟ اس پر کوئی ایف آئی آر کیوں نہ درج ہوئی ؟ ان امور سے معلوم ہوتا ہے کہ ایل ڈی ے شعبہ ٹاؤن پلاننگ افسران کو صرف کاغذی کارروائیاں پیش کرتا ہے جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہوتے ہیں ۔

تبصرے