Urdu News and Media Website

کشمیر الیکشن اور ن لیگ کے "غلط اندازے”

تحریر:امجد عثمانی۔۔۔
ضیا شاہد
آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے الیکشن "تمام” ہوئے…کچھ بھی "انوکھا "نہیں ہوا…”جس کا اسلام آباد،اس کا مظفر آباد”کے "مجرب نسخے” کے تحت اب کی بار پاکستان تحریک انصاف اگلے پانچ سال کے لیے کشمیر میں "مسند اقتدار”پر بیٹھے گی….کاش کوئی سمجھے کہ دنیا میں”کرسی” بڑی "بے وفا”چیز ہے…. کب ہمیشہ کسی کی رہتی ہے…اس سے پہلے یہاں ن لیگ اور اس سے قبل پیپلز پارٹی کی حکمرانی ہوا کرتی تھی…….!!!

الیکشن شفاف ہوئے یا دھاندلی ہوئی؟یہ اب حمکران جماعت اور اپوزیشن کا "مقدمہ” ہے،وہی اپنا اپنا کیس لڑیں گی…..انتخابات کوئی بھی ہوں اور کہیں بھی ہوں، "مس کیلکولیشن”اور "مس مینجمنٹ” "رگنگ "سے بڑے "اسباب شکست” ہیں….سیاستدان اپنے ان کمزور پہلوئوں پر بروقت غور فرمالیں تو شاید انہیں ہر الیکشن میں "دھاندلی کا رونا” نہ رونا پڑے…..

آزاد کشمیر اسمبلی کے 45حلقوں کا تفصیلی تجزیہ تو” مہان تجزیہ کار” ہی فرما سکتے ہیں……ہم صرف ایل اے 37جموں 4میں دلچسپ مقابلے کی کہانی آپ کے سامنے رکھیں گے….
شکرگڑھ ،نارووال اور ظفروال پر پھیلا یہ” ریاستی حلقہ” این اے ستہتر،اٹھہتر جبکہ پی پی چھیالیس،سینتالیس،اڑتالیس،انچاس اور پچاس پر مشتمل حلقہ ہے….یہاں سے ن لیگ کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور سابق وزیر داخلہ جناب احسن اقبال،سابق وفاقی وزیر دانیال عزیز کی اہلیہ مہناز اکبر رکن قومی اسمبلی جبکہ خواجہ وسیم،بلال اکبر،رانا منان،مولانا غیاث الدین اور وزیر اوقاف پنجاب پیر سعید الحسن شاہ رکن صوبائی اسمبلی ہیں…اول الذکر پانچ ارکان اسمبلی ن لیگ سے تعلق رکھتے ہیں…..

ضلع نارووال پر "ہولڈ "رکھنے والے مذکورہ پانچوں ارکان اسمبلی ن لیگ کے امیدوار صدیق بھٹلی کے "پشتی بان” تھے…..ماضی میں ن لیگ چھوڑ کر پی ٹی آئی سے الیکشن لڑنے والے سابق ایم پی اے اویس قاسم بھی "رجوع” کے بعد ان کے شانہ بشانہ تھے…..احسن اقبال کے فرزند چئیرمین ضلع کونسل احمد اقبال،تینوں تحصیلوں کی بلدیہ کے چئیرمین بھی لیگی امیدوار کے ساتھ تھے……اتنی بڑی "جمعیت” کے ہوتے ہوئے ضلعی سطح کی سرکاری مشینری اور چھوٹے چھوٹے پولنگ سٹیشنوں کے عملے کی کیا اوقات کہ کوئی "ہینکی پھینکی” کرے…..!!

مذکورہ منظر نامے کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ اس حلقے میں ریاستی مشینری چلی نہ جھرلو پھرا……پھر کیا ہوا؟؟دانیال عزیز اور احسن اقبال کی قیادت میں "لیگی ٹیم "سے” ننھے منے الیکشن” میں صرف اور صرف "مس کیلکولیشن” اور "مس میجمنٹ” ہوئی…غلط اندازے اور ناقص منصوبہ بندی انہیں لے ڈوبی….. ان کو "زعم” تھا کہ ہم جیتے ہوئے ہیں…..صرف دانیال عزیز نے دن رات ایک کیا ،باقی سب حضرات گرامی "ایزی فیل”کرتے رہے….اسی "زعم” میں انہوں نے کسی ایک چھوٹے موٹے امیدوار کو بھی اپنے حق میں دستبردار کرانے کی کوشش نہ کی…..مولانا غیاث الدین کو چھوڑیے کہ وہ تو "غدار” ٹھہرے،سات آٹھ سو،ہزار ووٹ لینے والے کسی "گمنام امیدوار "کا "ترلہ "ہی کر لیا جاتا تو جیتا ہوا الیکشن صرف 313ووٹوں سے نہ ہارتے…یہ تھا غلط اندازہ……ناقص منصوبہ بندی کی گواہی ہمارے صحافی دوست اعظم خاور نے یوں دی ہے کہ نارووال شہر کے بغل میں ڈومالہ ایسے اہم پولنگ سٹیشن پر ن لیگ کا ایجنٹ ہی نہیں تھا……

الیکشن سے ایک دو دن پہلے کہا تھا کہ نارووال کے کشمیر الیکشن میں شیر کو” گھوڑے کی دولتی” کا خطرہ ہے…..وہی ہوا،لیگی امیدوار کو سب سے زیادہ نقصان مولانا کے امیدوار نے پہنچایا ….اگرچہ ربیعہ غیاث کو توقع سے کم ووٹ ملے تاہم” وہ سارے ووٹ شیر کے تھے جو "گھوڑے کا روپ” دھار گئے…..ربیعہ مسلم کانفرنس کے ٹکٹ پر میدان میں تھے…..ان کو اپنے والد کے علاوہ صرف اور صرف علی پور سیداں کی روحانی درگاہ کے سجادہ نشین سید غلام رسول شاہ کی تھپکی تھی مگر وہ” ہم تو ڈوبے ہیں تجھے بھی لے ڈوبیں گے صنم” کے مصداق اپنا "کام” کر گئے….دانیال عزیز صاحب اب اپنے حلقے میں "محکمہ زراعت "کی کسی” نئی کھاد "کی "کہانی” سنا رہے ہیں…..اسے کہتے ہیں بعد از مرگ واویلا …..اگر ان کے پاس کچھ شواہد ہیں تو متعلقہ فورم کا دروازہ کھٹکھٹائیں کہ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے….

امر واقعہ یہ ہے کہ ن لیگ کے مضبوط گڑھ نارووال میں سابق رکن قومی اسمبلی جناب میاں رشید نے تن تنہا پی ٹی آئی امیدوار اکمل سرگالہ کا الیکشن بہترین حکمت عملی سے لڑا اور میدان مار کرسیاسی حلقوں کو حیران کردیا…..خاتون رکن قومی اسمبلی محترمہ وجیہہ قمر،سابق وفاقی وزیر جناب طارق انیس،پیر سعید الحسن شاہ،ابرار الحق اور سجاد مہیس بھی ان کے قافلے میں شامل تھے…..طارق انیس آخری دنوں میں "متحرک” ہوئے…ابرار الحق کے "سیاسی وزن” کا سب کو پتہ ہے جبکہ پیر صاحب وزیر ہیں اور لوگوں کو کیا پتہ کہ وزیر کی” کتنی مصروفیات” ہوتی ہیں…اس طرح اس معرکے کا سارے کا سارا کریڈٹ میاں رشید کو ہی جاتا ہے…..”زعم” سے یاد آیا کہ کوئی وقت تھا کہ یہاں کے ایک صوبائی وزیر کو "زعم” تھا کہ اقتدار ان کے گھر کی لونڈی بن گئی ہے…..انہوں نے تکبر میں کہہ دیا کہ "مولوی” کا زمانہ گیا……پھر وہ دیکھتے ہی دیکھتے نااہل بھی ہوگئے اور خوفناک حد تک علیل بھی…. ان کی” پکڑ” زمانے نے دیکھی…..”جھرلو "سے یاد آیا کہ بھٹلی صاحب اور اسی سابق صوبائی وزیر کو پرویز مشرف کے زمانے میں اس حلقے کے ریاستی الیکشن کا” جھرلو” تو یاد ہوگا جب ریاستی مشینری کے بل بوتے پر اکمل سرگالہ کے نیک نام والد جناب محمد حسین سرگالہ کی جیت کو شکست میں بدلا گیا؟؟ہم لوگوں نے یہ "اندھا دھند دھاندلی” خود رپورٹ کی ….. کئی اخبارات نے سرخیاں جمائیں کہ صوبائی وزیر صحت خود ٹھپے لگاتے رہے….

حالیہ ریاستی انتخابات کے ابتدائی تجزیے میں اسی مشاہدے کی بنیاد پر کہا تھا کہ پی ٹی آئی امیدوار اکمل سرگالہ کے مقابلے میں ن لیگ کے امیدوار صدیق بھٹلی کے لیے یہ الیکشن آسان نہیں کہ اب ق لیگ کی حکومت ہے نہ ڈاکٹر طاہر جاوید وزیر…..

گردش ایام عالم گیر سچائی ہے…..انسانوں کے دن بدلتے ہیں تو ان کا باطن "ظاہر” ہوجاتا ہے…..سیاستدانوں کی یہ خوبی بہر حال اچھی لگتی ہے کہ "سیاسی موسم” کیسا بھی ہو، وکٹ نہیں چھوڑتے….ابھی تین سال پہلے کی بات ہے کہ عام الیکشن میں دانیال عزیز کی اہلیہ محترمہ مہناز اکبر نے میاں رشید کو "آدھے لاکھ "کے مارجن سے
سے شکست دی….آج اسی میاں رشید نے دانیال عزیز ،احسن اقبال سمیت پانچ لیگی ارکان اسمبلی کو دن میں تارے دکھا دیے…..سیاسی حلقے چہ میگوئیاں کر رہے ہیں کہ اگر "پنج پیارے” ملکر ایک "راج دلارے” کے سر کامیابی کا "سہرا” نہیں باندھ سکے تو دو سال بعد جب ہر کسی کو اپنی پڑی ہوگی تب کیا حال ہوگا؟؟؟

ہمارے خیال میں ن لیگ کی یہی "مس کیلکولیشن” اور "مس میجمنٹ” ،شکرگڑھ سے کشمیر تک تمام حلقوں میں چلی ورنہ محترمہ مریم نواز کے” پاور شوز "تو ضمنی انتخابات کی طرح کچھ اور ہی "انڈیکیٹرز” دے رہے تھے……

"اچھل کودیوں” سے ایڈوانس عرض ہے کہ دانیال عزیز اور احسن اقبال سے کوئی ملاقات ہے نہ میاں رشید کی کبھی "زیارت” ہوئی…..سرگالہ صاحب سے کوئی دو سال پہلے ایک آستانے پر مختصر سی نشست ہے جبکہ بھٹلی صاحب سے ملے کئی سال ہو گئے…… ہاں مجھے "سی آئی کوتوالی لاہور کی ملاقات” بھی یاد ہے اور "بصراجالا موٹر سائیکل واردات "بھی نہیں بھولی……الیکشن میں ان "موضوعات” پر نہیں لکھا کہ کسی کی” سیاسی ساکھ” خراب نہ ہو…..کبھی من چاہا تو قلم اٹھے گا…….ایل اے 37جموں 4 کی نشست پر بہر کیف کانٹے کا مقابلہ ہوا…..جیتنے والا بھی خوب لڑ کر جیتا اور ہارنے والا بھی خوب لڑ کر ہارا…… ہار جیت انتخابی عمل کا حصہ ہے….سپورٹس مین سپرٹ یہی ہے کہ "فاتح اور مفتوح” ایک دوسرے کے ” سیاسی قد” کو تسلیم کرتے ہوئے "بغل گیر” ہو جائیں……ہماری طرف سے بھی نو منتخب ایم ایل اے جناب اکمل سرگالہ کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد…..امید ہے کہ وہ” جموں ہائوس "اور” بھٹلی پیلس” کے بجائے ریاستی مہاجرین کے لیے مختص ترقیاتی فنڈز سے شکرگڑھ میں کشمیر ہسپتال اور یونیورسٹی بنا کر اپنے والد گرامی کا نام روشن کرینگے!!!

نوٹ:نیوزنامہ پر شائع ہونے والی تحریر لکھاری کی ذاتی رائے ہے، ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

تبصرے