Urdu News and Media Website

لبرل و سیکولر نسخہ ۔۔ مست زندگی اور طعنے ۔۔

تحریر:محمدعاصم حفیظ
asim hafeez
مادر پدر آزادی انجوائے کرو ۔ مخلوط پارٹیوں میں ناچو ۔ منشیات کا بے دریغ استعمال کرو ۔ شراب و کباب کی محفلیں لوٹو ۔ رقص و سرور میں جھومتے رہو ۔ عیش و عشرت میں جیو ۔ کنسرٹ میں خوب ہلہ گلہ کرو ۔۔جہاں دل چاہے ۔ جس گھر میں جتنی چاہو راتیں گزارو ۔ مرضی کے تعلقات بناؤ ۔ والدین سمیت کوئی پوچھے تو اسے پرائیویسی میں مداخلت قرار دو ۔ سب کچھ ۔ ہر دوستی ۔ ہر معاملہ ۔ ہر کوئی خود ہی ہینڈل کرنے کے نعرے مارو ۔ مست زندگی گزارو ۔

درندوں ۔ عادی مجرموں ۔ منشیات کے نشئیوں ۔ جنسی مریضوں اور نفسیاتی مسائل کا شکار دولت مندوں کے نخرے اٹھاؤ ۔ ان کی مرہون منت بن کر جئیو ۔ ان کی پارٹیوں ۔ دوستی کے وعدوں اور جھوٹے عہد و پیمان کی خاطر زندگی عذاب بناؤ ۔ ان کی حرکتوں کو کبھی منع نہ کرو ۔ سب برداشت کرو ۔ صرف پارٹیوں اور سٹیٹس کے لیے ۔ اس کلاس میں جینے کے لیے ۔۔ اس ماحول میں زندہ رہنے کے لیے ۔۔
کوئی روکے ۔ توجہ دلائے ۔ اس مجرمانہ ۔ غفلت بھری ۔ منشیات میں مست ۔ عزت و دولت لٹاتی زندگی سے روکے تو اسے دقیانوس قرار دو ۔ قدامت پرست کہو حتی کہ حقوق دشمن اور دہشت گرد تک کا طعنہ دو ۔۔
لیکن جب کوئی ناخوشگوار واقعہ ہو جائے ۔ تشدد کر دے ۔ قتل ہو جائے یا کچھ بھی منفی و مجرمانہ حرکت ۔۔
تو فوری طور پر معاشرے ۔ دین ۔ مذہب ۔ روایات ۔ خاندانی نظام ۔ قانون ۔ ریاست ۔ اسلامی طرز زندگی و روایات سمیت ہر چیز پر تنقید کرو ۔ پھانسی کی سزا کا مطالبہ کرو ۔ ہر ایک کو کٹہرے میں کھڑا کرو ۔ خوب طعن و تشنیع کرو ۔ مارچ نکالو ۔ موم بتیاں روشن کرو ۔ سول سوسائٹی کا لبادہ اوڑھ لو۔ مظلوم بن جاؤ ۔ اس موقعے کو بھی اپنی سوچ و نظریات کے فروغ کا ذریعہ بنانے کی کوشش کرو ۔۔

بس یہی ہے لبرل و سیکولر نسخہ ۔۔ ہر بار یہی آزمایا جاتا ہے ۔ لاہور میں لڑکی کو ہسپتال چھوڑ کر بھاگ جانیوالے ہوں ۔ معروف تعلیمی ادارے کی چھت سے کودنے والی ہو ۔ لاہور سے جاکر اسلام آباد کے فلیٹ میں تشدد کا نشانہ بن جانے والی ہو یا پھر سابقہ سفیر کی بیٹی نور مقدم کا حالیہ واقعہ ۔۔۔ یہی نسخہ آزمایا جاتا ہے اور آزمایا جاتا رہے گا ۔۔۔

نوٹ:نیوزنامہ پر شائع ہونے والی تحریر لکھاری کی ذاتی رائے ہے،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

تبصرے