Urdu News and Media Website

کیوں لڑیں ہم ایک ہی سنگ میل پر ؟؟؟

تحریر:امجد عثمانی۔۔۔دینی مدارس کے نئے بورڈز بن گئے….کوئی تنازع ہونا چاہیئے نہ کشیدگی ….جو اللہ کی رضا کے لیے ہو گا، وہی نظام چلے گا…..مستند اور معتبر عالم دین عزت مآب مفتی تقی عثمانی نے حضرت امام مالک رحمتہ اللہ علیہ کا قول پیش کرکے بحث ہی ختم کر دی…..تقی صاحب کہتے ہیں جب امام مالک رحمتہ اللہ علیہ نے موطا لکھی تو ان کے مقابلے میں کئی اور لوگوں نے بھی اسی نام سے کتابیں لکھ ڈالیں….کسی نے ان کتابوں کی جانب اشارہ کیا تو امام صاحب نے تاریخی جملہ ارشاد فرمایا کہ رہے گی وہی جو اللہ کے لیے لکھی گئی ….
عرب و عجم میں یکساں مقبول مفتی تقی عثمانی سند کا درجہ رکھتے ہیں…..وہ کم ہی بولتے ہیں مگر جب گفتگو کرتے ہیں تو ان کے الفاظ بیانیہ بن جاتے ہیں…..
نئے مدارس بورڈز کے پیچھے کوئی نیک نیتی ہے یا بد نیتی….. خیر خواہی ہے یا بدخواہی؟؟یہ سرکاری پلان ہے یا علما کا رجحان……؟؟یہ وقت ہی بتائے گا…..ہمارے خیال میں چاروں مسالک کے چار دینی وفاق کافی تھے…..مسالک کے بجائے تنظیموں کو بورڈز بانٹنے سے پہلے سے تقسیم مذہبی حلقوں میں تفریق مزید بڑھے گی جبکہ "فرنچائز سسٹم "سے تعلیم کا معیار بھی بری طرح گرے گا…….کسی کو شک ہے تو ملک میں سرکاری اور نجی یونیورسٹیوں کے "جال "کے بعد کا "حال” دیکھ لے….ویسے بھی ملک کی سطح پر وفاق ایک ہی مرکز کو کہتے ہیں…شہر شہر وفاق بھی” نئے پاکستان "کی "نئی پیشکش” ہے……دیکھتے ہیں "گراس روس لیول "کا یہ "جدید فلسفہ” کتنی پذیرائی پاتا ہے؟؟؟

ہمارے پالیسی میکرز کی بھی اپنی ہی منطق ہے کہ عصری تعلیمی اداروں میں اسلامیات کا ضروری مضمون بڑی مشکل سے "ہضم” کرتے ہیں دینی درسگاہوں میں انگریزی اور سائنس پڑھانے کے خواب دیکھتے ہیں…..سادہ سی بات ہے کہ اگر کوئی اپنے بچوں کو انگریزی پڑھانا چاہتا ہے تو وہ انگلش میڈیم اداروں کا انتخاب کرے گا….اسی طرح اگر کوئی اپنے بچوں کو دین کی تعلیم دینا چاہتا ہے تو وہ دینی مدارس کا ہی رخ کرے گا……اگر عصری تعلیمی ادارے اسلامیات کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے تو آپ دینی اداروں پر سائنس کا وزن کیوں ڈالنا چاہتے ہیں….. جس طرح میڈیکل ایجوکیشن میڈیکل کالج اور انجنئیرنگ کی تعلیم انجئیرنگ یونیورسٹی میں ہی مل سکتی ہے،اسی طرح دین کا علم دینی ادارے سے ہی ملے گا……
جس طرح سائنس کی تعلیم کے لئے فوکس ضروری ہے اسی طرح دین کی تعلیم کے لئے یکسوئی لازمی ہے……کوئی جو اور جس طرح پڑھنا چاہتا ہے اسے پڑھنے دیں،یہی جمہوریت ہے……!!!!

ابتدائی تجزیے میں گذارش کی تھی کہ جو لوگ تین چار شہروں سے اسلام اخبار کامیابی سے نہیں چلا سکے وہ وفاق المدارس کی طرح ملک گیر ادارہ بمشکل چلا پائیں گے….اسلام اخبار کا ذکر آیا تو کوئی دس سال پہلے مسجد نبوی شریف کے مدرس قاری بشیر احمد صدیق سے ایک یادگار نشست یاد آگئی ……لاہور کے ایک مال میں ان کی خدمت میں بیٹھے ،میں نے مذکورہ اخبار پر "تنقیدی مقالہ "پڑھ سنایا…. انہوں نے عام مولویوں کی طرح” لال پیلا” ہونے کے بجائے ٹھنڈے دل سے میرا درد دل سنا اور میرے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے اسی وقت مفتی عبدالرحیم صاحب کا نمبر ملایا اور میری ان سے بات کرادی……مفتی صاحب کہنے لگے کہ کبھی وقت ملے تو کراچی آئیں…….کراچی جانا ہوا نہ حضرت سے ملاقات کا شرف……قاری بشیر احمد صدیق کون خوش قسمت ہیں؟ ان کی کہانی ان کی زبانی سن لیجئے….چند سال پہلے گلبرگ کے ایک ہوٹل میں افطاری کے بعد مسجد نبوی شریف کے اس مدرس کے ہاتھ پر ایک سوشل ورکر نے اسلام قبول کیا تو آنکھیں بھیگ گئیں..قاری صاحب خود بھی پرنم ہو گئے ….باپ کی طرح نو مسلم کے سر پر ہاتھ رکھا….ڈھیروں دعائیں دیں …قرآن مجید……جائے نماز اور مدینہ کی کھجوروں کا تحفہ دیا…..پھر دوران نشست کہنے لگے یہ سب اس قرآن کی برکت ہے ورنہ کہاں جنوبی پنجاب کے دور افتادہ گائوں کا ایک دیہاتی اور کہاں شہر مدینہ….؟؟؟سوچتا ہوں تو سر شکر سے جھک جاتا ہے……!!!!!. قاری بشیر احمد صدیق نے بتایا کہ پسماندہ سے دیہہ میں کھیتی باڑی کرتا تھا کہ اللہ کریم نے قرآن کی وجہ سے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں جا بٹھایا …… کلام اللہ کے باعث بارہ سال مراکش کا شاہی مہمان بنا……ایک دفعہ شاہ مراکش نے کہا کہ قاری صاحب دنیا کی جو چیز چاہئیے بتائیں……میں نے کہا کچھ نہیں چاہئیے بس ایک خواہش ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر کا مکین بن جائوں اور پھر مدینہ کی شہریت مل گئی……کہنے لگے ایک مرتبہ پاکستان کے بڑے پراپرٹی ٹائیکون نے عالی شان بنگلے کی پیشکش کرتے ہوئے چابیاں سامنے رکھیں تو اس سے کہا بھائی ہم تو اب جنت کے بنگلے میں جانے کی تیاری کر رہے ہیں…..اللہ کریم نے قاری بشیر احمد صدیق کو تجوید و قرآت میں وہ ملکہ عطا کیا ہے کہ عرب بھی ان کے سامنے سر جھکائے بیٹھتے ہیں…اندازہ کیجئے کہ جس استاد کے تین چار شاگرد بیت اللہ اور مسجد نبوی شریف کے امام ہوں وہ خوش قسمتی کے کس اعلی درجے پر فائز ہو گا……ایسے لوگ واقعی اللہ کے منتخب بندے ہوتے ہیں…..!!!!یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ قاری بشیر صاحب تقی صاحب کے بھی مداح ہیں اور مفتی عبدالرحیم صاحب کے بھی قدران ہیں…..وہ مدارس کے ساتھ ساتھ عصری تعلیمی اداروں کو بھی ضروری قرار دیتے ہیں……
اتفاق دیکھیے کہ دس سال پہلے اسلام اخبار بارے میرے موقف کی تصدیق آج اس اخبار کے ایک سابق مدیر کر رہے ہیں…..”روزنامہ اسلام” اسلام آباد کے سابق مینجنگ ایڈیٹر حفیظ اللہ عثمانی لکھتے ہیں :سوچنے کی بات یہ ہے کہ جو لوگ ایک روزنامہ اسلام کو سنبھال نہیں سکے وہ ایک بورڈ کیسے چلالیں گے ….یہاں تو کام کی نہیں چاپلوسی کی قدر ہے …..
مدیر سے ایک دلچسپ واقعہ یاد آگیا……..میں جناب نجم سیٹھی کی زیر ادارت اردو اخبار کے لئے مولانا فضل الرحمان کا انٹرویو کرنے گیا…..میرے ساتھ اسلام اخبار کے اس وقت کے مدیر جناب شاہد امین بھی تھے…..میں نے تعارف کرایا تو مولانا کا پارہ چڑھ گیا…..کہنے لگے پہلے ان سے کہیں کہ اپنے” اسلام "کا "قبلہ "درست کریں کہ یہ "کسی” کے کہنے پر ہمارا ہی "میڈیا ٹرائل "کر رہے ہیں….میں نے جان کی امان پاتے ہوئے عرض کی حضرت یہ صاحب نئے نئے کراچی سے لاہور آئے ہیں اور آپ کی محبت میں ادھر آگئے ہیں….
جامعہ اشرفیہ لاہور میں چار سو زائد علمائے کرام کے ملک گیر اجتماع کے بعد وفاق المدارس نے قرار دیا کہ حکومت کی طرف سے دینی مدارس کے جو نئے وفاق یا بورڈ منظور کئے گئے ہیں، وہ چونکہ مستقل بورڈ ہیں، جن کا دائرہ کار اور اہداف بھی مختلف ہیں….. جو مدارس ان نئے وفاقوں یا بورڈز سے ملحق ہو گئے ہیں، ان کا یہ عمل بذات خود وفاق المدارس سے علیحدگی کا متقاضی ہے ،لہذا ایسے مدارس کا وفاق المدارس سے الحاق ختم کر دیا گیا ہے……اس اجتماع میں جناب مفتی تقی عثمانی نے اپنا وزن وفاق المدارس کے پلڑے میں ڈال کر وفاق کو معتبر کر دیا تو مولانا انوار الحق ،مولانا قاري محمد حنیف جالندھری، مولانا مفتی سيد مختار الدین شاہ،مولانا فضل الرحیم اشرفی،مولانا اللہ وسایا،مولانا کفیل شاہ بخاری، مفتی محمدحسن،مولانا قاضی عبدالرشید،مولانا فیض الرحمن عثمانی،مولانا منظور احمد مینگل اور مولاناعبد الرؤف فاروقی ایسے جید علمائے کرام نے بھی اپنا ووٹ وفاق المدارس کے حق میں دیکر نئے بورڈز کو مسترد کر دیا……..وفاق المدارس نے اپنے” لاہور فیصلے "کی روشنی میں باقاعدہ طور پر کراچی سے جناب مفتی عبدالرحیم کی جامعہ رشید اور جناب مفتی نعمان نعیم کی جامعہ بنوریہ جبکہ پنج پیر صوابی سے جناب طیب طاہری کی جامعہ الامام طاہر دارالقرآن کو "خارج” کردیا…..ہمارے خیال میں وفاق المدارس کا یہ فیصلہ ہرگز غیر مناسب نہیں… سادہ سا اصول ہے کہ سکول اور کالج ہی بورڈ یا یونیورسٹی سے الحاق کرتے ہیں …….کوئی بورڈ کسی بورڈ سے یا ایک یونیورسٹی دوسری یونیورسٹی سے الحاق نہیں کرتی….اس فارمولے کے تحت وفاق المدارس کا فیصلہ قابل فہم ہے….بہتر تو تھا کہ "مجمع العلوم "اور "وحدت المدارس” کے لیے وفاق المدارس کو مزید مضبوط اور مربوط کیا جاتا….بہر کیف اب قابل صد احترام علمائے کرام کو باہم "دست و گریبان”ہونے کے بجائے تقی صاحب ایسے معتدل اسلامی سکالر کی دلیل سے روشنی لیکر نئے سرے سے سفر شروع کرنا چاہئیے……جو اللہ کے لئے چلےگا،منزل پا لے گا…….کسی نے کیا خوب کہا:

کیوں لڑیں ہم ایک ہی سنگ میل پر
یہ نقصان سفرتیرابھی ہے،میرابھی ہے

تبصرے