Urdu News and Media Website

10فٹ کی دوکان، ماہانہ کرایہ ایک ارب 25 کروڑ

تحریر:محمدعاصم حفیظ۔۔۔۔شیخوپورہ میں آج ایک حیران کن واقعہ ہوا۔  ایک چھوٹی سی دوکان کے ماہانہ کرایہ کی بولی ایک ارب 25 کروڑ لگائی گئی ۔

جی ہاں دوکان کی قیمت نہیں، کئی سالوں کے لئے بھی نہیں، ماہانہ کرایہ  ایک ارب 25 کروڑ ۔۔۔

ایسا کیوں ہوا ؟ کیا یہ دوکان واقعی اتنی قیمتی ہے ؟ یا ایک تاجر نے اپنی آبائی دوکان اور ” عزت” کی خاطر یہ بولی لگائی ؟

آئیے ذرا جائزہ لیتے ہیں۔میونسپل کمیٹی کی دوکانیں جوکہ سالہا سال سے تاجروں کے پاس تھیں ، سرکار ان سے ماہانہ کرایہ لیتی تھی ، ان کو دوبارہ کرایہ پر دینے کے لئے بولی لگائی جا رہی ہے ۔

جن تاجروں کی یہ آبائی دوکانیں ہیں ، کاروبار چل رہے ہیں وہ اپنے "اڈے” بچانے کے لئے سردھڑ کی بازی لگا رہے ہیں۔ جن دوکانوں کے کرائے مارکیٹ ویلیو کے حساب سے بھی چند ہزار ہی بنتے ہیں انہیں محض سیاسی چپقلش ، ذاتی اختلافات ، انا پرستی اور حسد کی بنیاد پر لاکھوں کی ” جعلی بولیوں” کے ذریعے  بہت زیادہ بڑھا دیا گیا ہے ۔

 

یہ بھی حقیقت ہے  کہ ان دوکانوں کے پرانے کرائے واقعی کم تھے، کچھ لوگوں نے سرکار سے دوکانیں لیکر آگے مہنگے داموں کرائے پر بھی دی ہوئیں تھیں  ، ان کرایوں کو بڑھانا ضروری تھا لیکن بولی کےطریقہ کار نے نے تو جیسے اخلاقیات کا جنازہ نکال کے رکھ دیا ہے۔

 مین بازار شیخوپورہ کی معروف دوکان ” گلشن کراکری” کی شہرت علاقے بھر میں  ہے ۔ اس خاندان کی نیک نامی اور اخلاق سے پورا شہر واقف ہے ۔ انہوں نے سرکار سے کرائے پر حاصل کی دوکان جو کہ 10 فٹ ہے اس کے ساتھ خود سے بھی خرید کر اپنا کاروبار وسیع کیا ہے ۔ بازار کی طرف موجود یہ دس فٹ دوکان ان کی مجبوری ہے کیونکہ باقی تعمیرات پیچھے ہیں ۔

 ذرائع کے مطابق چند حلقے ان کے ساتھ سیاسی اختلافات ، حسد ، انا پرستی کے باعث انہیں  آبائی دوکان سے محروم کرنا چاہتے ہیں ۔ اسی لئے یہ بولی  بڑھائی گئی ۔ ایک ارب 25 کروڑ تک بولی لگا دی گئی ۔

  گزشتہ روز چند دوکانوں کا ماہانہ کرایہ 50 لاکھ طے پایا ۔ اس بارے معلومات حاصل کیں تو پتہ چلا دراصل  کہ دراصل ذاتی رنجش کے باعث چند ایسے لوگ جن کا مقصد دوکانیں حاصل کرنا یا کاروبار کرنا نہیں تھا بلکہ وہ صرف ان تاجروں کو ” سبق سیکھانا” چاہتے تھے، ” نقصان ” پہنچانا چاہتے تھے ۔ انہوں نے بولی کو بڑھایا ۔ ایک دوکان کا ایک ارب 25 کروڑ اور چند معمولی دوکانوں کا 50 لاکھ ماہانہ کرایہ ، آپ کے لئے یقین کرنا واقعی مشکل ہو گا ۔ لیکن یہ سب ہوا ہے ۔

یہ کاروبار نہیں محض رنجش ہی تو ہے ۔ اسقدر بولی بڑھانے والوں کو کاروبار نہیں کرنا بس چلتے کاروبار کو روک کر اپنی انا کو تسکین پہنچانا تھی ۔۔ اسے کہتے ہیں ” نہ کھیڈاں گے نہ کھیڈن دیاں گے”

دراصل یہ ہمارے معاشرے کی اخلاقیات کا جنازہ ہے ۔ ہم کسی کے ساتھ حسد، انا پرستی ، سیاسی و ذاتی رنجش کی بنا پر اس حد تک گر جاتے ہیں ۔ ہر صورت ، ہر قیمت پر ، ہر طریقے سے ، ہر طرح سے نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ صرف اپنی انا کی تسکین کے لئے ۔  مقصد صرف یہ کہ فلاں کو سبق سیکھانا ہے ، اسے ایک بار ہرانا ہے ، اس کا مذاق بنانا ہے ، اس کی مجبوری کا فائدہ اٹھانا ہے ،اسے اپنے سامنے گرانا ہے ، اسکا حوصلہ توڑنا ہے ،  اپنی جھوٹی انا ، تکبر کو تسکین پہنچانی ہے اور بس ۔۔۔

یہ کرایہ ادا ہونا  بظاہر ناممکن لگتا ہے ۔ ہو سکتا ہے یہ بولی کا عمل ہی  ختم ہو جائے ۔ آنے والے دنوں میں جو بھی ہو لیکن اس واقعے نے ہماری اخلاقیات کا جنازہ نکالا ہے ،  ہماری معاشرتی روایات دراصل کس قدر بھیانک ہیں ، انہیں واضح کیا ہے ۔ ہم آپس میں کس قدر انا پرست ہیں ، حاسد ہیں ، رنجشوں کو کتنا پالتے ہیں ، کسی کو نقصان پہنچانے کی خاطر کس حد تک جا سکتے ہیں ، یہ واضح کر دیا ہے

 

نوٹ:نیوزنامہ پرشائع ہونے والی تحریریں لکھاری کی ذاتی رائےہے،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

تبصرے