Urdu News and Media Website

انتخابی اصلاحات

تحریر: ثنا ء آغا خان۔۔۔ کسی بھی ریاست کی عمارت اچانک منہدم نہیں ہوتی بلکہ اس کے پیچھے کئی محرکات کارفرماہوتے ہیں ،اگران محرکات کابغورجائزہ لیا جائے تو ایک ریاست کوزمین بوس کرنے میں ملوث کرداربھی بے نقاب ہوجاتے ہیں۔ہمارے ملک میں بدامنی کے واقعات کا”کھرا”بھی بدعنوانی اوربدانتظامی تک جاپہنچتا ہے۔بدعنوانی اوربدانتظامی کاسدباب کئے بغیر بدامنی ختم نہیں ہوگی ۔قومی وسائل کے درست اوربروقت استعمال جبکہ اہل قیادت کے انتخاب اوربے رحم احتساب سے پائیدارامن کے ساتھ ساتھ تعمیروترقی کی راہیں ہموارہوں گی۔مختلف طبقات کااحساس محرومی دوراورحکومت کے ساتھ ساتھ ریاست پراعتمادبحال ہوگا۔جہاں عوام کوان کابنیادی حق اورانصاف ملتا ہے وہاں تبدیلی کیلئے شہریوں کا شاہراہوں کارخ نہیں کرناپڑتا ۔حکومت انصاف کی فراوانی سے تحریک انصا ف کاگراف بلند کرسکتی ہے ،اگرپاکستان کے نوجوا نوں نے کپتان عمران خان کومینڈیٹ دیا تھا تواس کابنیادی سبب انصاف کی عدم دستیابی ہے لیکن سائل آج بھی انصاف سے محروم ہیں۔پاکستان کے انتخابی نظام کوسوفیصدشفاف قرارنہیں دیا جاسکتا،اس میں اصلاحات ناگزیر ہیں ورنہ مستقبل میں ہونیوالے انتخابات کی شفافیت بھی ایک سوالیہ نشان بن جائے گی ۔حکومت انتخابی اصلاحات کیلئے اہم سیاسی پارٹیوں سے سفارشات طلب کرے ۔ پاکستان میں جمہوریت کے دوام اوراستحکام کیلئے انتخابی اصلاحات کی ضرورت واہمیت سے انکار نہیں کیاجاسکتا تاہم اس کاراستہ منتخب پارلیمنٹ سے ہوکرجاتا ہے ۔اپوزیشن کیمپ میں بیٹھی چندمخصوص پارٹیاں انتخابی اصلاحات سے راہ فراراختیارکرنے کی بجائے بھرپور دلچسپی اورسنجیدگی کامظاہرہ کر تے ہوئے اپنے اپنے تحفظات اور اپنی اپنی سفارشات پیش کریں۔جولوگ کئی دہائیوں سے ووٹ کاحق استعمال نہیںکرتے،یقینا اصلاحات سے ان کاانتخابی نظام پراعتماد بحال ہوگااورکسی بھی منتخب حکومت کوخوداعتمادی اورخودداری کے ساتھ ڈیلیورکرنے میں آسانی گی۔ پاکستان میں پارلیمانی جمہوری نظام رائج ہے لہٰذاء دوررس انتخابی اصلاحات کیلئے پارلیمنٹ سے بہترکوئی پلیٹ فارم نہیں ہوسکتا۔ انتخابی اصلاحات کوسیاست کی نذر نہ کیاجائے،اگر اس بار بھی انتخابی اصلاحات کاراستہ ہموارنہ ہواتوپھر شاید آئندہ بھی نہ ہو۔ پارلیمنٹ کے آئینی کردار کی مددسے انتخابی اصلاحا ت کیلئے قانون سازی یقینی بنائی جائے ۔ پاکستان انتخابات میں دھاندلی کامتحمل نہیں ہوسکتا ۔ یقینااصلاحات سے عام آدمی کی انتخابی سیاست میں دلچسپی اورکامیابی کاراستہ ہموار ہوگا۔

ناکام ہونیوالی اقوام کی بعض مخصوص عادات انہیں ناکام بنا تی ہیں اوریہ اقوام زندگی کی دوڑمیںپیچھے رہ جا تی ہیں۔پاکستانیوں کا برسراقتدار آنیوالے ہرحکمران کواپنا نجات دہندہ سمجھ کراس کی غیر معمولی عزت ا فزا ئی کر نا اور پھر چندماہ بعد اس سے نجات کیلئے شاہراہوں پرآجانااور مخالفانہ نعرے لگانا ان کے سیاسی شعور پرایک بڑاسوالیہ نشان ہے۔ ان کی شامت اعمال کے باعث اللہ تعالیٰ ان پر اس قسم کے حکمران مسلط کر دیتاہے جو انہیں مارتے بھی ہیں اور رونے بھی نہیں دیتے۔احتجاج تک کرنے کاحق بھی ان سے چھین لیا جاتاہے ان کے حکمران ان کی آنے والی نسلوں تک کا رزق ہڑپ کر جاتے ہیں۔حکمرانوں کی ناقص معاشی منصوبہ بندیوں کے سبب پیدا ہو نے والے بچے بھی ناحق مقروض ہوتے ہیں۔ اس قرض کابوجھ ان کے کندھوں پرڈال دیا جا تا ہے جو ان بیچاروں نے لیا بھی نہیںہوتا اور نہ ہی ان کے ماں باپ اس قرض سے مستفید ہوئے ہوتے ہیں ۔ اگر بحیثیت قوم اپنا جائزہ لیاجائے تو یہ تمام برائیاں ہمارے اندر کوٹ کوٹ کربھری ہوئی ہیں۔ہمارے ہاں جمہوریت کو ایسا مقدس لفظ بنا دیاگیاہے کہ شاید اگر جمہوریت نہ ہو تو خدانخواستہ بربادی ہمارامقدربن جائے گی، خدانخواستہ ہمارا شیرازہ بکھر جائے گا۔ ہمیں باور کروایا جاتاہے کہ ہم سب کی بقاء اور سلامتی جمہوریت میں ہی مضمر ہے لیکن چودہ سوسال قبل اس قسم کی جمہوریت کاکوئی تصور تک نہیں تھا بلکہ نظام خلافت تھا۔ جمہوریت کو آمریت سے بہترقراردیاجاتا ہے لیکن یہ کس قسم کی جمہوریت ہے جس میں بائیس کروڑ عوام کے حقوق پر آٹھ دس سرمایہ دارسیاسی خاندانوں او ر مٹھی بھر اشرافیہ کاغاصبانہ قبضہ ہے اور یہ لوگ ملک وقوم کے سیاہ و سفید کے مختار بنے بیٹھے ہیں۔ ا ن پر کسی قانو ن اورضابطہ اخلاق کا ا طلاق نہیں ہوتا اوریہ عناصر قوم کے ٹیکسوں پرکسی مقدس گائے کی طرح پل رہے ہیں۔جہاں عوام زندگی بچانے اوربھوک مٹانے کیلئے ایڑیاں رگڑتے ہوں وہا ں ان کیلئے جمہوریت اورآمریت میں کوئی فرق نہیں رہ جاتا ۔پاکستان میںنظام کوئی بھی ہو عام آدمی کی زندگی سہل بنانے کاانتظام و اہتمام کرنا ہوگا ۔

ہماری جمہوریت کا دائرہ کار چندخاندانوں اورشخصیات کے گرد ہی کیوں گھومتا ہے۔ اگرحکمران اشرافیہ کابس چلے تو نادارومفلس پاکستانیوں کو روٹی کے نوالے سے بھی محروم کردیں ۔گھر گھر میں بھوک اوربیروزگاری کے باوجودان بیچاروں سے ٹیکس کے نام پر جگا ٹیکس وصول کیا جارہا ہے۔حالیہ چاردہائیوں نے کئی کرداراقتدارمیں آئے لیکن ان میں سے کوئی نہیں جس نے ڈیلیورکیا ہو ۔عوام نے ان میں سے ہرکسی کو اپنامسیحااور ہیرومانالیکن یہ زیرو آسانی سے زیرہوجاتے ہیں ۔ ریاست کی رٹ چیلنج کرنیوالے مسلح انتہاپسندعناصر کی سرکوبی اور حکومتی رٹ کو قائم کرنے کیلئے قانون کاطاقتوراورانصاف کوفعال کرناہوگا۔ پاکستان کے اندرونی وبیرونی دشمنوں کاگٹھ جوڑ پاکستانیوں پر ا ٓشکارہوا ہے ۔ بد عنوان عناصر کولگام ڈالی جبکہ بدانتظامی پرقابوپایاجائے ۔بدعنوانی اوربدانتظامی کے نتیجہ میں عام آدمی مہنگائی کی چکی پس ر ہے ہیں، شہریوں کی خوشحالی کیلئے دوررس معاشی اصلاحات کرناہوں گی ۔ہنرمندافرادکوباعزت روزگارکی فراہمی یقینی بنائی جائے ، کاروباری افراد کو بینکوں سے کاروبارکیلئے باآسانی اورآسان شرطوں پر قرض فراہم کئے جائیں،جو صرف اشرافیہ کو ملتا ہے اور وہ بھی ناقابل واپسی اور قابل معافی ہوتاہے۔

بڑے لوگوں کے ساتھ کچھ ٹریجڈیز بھی ہو جاتی ہیں ہمارے حکمرانوں کے پاس جہاں باوفااورباصفا افرادکافقدان ہوتا ہے وہاں پیشہ ور اقتدارپرست عناصر  انہیں ہروقت گھیرے ہوئے ہوتے ہیں ۔ آج عمران خان کے ساتھ وفاکادم بھر نیوالے زیادہ تر وہ لوگ بھی ہیں جوچندبرس قبل پرویز مشرف کے حق میں قراردادیں پاس کرنے اورانہیں بار بارباوردی صدرمنتخب کرنے کادعویٰ کیا کرتے تھے ۔ مخصوص مائنڈسیٹ کے حامل مفادپرست اوراقتدار پرست عناصر ہرحکمران کوبندگلی میں لے جاتے ہیں۔ہمارے حکمرانوں کویہ بات کون سمجھائے کہ خوشامداورچاپلوسی کرنیوالے لوگ دوست نہیں بلکہ بدترین دشمن ہوتے ہیںجوچرب زبانی سے انسان کی روح پرضرب لگاتے اوراس کی صلاحیتوں کو ناکارہ بناتے ہیں۔مشاورت اوراختلاف رائے کی آزادی سے زیادہ بہتراوردوررس فیصلے ہوتے ہیںلہٰذاء تنقیدکرنیوالے افراد کوغور سے سناجائے۔بدعنوانی کی طرح بدانتظامی بھی کسی ریاست کیلئے زہرقاتل ہے ۔ میں ٹی وہ پر ان لوگوں کوبھی عمران خان اور نوازشریف کے حق میں بولتاہوا دیکھتی ہوں جوکل تک پرویزمشرف کادفاع کرتے ہوئے بہت دورنکل جاتے تھے تومجھے تعجب ہوتا ہے ،کیونکہ کہاجاتا ہے جوسب کودوست ہوتاہے وہ کسی کادوست نہیں ہوتا ۔ ہمارے ہاں فوجی آمروں کوبراکہاجاتا ہے لیکن ان کی اقتدار سے رخصتی کے بعدجبکہ آمروں کی وکالت کرنیوالے بعدمیں منتخب حکمرانوں کاطواف کرتے ہیں تو انہیں سینے سے لگالیاجاتا ہے جبکہ دورآمریت میں بحالی جمہوریت کیلئے جدوجہد کرنیوالے کارکنان اپنے پارٹی قائدین کی طوطاچشمی کے شکوے کرتے سنائی دیتے ہیں ۔ فوجی ڈکٹیٹر ہویامنتخب حکمران ان کی شاہی سواری آنے پرشاہراہیں بند کر دی جاتی ہیں اور بیچارے ”اچھوت” عوام بھوکے ننگے سڑکوں پر کھڑے رہ جاتے ہیں،شاہراہوں پرجہاں بچے پیداہونے کی اطلاعات سننے اور پڑھنے میں آتی ہیں وہاں گاڑیوں کی بندش سے کئی شہری بھی بے موت مارے جاتے ہیں۔یہ سلسلہ بندہونا چاہئے کیونکہ حکمران مخدوم نہیں عوام کے خادم ہیں۔خلیفہ وقت حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ ایک روزتنہاکسی بازار سے گزررہے تھے ،انہیں کسی غیرملکی سیاح نے دیکھا توحیرت سے پوچھا آپ کے ساتھ کوئی محافظ نہیں ہے تو حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایاشہریوں کی حفاظت کرنامیرافرض منصبی ہے، وہ میر ے محافظ نہیں ہیں ۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ہرآنیوالی حکومت میں بدعنوانی اوربدانتظامی جانیوالی حکومت کے مقابلے میں کئی گنابڑھ جا تی ہے۔ دعاہے پاکستان کے عوام ہو ش کریں، انہیںسچ اور جھوٹ میں تمیز کرنا آ جائے ورنہ ہونی کو کو ن روک سکتاہے شاید ہماری نسلیں بھی حکمرانوں کے بچوں کی غلامی کرتی رہیں کیونکہ اقتداراور قومی وسائل پر ان کاقبضہ ہے۔

نوٹ:نیوزنامہ پر شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کی ذاتی رائے ہے،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

 

 

تبصرے