Urdu News and Media Website

شکرگزاری

تحریر: نادیہ مسکان۔۔۔

Nadia Muskaan
اپنی زندگی کا ابتدائی کالم آپ کی بصارتوں کی نذرکرتی ہوں،دعااور امید کرتی ہوں آپ کومیری کاوش پسندآئے ۔مجھے آپ کی طرف سے اصلاح کاانتظار رہے گا۔حالات حاضرہ پر بات کرنا چا ہوں گی میں نے اپنی اس چھوٹی سی زندگی میں یہ سیکھا اور جانا ہے کہ آج کے دور میں ہر انسان بے حد پریشان ہے ،کسی کو گاڑی نہ ہونے کا دکھ ،کسی کو گھر سے محرومی کا غم ہے تو کسی کو دو وقت کی روٹی پوری نہ ملنے کی پریشانی نے گھیراہوا ہے۔

آج کے دور میں ہر وقت ایک دوسرے سے اپنا مقابلہ کرنے کی دوڑ میں لوگ اس قدر مگن ہو چکے ہیں کہ اپنے لیئے توانہوں نے جیسے جینا ہی چھوڑ دیا ہو ،ہم ہر وقت دوسروں کو ہرانے اورگرانے،انہیں پچھاڑنے اورخود ان سے آگے نکلنے کےلئے دن رات اسی مقابلے میں خود کو مصروف کر چکے ہیں۔ خود کو اس قدرمصروف کرنے کی وجہ سے نہ تو مشکلیں حل ہوتی ہیں نہ ہی حقیقی خوشی اور کامیابی ملتی ہے۔ انسان دن بدن اپنی ساخت کھو رہا ہیں بلکہ یوں کہئے کھوکھلی کر رہا ہے لیکن اگر اب بھی انسان خود کو سنبھال اورسنوار لے تو اس کی بہت سی دشواریاں آسان ہو سکتی ہیں۔

میرے نزدیک اس کا نہایت آسان حل موجود ہے اور وہ ہے شکر گزاری اس سے ہمیں تین بہت بڑے فائدے حاصل ہوتے ہیں کہ ایک تو ہم اللہ پاک کی ذات کے بہت قریب ہو جاتے ہیں اس کے پسندیدہ بندے بن جاتے ہیں دوسرا احساس کمتری کا شکار نہیں ہوتے، احساس کمتری انسان کو اندر ہی اندر ختم کر دیتا ہے ایسا انسان بہت کم ہی خوش رہ پاتا ہے۔ اس کا احساس کمتری بعد میں اس کو حاسد بنا دیتاہے جس سے وہ اپنوں سے بہت دور ہو تاچلاجاتا ہے۔ اس سب کا حل صرف شکر گزاری سے ہی ہوسکتا ہے۔

صابر و شاکر انسان کبھی مایوس،دلبرداشتہ اور ناکام نہیں ہوتا اور اس کا تیسرا بڑا فائدہ زندگی جینا بھی آسان ہو جاتی ہے۔

انسان درگزر کرنا بھی سیکھ جاتا ہے اوروہ ہر حال میں خود کو خوش رکھنے کی کوشش میں لگ جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی آپ کے ساتھ برا کرتا ہے تو اس پہ بھی خوش ہو کہ شکر کریں، میرے معبود برحق تم نے مجھے مظلوم بنایا ظالم نہیں اگر کوئی دھوکا دے اس پہ بھی شکر اداکریں کہ اے اللہ عزوجل دھوکا کھانے والا بنایا دینے والا نہیں کیونکہ دھوکا کھانے والے کو کبھی نہ کبھی سکون مل جاتا ہے لیکن دھوکے دینے والے کوزندگی بھر دھکے ملتے ہیں ۔اللہ پاک کے ہاں ہر زخم کا مرہم ہے مگر دھوکا دینے والے کو اِس جہاں میںسکوں ملتاہے اور نہ اُس جہاںمیں قرارآتا ہے۔ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کے صابر و شاکر بندے بن کر زندگی گزاریں کیونکہ یہ ایک عام سی بات ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:

روحانیت

قصور وار ہم ہیں

انسان ہمیشہ دوسروں کو وہی دیتا ہے جس کی وہ اوقات رکھتا ہے اگر کوئی کسان ہے تو اس کے ساتھ بھلا کریں وہ آپکو ہمیشہ اپنی فصل میں سے کچھ دے گا ، کسی امیر انسان کا بھلا کریںوہ بدلے میں مالا مال کر دے گا اور اگر اسی طرح کسی نادارومفلس کے ساتھ بھلا ئی کریں گے تو وہ بدلے میں ڈھیروں دعائیں دے گا ۔لہٰذاءاللہ پاک کی ذات کا ہر حال میں شکر ادا کرنا چا ہئے بے شک وہ سب جانتا ہے جس کی ہم بساط نہیں رکھتے ،اس پر بھی اللہ پاک کا شکر ادا کریں ۔

یہ سب کچھ کرنے سے یقین جانیں زندگی ہمیں کافی حد تک پریشانیوں سے دور لے جاتی ہے۔ زندگی میں راحت اور سکون آجاتا ہے۔ دوسری بات ہم اس وقت تک کامیاب ہو بھی نہیں سکتے جب تک ہم دشواریوں اور پریشانیوں کو خود پر سوار کئے رکھیں گے۔ شکر گزاری اللہ پاک کی ایک ایسی کرم نوازی ہے کہ جس انسان نے بھی اپنائی وہ ایک تو اسے اللہ پاک کاقرب نصیب ہوا اور دوسراوہ انسان کبھی زندگی میں ناکام نہیں ہوتا۔

نوٹ: نیوز نامہ پر شائع ہونے والی تحریر لکھاری کی ذاتی رائے ہے، ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

تبصرے