Urdu News and Media Website

تاریخ تحریک آزادی کشمیر اور مسئلہ کشمیر پر پی ایچ ڈی کرنیوالے طلبہ کیلئے سکالرشپ ضروری

بھارتی دانشور اور محقیقین غیرمعیاری،یک طرفہ اور تاریخی حقائق کے برعکس تحقیق کے

ذریعے عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

اس کے توڑ کے لیے کشمیری اورپاکستانی دانشوروں، طلبہ اور محقیقین کو میدان عمل میں

نکل کر عالمی برادری کو اصل حقائق سے آگاہ کرنا ہوگا۔
محقیقین کو چاہیے کہ وہ مسئلہ کشمیر کی تاریخ کے حوالے سے اپنی تحقیق کا دائرہ وسیع کریں۔
تاریخ تحریک آزادی کشمیر و مسئلہ کشمیر پر پی ایچ ڈی کرنے والے طلبہ کیلئے خصوصی
سکالرشپ ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار سیکرٹری جموں وکشمیرلبریشن سیل امتیازاحمد
اور پنجاب یونیورسٹی شعبہ کشمیریات کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹرخواجہ زاہد عزیز نے ایک
خصوصی نشست کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر انچارج جموں وکشمیرلبریشن سیل ریسرچ ونگ سردارساجدمحمود، پروفیسر نصرت نثار
اور پروفیسر ڈاکٹر اصغراقبال بھی موجود تھے۔ امتیاز احمد نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی میں
قائم شعبہ کشمیریات اپنے مقاصد کے اعتبار سے نہایت فعال کردار ادا کررہاہے۔

یہ بھی پڑھیں:

مقبوضہ جموں و کشمیر؛ بھارت کی ریاستی دہشت گردی جاری!

کشمیریوں پر مظالم ڈھانے والے بھارتی فوجیوں پر پاگل پن کے دورے

شعبہ کشمیریات کے تحت تحریک آزادی کشمیر و مسئلہ کشمیر پر پی ایچ ڈی کرنے والے
طلبہ کیلئے خصوصی سکالرشپ مختص کرنے کی ضرورت ہے۔مسئلہ کشمیر کے تناظر میں ریسرچ
کے فروغ کیلئے جلد ہی پنجاب یونیورسٹی کے ساتھ مفاہمتی یادداشت عمل میں لائی جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ بھارتی دانشور تنازع کشمیر پر اپنی تحقیق کو یک طرفہ طور پر پیش کرتے
ہوئے دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس کا توڑ کرنے کے لیے ضرورت اس
امر کی ہے کہ پاکستانی دانشور اور خاص طور پر پی ایچ ڈی سکالرز اس تنازع کے حقیقی رخ
کو اجاگرکرنے کے لیے میدان عمل میں نکلیں۔ مستندتاریخی حقائق کی روشنی میں عالمی برادری
کو بخوبی آگاہ کرنے کی ضرورت ہے کہ بھارت نے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کر رکھاہے۔

اس موقع پر سیکرٹری جموں وکشمیرلبریشن سیل امتیاز احمداور چیئرمین شعبہ کشمیریات
پروفیسرڈاکٹرخواجہ زاہد عزیز نے ادارہ کی مطبوعات کاتبادلہ بھی کیا۔
لاہور(نیوز نامہ)

تبصرے