Urdu News and Media Website

باچا خان یونیورسٹی میں طلبہ اور طالبات کے اکٹھے بیٹھنے اور گھومنے پر پابندی عائد

چار سدہ (این این آئی)ضلع چارسدہ میں واقع باچا خان یونیورسٹی کی انتظامیہ نے کیمپس کی حدود میں طلبا اور طالبات کے اکھٹا بیٹھنے اور گھومنے پھرنے پر پابندی عائد کردی ہے۔یہ فیصلہ چند دن پہلے یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے جاری کردہ ایک اعلامیہ میں کیا گیا ٗ باچا خان یونیورسٹی کے چیف پراکٹر ڈاکٹر محمد شکیل کے دستخط شدہ مختصر اعلامیہ میں کہا گیا کہ یونیورسٹی کی حدود میں طلبا و طالبات کا ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے یا طالبات کا یونیورسٹی کے مرد ملازمین کے ساتھ گھومنے پھرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔اعلامیہ میں کہا گیا کہ انتظامیہ کی جانب سے کیمپس کی حدود میں سگریٹ نوشی کرنے، چھتوں پر چڑھنے، اور داخلہ لینے والے نئے طلبہ کے ساتھ ہنسی مذاق کرنے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے ٗاس کے علاوہ اعلامیے کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ نے کمیپس کی حدود میں مردوں کے چادر پہننے پر بھی پابندی لگا دی ہے۔ بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے ہوئے پراکٹر ڈاکٹر محمد شکیل نے کہا کہ ہم یونی ورسٹی کو کسی مدرسے کی طرح نہیں بنا رہے لیکن ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ طلبہ اور طالبات یونیورسٹی میں بلاوجہ فارغ بیٹھ کر وقت ضائع کریں۔دوسری جانب باچا خان یونیورسٹی کے ترجمان سعید خان نے بھی تصدیق کی کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے کمیپس کی حدود میں لڑکے لڑکیوں کا ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے پر پابندی لگا دی ہے ۔ترجمان کے مطابق باچا خان یونیورسٹی بھی ملک کے دیگر تعلیمی اداروں کی طرح ایک یونیورسٹی ہے جہاں مخلوط نظام تعلیم رائج ہے اور جہاں لڑکے لڑکیوں کا آپس میں بیٹھنا اور گھومنا پھرنا عام سی بات ہیتاہم انہوں نے کہا کہ انہیں خود بھی اس بات کی سمجھ نہیں آرہی کہ یہ پابندی کیوں لگائی گئی ہے۔ادھر سماجی رابطوں کے ویب سائٹوں پر باچا خان یونیورسٹی کی طرف سے جاری کردہ اعلامیہ کو بڑے پیمانے پر شئیر کیا گیا ہے جس پر صارفین کی جانب سے طرح طرح کے تبصرے کیے جا رہے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.