Urdu News and Media Website

میرا جسم میری مرضی کا نعرہ، ایک تنقیدی جائزہ

گزشتہ کئی سالوں سے 8 مارچ کو یوم نسواں بڑے ہی احترام سے منایا جا رہا تھا کہ
چند سال قبل اچانک کچھ گندی ذہنیت کی حامل خواتین کو ایک دورہ سا پڑ گیا اور وہ
چند گندے اور فحش پوسٹر لے کر سڑکوں پر نکل ائیں۔

لبرل اس لیے نہیں کہوں گی کہ لبرلز کے بھی کچھ ضوابط ہیں۔ یہ لتھڑی ہوئی خواتین
نہ جانے کن گلی کوچوں سے اٹھ کر آئیں اور پورے معاشرے کے سکون کو تہہ و بالا کر ڈالا۔

اللہ شاہد ہے! کہ یہ نعرے ایسے تھے کہ باپ بیٹی یا بھائی بہن تو دور کی بات،
میاں بیوی ایک دوسرے سے نظریں چرا رہے تھے۔ کیونکہ بہر حال اسلام
حیا کا علمبردار ہے۔ اسلام تو کھلے لفظوں میں کہتا ہے کہ،
” جب تم حیا نہ کرو تو جو چاہے کرو۔“ میں یہاں پر تمام تو نہیں ایک نعرے کا
ذکر ضرور کروں گی اور وہ نعرہ ہے،” میرا جسم میری مرضی“۔

ایک ٹی وی پروگرام کے دوران اسی حوالے سے گفتگو کے دوران خاتون سماجی کارکن

ماروی سرمد اور ڈرامہ نویس خلیل الرحمان قمر کے درمیان بد کلامی کے بعد سوشل میڈیا پر
اس حوالے سے ایک طوفان برپا رہا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال یہ ہے کہ
میرا جسم میری مرضی کا مطلب ہرگز کسی راہ چلتے شخص کے ساتھ جسمانی تعلق قائم
کرنے کی آزادی نہیں، اور نہ ہی اس کا مقصد بازاروں میں لنگی بنیان میں گھومنا،
یا سڑک کنارے ہاتھوں میں ڈھیلے اٹھائے حاجات ضروریہ بجا لانا ہے۔

نہ ہی اس نعرے میں کسی جنس کی تخصیص کی گئی ہے۔

خواہ مخواہ ایک معمولی سے تل کا تاڑ بنا دیا گیا ہے۔ تو ان کی خدمت میں دست بستہ

عرض یہ ہے!کہ اگر یہ نعرہ کوئی مرد بھی لگاتا ہے تب بھی یہ اتنا ہی فحش ہے جتنا کہ

ایک عورت کے لیے۔ اگر یہ نعرہ کچھ خواتین کے نزدیک فحش نہیں ہے تو بھی انہیں اس کی وضاحت
کرنا چاہیے کہ دراصل اس نعرے سے ان کی کیا مراد ہے؟ اوپر کی سطور میں
ماروی سرمد اور خلیل الرحمان قمر کی مشہور زمانہ منہ ماری کا حوالہ دیا جا چکا ہے۔
جس میں دونوں نے حیا کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیا تھا، اور ماروی سرمد کے،
” میرا جسم میری مرضی“ کے جواب میں خلیل الرحمان قمر نے ،

” میری زبان میری مرضی“ کا نعرہ مستانہ بلند کیا تھا۔

لیکن دو غلط مل کر صحیح نہیں ہو جاتے۔ہم ہرگز اس بات کے حق میں نہیں کہ
عورت کا جسم اور کسی اور کی مرضی ہو۔ یہ تو اور بھی گھٹیا بات ہو گی۔
ہمارا مقصد صرف اور صرف یہ ہے عورت صرف ایک جسم کا نام نہیں۔
عورت تو مقدس ہے۔اس قدر مقدس کہ عورت اگر بیوی کے روپ میں تھی،
تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خدیجہ اگر تم میری جلد بھی مانگتی تو میں اتار
کر دے دیتا۔ جب یہی عورت بیٹی کے روپ میں تھی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم
نے نہ صرف کھڑے ہوکر اس کا استقبال کیا بلکہ فرمایا میری بیٹی فاطمہ میرے

جگر کا ٹکرا ہے۔اور جب یہ عورت بہن کے روپ میں تھی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا کہ بہن تم نے خود آنے کی زحمت کیوں کی تم پیغام بھجوا دیتی میں
سارے قیدی چھوڑا دیتا۔ اور جب یہ عورت ماں کے روپ میں آئی تو قدموں میں
جنت ڈال دی گئی اور حسرت بھری صدا بھی تاریخ نے محفوظ کی،

فرمایا گیا! اے صحابہ کرام کاش! میری ماں زندہ ہوتی میں نماز عشاء پڑھا رہا ہوتا،
میری ماں محمد پکارتی میں نماز توڑ کر اپنی ماں کی بات سنتا۔ عورت کی تکلیف کا اتنا
احساس فرمایا گیا کہ دوران جماعت بچوں کے رونے کی آواز سنتے ہی
قرأت مختصر کردی۔

اے امت محمدیہ کی بیٹیو! تم بہت عظمت والی ہو!

تمہیں ان مارچ والی ان دوغلی خواتین
سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ یہ عورتیں ڈبل گیم کھیل رہی ہیں۔
یہ کہتی ہیں کہ جسم کے نعرے کا صرف جسم سے تعلق نہیں بلکہ ہم اصل میں عورتوں کو
ان کے حقوق دلوانا چاہتی ہیں۔ ان سے کوئی پوچھے کہ بھلے اس مارچ کا نام
عورت مارچ رکھ لو لیکن اپنے نعرے میں جسم کو مرکزی حیثیت دینے کی
پھر کیا ضرورت ہے؟

اس سے تو یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ہمارے معاشرے میں عورت کو صرف جسمانی پراڈکٹ
کے طور پر ہی استعمال کیا جاتا ہے‘ حالانکہ ایسی بات نہیں ہے۔
یہاں عورت ماں‘ بہن‘ بیٹی‘ خالہ‘ پھوپھی وغیرہ جیسے رشتوں کی وجہ سے پہچانی اور
مانی جاتی ہے جبکہ یہ عورتیں کہتی ہیں کہ ہم طلاق یافتہ ہیں اور ہم خوش ہیں۔
ہماری مرضی ہم شادی کریں نہ کریں بچے پیدا کریں نہ کریں۔ اس طرح کے نعروں
کے بعد تو لامحالہ یہ شک یقین میں بدلا جا رہا ہے کہ یہ مغرب کا ایجنڈا ہے جسے
یہاں پھیلایا جا رہا ہے۔ خواتین کو حقوق ملنے چاہئیں۔ اس سے کون انکار کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

آوارگی مارچ اور تاریخی پسِ منظر

عورت مارچ کے فنانسرز کون ؟پلاننگ اور ایجنڈا کس کا ؟ایمنسٹی انٹرنیشنل اور LGBT کا کردار

ویسے اس معاشرے میں مردوں کو بھی کون سے حقوق ملتے ہیں۔

چلیں اپنے ملک کو چھوڑیں امریکہ جیسے ملک کو دیکھ لیں جہاں آج بھی کالے مرد
اور کالی عورت کو نیچ سمجھا جاتا ہے۔ اگر امریکہ جیسا جدید ملک آج بھی نسلی تضاد
سے باہر نہیں آ سکا تو میری بہنو! یہ پاکستان ہے۔ یہاں ان خواتین یا مردوں کو
حقوق ملتے ہیں جن کے پاس سفارش‘ طاقت اور پیسہ ہوتا ہے۔ غریب اگر مرد
ہے اور سامنے امیر عورت ہے‘ کسی اعلیٰ عہدے پر فائز ہے تو غریب مرد کی کیا مجال کہ
اس کے سامنے چوں بھی کر سکے۔ لیکن یہ تصویر کا ایک رخ ہے۔

تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ گاؤں، دیہات اور چھوٹے شہروں اور قبائلی نظام کے
تحت زندگی گزارنے والی عورتوں کی زندگی واقعی قابل رحم ہے۔
ایک طرف وہ گھر کی معیشت چلانے کے لیے مردوں کے شانہ بشانہ کھیتوں میں
کام کرتی ہے، دوسری جانب گھر کی ذمے داریاں بھی ادا کرتی ہے۔ اس کے باوجود
وہ اپنے باپ، بھائی یا خاوند کی جھڑکیاں بھی سنتی ہے۔

جائیدا د میں اس کو حصہ نہیں دیا جاتا۔ شادی کے وقت اس کی مرضی نہیں پوچھی جاتی۔
قبائلی نظام کے جرگوں میں تو باپ، بھائی یا شوہر کے جرم کی سزا بھی عورت کو سنائی
جاتی ہے اور ان کے جرم کا ہرجانہ عورت سے وصول کیا جاتا ہے۔ ونی، کارو کاری
اور غیرت کے نام پر قتل اس کی مثالیں ہیں۔ خواتین کو ماں باپ کے ترکے اور
تعلیم سے محروم رکھنے‘ کم عمری کی شادی کے علاوہ کم سنی میں زیادتی کا نشانہ بنانے‘
پسند کی شادی پر زندہ گاڑنے اور سوارا‘ ونی، کاروکاری کے فیصلے سنانے والے

جاگیردار اور وڈیرے ملک میں ہر جگہ حتی کہ ایوانوں تک میں موجود ہیں

مگر مجال ہے کہ فارن فنڈڈ این جی اوز‘ انسانی حقوق کمشن اور ہمارے ترقی پسند میڈیا نے
ان عیاس و بدقماش ظالموں کے خلاف کوئی زور دارمہم چلائی ہو۔ اس بے ہودہ
رسم و رواج کو مذہب کی تائید و حمائت حاصل نہیں‘ یہ ہماری اسلامی تہذیبی و ثقافتی
روایات کا حصہ بھی نہیں۔ یہ موم بتی مافیا اور دو دو تین تین بار کے طلاق یافتہ یہ
نام نہاد فیمینسٹ آنٹیاں ہمیشہ ٹارگٹ مذہب کو کرتی ہیں اور پناہ سیکولرازم‘
لادینیت میں ڈھونڈتی ہیں۔  مگر حقوق نسواں کے نام پر صنفی امتیاز‘ مردوں سے
نفرت‘ عریانی و فحاشی ‘ جسم فروشی اور مادر پدر آزادی کی ترویج کی نہ تو حمائت کی

جا سکتی ہے نہ یہ معاشرہ اس کی اجازت دے گا۔ کشمیر اور بھارت میں خواتین
سے زیادتی کے واقعات پر مغربی میڈیا چیخ اٹھا ‘ بھارتی خواتین نے بھی
صدائے احتجاج بلند کی؛ مگر اب تک ان مظلوم خواتین کے حق میں ایک بھی
عورت مارچ نہیں ہوا۔خاندان کے اسلامی تصور کا ذکر کرتے ہوئے حقوق نسواں
کی علمبردار خواتین رہنماؤں کی زبان پر آبلے پڑتے ہیں۔
مردوں کے ذہن اگر تبدیل ہونے والے ہیں تو خواتین کو بھی بہت کچھ سمجھنے کی
ضرورت ہے۔ مسائل اور غلط فہمیاں دونوں طرف ہیں۔ برابری والی بات

سمجھ سے باہر ہے۔ چلیں عزت تو دونوں کو ایک دوسرے کی برابر کرنی چاہیے،
لیکن کہیں گاڑی کا ٹائر بدلنا پڑ جائے وہاں خواتین کیا کریں گی۔
کیا آپ نے آج تک زندگی میں کسی عورت کو گاڑی کا ٹائر بدلتے‘ مشقت
بھرے کام کرتے دیکھا ہے۔ مشقت بھرے مزدوروں والے کام مرد ہی
کر رہے ہیں۔ دیہات اور پہاڑی علاقوں کی عورتیں البتہ مردوں والے

سخت کام بھی کرتی ہیں اور بچے بھی پالتی ہیں‘ لیکن کبھی گلہ نہیں کرتیں۔

جبکہ شہروں اور پوش علاقوں کی یہ عورتیں جو مرد سے آزادی یا برابری چاہتی ہیں
انہوں نے تو شاید کبھی کانا بھی نہیں توڑا ہو گا۔ اگر جسم کی بات ہی کرنی ہے تو عورت
اور مرد کے جسم کی بناوٹ اور کپیسٹی ہی مختلف ہے۔ اگر اس کا جسم اس کی مرضی پر
چلتا ہے تو پھر اسے مردوں کے برابر نظر آنا چاہیے۔ یاد رکھیں! ایک مہذب
معاشرے میں زندگی حدود و قیود کے تحت ہی گزرتی ہے۔ رشتوں‘ ضابطوں اور

تہذیبی روایات کے برعکس مادر پدر آزادی صرف جنگل کے جانوروں کو دستیاب
ہے یا پھر لا دین اور بے خدا معاشرے کے حیوان نما انسانوں کو۔

پاکستان،خدانخواستہ جنگل ہے، اور نہ ہی خدا کی باغی ریاست، اس لیے یہاں زندگیاں
اسلامی اصولوں اور خدائی حدود کے تحت ہی گزارنا ہوں گی۔ جسے ان رہنما اصولوں پر
اعتراض ہے، اسے اجازت ہے کہ وہ یورپ یا امریکہ میں سے کوئی ایک جنسی جنگل
اپنے لیے منتخب کر لے۔
تحریر: انیلہ افضال ایڈووکیٹ ۔۔۔

انیالہ افضال

نوٹ: نیوز نامہ پر شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کی ذاتی رائے ہے، ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں

تبصرے