Urdu News and Media Website

سینیٹ انتخابات میں حکومت کوجھٹکا اور عمران خان کا بڑا فیصلہ

تحریر: صابر مغل۔۔۔۔۔

supreme court
سینیٹ الیکشن کا دن شہر اقتدار میں بر سر اقتدار پارٹی کے لئے کسی ڈراؤنے خواب سے کم ثابت نہیں ہوا

پاکستان میں ہمیشہ کرشمہ سازی کا ہی طوطی بولتا رہاہے

پاکستان تحریک انصاف کو مصیبتوں کی ماری عوام نے بے پناہ پذیرائی بخشی

مگر ان کی حکومت کی نصف مدت گزرنے پر عوام بدحال ہو چکی

یہی بد دعائیں شکست کی صورت میں سامنے آئیں اسے ہزیمت ملی اور بے پناہ ہزیمت ملی

مگر لگتا ہے خوشامدی پھر بھی وزیراعظم کو عوام سے مزید دور کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔

بنی گالا کی فضائیں ہی شاید عمران خان کو کوئی اچھی سر گوشی کر جائیں کہ جو کچھ ہو رہا ہے یہ وہ نہیں جو آپ نے عوام سے کہا تھا جو وعدے کئے تھے

راقم کی اطلاع کے مطابق ہر اچھی تجویز،تحریر،یا تعبیر عمران خان تک پہنچنے ہی نہیں دی جاتی

انہیں ان کے درباریوں نے اس سحر میں جکڑ رکھا ہے جس سے وہ باہر نکل ہی نہ پائیں گے

گزشتہ چند ماہ سے سینیٹ الیکشن کی بہت گہما گہمی تھی

عمران خان بھی اپنے امپورٹڈ وزیر خزانہ عبدالحفیظ کو اسلام آباد سے سینیٹ کا ٹکٹ دے دیا

ان کے مقابل پی ڈی ایم نے سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کولاکھڑا کیا۔

گیلانی کی جیت سے آصف علی زرداری نے جہاں ایک طرف پی ٹی آئی کو شرمناک صورتحال سے دوچار کیا وہیں اس نے مسلم لیگ ن سے بھی یوسف رضا گیلانی کو اقتدار سے باہر نکالنے کا بدلہ چکا دیا۔

یوسف رضا گیلانی کی جیت اور عبدالحفیظ کی شکست سے آنے والے دن حکومت کے لئے سخت ترین ثابت ہوں گے۔

حکومت اس بہت بڑے نقصان سے نفسیاتی طور پر شدید دبائوکا شکار ہو چکی ہے

ماہرین کے مطابق سینٹ الیکشن میں زرداری کا بیانیہ کامیاب رہا

کیونکہ انہوں نے مریم نواز اور مولانا فضل الرحمان کی جانب سے استعفوں کے آپشن کی سخت مخالفت کی تھی

اب پی ڈی ایم کو آصف علی زرداری ہی لیڈ کریں گے

احتجاج کے ساتھ ان کا سب سے بڑا ٹارگٹ تحریک عدم اعتماد ہوگا

چیرمین سینٹ جس کے لئے صادق سنجرانی اور یوسف رضا گیلانی کے درمیان بڑا جوڑ پڑے گا

اس کے بعدعمران خان کے خلاف تحریک اعتماد ان کی پلاننگ کا حصہ ہے

آصف علی زرداری نے نتائج کے بعد تو یہاں تک کہہ دیا کہ انہیں تو20ووٹ ملنے تھے کم ملے ہیں

یہ بات بھی گردش میں رہی کہ تب تک گیلانی بطور امیدوار تیار نہیں تھے جب تک انہیں جیت کے لئے تمام صورتحال سے آگاہ نہیں کر دیا گیا

مطلب سب کچھ پہلے ہی ہو چکا تھا

اگراب بھی حکومت نے ہوش کے ناخن نہ لئے اور عوام کو بد حال سے بد حال کرنیکا یہی وطیرہ اپنائے رکھا تواسے ایسے اور بہت سی کرشمہ سازیاں نصیب ہوں گی

جسے گھر میں شکست ہو جائے وہ کہیں اور کہاں کامیاب ہو گا؟اس کی کارکردگی کیا ہو گی؟

سینٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کرانے کے لئے حکومت ایوان میں بل لائی

ناکامی کی صورت میں23دسمبر کو سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا

پہلی سماعت 4جنوری کو ہوئی یہ سماعت چیف جسٹس جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے کی

6الیکشن اوپن بلیٹ سے کرانے کےلیے حکومت نے آرڈیننس بھی جاری کیا۔

الیکشن سے قبل سپریم کورٹ نے چارایک سے 8صفحات پر مشتمل رائے دی

جس میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس موقع پر دیانتدارانہ،منصفانہ اور شفاف انتخاب کو یقینی بنائے

الیکشن کمیشن جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرے

دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اگر قانون بدنیتی پر مبنی ہو تو مسائل جنم لیتے ہیں

مگر الیکشن کمیشن نے چیر مین الیکشن کمیشن سکندر سلطان کی سربراہی میں اجلاس کے بعد کہا پرانے طریقے سے ہی سینٹ انتخابات کرائے جائیںگے

ایک تو انہیں سپریم کورٹ کا فیصلہ موصول نہیں ہوا دوسرا وقت نہیں کہ ووٹنگ کا طریقہ کار بدلا جا سکے

حکومتی صفوں میں یہ یقین تھا کہ ان کے امیدوار کو180اور گیلانی کو 155ووٹ ملیں گے

اس معرکہ کے لئے حریفوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا

قومی اسمبلی میں341میں سے 340ووٹ کاسٹ ہوئے جس میں حیرت انگیز طور پر حکومتی امیدوار 164ووٹ ہی حاصل کر پائے

جبکہ یوسف رضا گیلانی نے 189ووٹ حاصل کرتے ہوئے حکومتی ایوانوں میں صف ماتم بچھا دی

17حکومتی ممبران نے پراسرار طریقے سے کام دکھا دیااسی ایوان میں پی ٹی آئی کی ہی امیدوار فرزانہ کوثر نے174ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی

اس شاندار کامیابی پر اپوزیشن کے کارکنوں نے ملک بھر میں جشن منایا جبکہ پی ٹی آئی کے سپوٹرز کی حالت مایوس کن رہی

ایسا کیوں ہوا یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں ،یہ کھلم کھلا ہارس ٹریڈنگ ہے

کسی کی بھی ہار جیت سے ہمیں کوئی سرو کار نہیں مگر جب ہمارے ایوانوں میں ہی ضمیر فروش ہوں جو اب نہیں جنہوں نے مسلم لیگ،پیپلز پارٹی کو بھی اپنے مفادات کے تحت ڈسا،تواس سے زیادہ شرم ناک بات اور کیا ہو گی

تاہم اس سنسنی خیز معرکے کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے انتہائی ڈرامائی فیصلہ کرتے ہوئے اعلان کر دیا کہ وہ ایسی نوٹوںوالی شکست سے نہیں گھبراتے نہ ہی وہ چوہوں کی طرح حکومت کر سکتے ہیں جس کو اعتماد نہیں کھل کرا ظہارکرے

اب قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ کیا جا چکا۔

ان کی جانب سے یہ بہت بڑا فیصلہ اور اخلاقی مورال کی نشانی ہے

غیر سرکاری نتائج کے مطابق اہم منتخب اراکین میں سندھ سے پی پی پی کے تاج حیدر،سلیم مانڈوی والا،شیری رحمان ،پلوشہ خان،فاروق ایچ نائیک،جام مہتاب حسین ڈھر ،شہادت اعوان

پی ٹی آئی کے فیصل واوڈا،سیف اللہ ابڑو،ایم کیو ایم پاکستان کے فیصل سبزواری ،خالدہ اطیب کامیاب ہوئے

سندھ میں ایم کیو ایم کے منحرف ارکان کی وجہ سے پیپلز پارٹی کو 4کی بجائے 5نشستوں پر کامیابی ملی

پاکستان تحریک لبیک نے صرف ٹیکنو کریٹس کو ووٹ دیئے

بلوچستان سے آزادامیدوار عبدالقادر، جے یو آئی (ف) کے مولانا عبدالغفور حیدری ،کامران مرتضیٰ ، محمد قاسم ،منظور احمد ،سرفراز احمد بگٹی،احمد عمر احمد زئی،،نسیمہ احسان ،ثمینہ ممتاز ،سعید ہاشمی اور دنیش کمار

عوامی نیشنل پارٹی کے ارباب ،عمر فاروق، بلوچستان میں پی ٹی آئی کا ایک بھی ذاتی امیدوار نہیں تھا

جبکہ حکومتی اتحاد نے آزاد امیدوار کی حمایت کے ساتھ 8نشستوں پر کامیابی حاصل کی

خیبر پختونخوا سے پی ٹی آئی کے شبلی فراز،لیاقت خان تراکئی ،فیصل سلیم رحمان،ذیشان خانزادہ محسن عزیز،ثانیہ نشتر،فلک ناز،دوست محمد محسود،گردیپ سنگھ

اے این پی کے ہدایت اللہ ،جے یو آئی کے عطا الرحمان منتخب ہوئے

سینٹ کی موجودہ صورتحال کے مطابق پی ٹی آئی 26نشستوں کے ساتھ پہلے نمبر پرپر آگئی

پیپلزپارٹی 20،مسلم لیگ (ن) 18،بلوچستان عوامی نیشنل پارٹی 12،جمیعت علمائے اسلام 5

ایم کیو ایم پاکستان 3،نیشنل پارٹی 2،اے این پی 2،پی کے میپ کے2سینیٹرہیں

مسلم لیگ (ق)،مسلم لیگ فنکشنل ،جماعت اسلامی ،بی این پی مینگل کے پاس1۔1جبکہ 6آزاد ارکان ہیں۔

سینٹ کے لئے پولنگ صبح نو بجے سے شام پانچ بجے تک جاری رہی۔

حکومت کی جانب سے زین قریشی اور اپوزیشن کی طرف سے گوہر بلوچ پولنگ ایجنٹ تھے ووٹوں کی گنتی تین بار کی گئی

کیا عجب بات ہے ریاست پاکستان کے وزیر مملکت رہنے والے شہریارآفریدی کو بھی نہیں پتا کہ سینٹ کا ووٹ کیسے ڈالنا ہے

کئی ووٹ مسترد ہوئے یہ کوئی بلدیاتی الیکشن نہیں تھا کہ ووٹ کینسل ہو جاتے

اصل میں یہ قوم کی بد قسمتی ہے کہ انہیں لیڈر ہی ایسے ملے ہیں

پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنماء نے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان اور زرتاج گل کے بھی ووٹ مسترد ہونے والوں میں شامل ہیں

ان کے نمائندے ہی اتنے قابل ہیں

سینٹ میں پہلے فاٹا کی نشستیں بھی تھیں مگر اس کے خیبر پی کے میں انضمام کے بعدوہ چار سیٹیں ختم ہو گئیں

2018میں منتخب ہونے والے باقی چار فاٹا سینٹرز2021میں فارغ ہو جائیں گے

اس وقت سینٹ104کی بجائے100ہو گا جس کے تحت ہر صوبہ سے 23۔23،اور وفاق سے4ممبران سینٹ کی زینت رہیں گے

ہر صوبہ کی 23میں سے 14جنرل ،4ٹیکنوکریٹس یا علماء ،4خواتین اور ایک ایک اقلیتی ممبر ہو گا

سینٹ انتخابات کے لئے قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیاں الیکٹورل کالج ہوتی ہیں

اس بار پنجاب واحد صوبہ ہے جہاں مک مکا ہونے کے بعد سینیٹرز منتخب ہو گئے

جس میں 5۔5 پی ٹی آئی ،مسلم لیگ (ن) جبکہ ایک سیٹ مسلم لیگ (ق) کے حصہ میں آئیں

پی ٹی آئی 2015میں پہلی بار سینٹ کا حصہ بنی۔

2018میں18سال بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) کو اکثریت حاصل ہوئی

یہ سب پیسے کا کھیل ہے ممبران کو بڑے بڑے ہوٹلز میں ٹھہرایا گیا

اسد عمر ،شاہ محمود قریشی ،شبلی فراز،فواد چوہدری ،شفقت محمود،حماد اظہر ،علی زیدی اور معاونین خصوصی شہزاد اکبر اور شہباز گل نے پریس کانفرنس کے دوران الیکشن کمیشن پر خوب چڑھائی کی اور پارٹی لائن سے ہٹ کر ووٹ ڈالنے والوں کو بے ضمیر کہا

اسد عمر نے کہا کہ ووٹوں کی خریدو فروخت کا عمل گذشتہ30سال سے جاری ہے

شاہ محمود قریشی نے دیگر وفاقی وزراء شبلی فراز،فواد چوہدری ،شیریں مزاری،حماد اظہر،علی زیدی ،اسد عمر اور معاونین خصوصی شہزاد اکبر اور شہباز گل کے ہمراہ کہا کہ قوم مایوس نہ ہو جلد پتا چل جائے گا کہ کون کہا ںکھڑا ہے

عمران خان کی جانب سے اعتماد کے ووٹ لینے کا فیصلہ بہادر انسان کی نشانی ہے ان کے خدشات درست ثابت ہوئے

گیلانی جیتے نہیں بلکہ الیکشن چرایا گیا

،بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جمہوریت ہی بہترین انتقام ہے عمران خان اب استعفیٰ دیں اب چیرمین سینٹ بھی ہمارا ہی ہو گا

مریم نواز شریف نے کہاجعلی مینڈیٹ عوام کے نمائندوں نے عمران خان سے واپس لے لیا ہے

مولانا فضل الرحمان نے کہا نئے انتخابات چاہتے ہیں وہ جعلی ہے جو اپنا اخلاقی جواز کھو بیٹھا

نبیل گبول نے تو رواں سال کو عام انتخاب کا سال قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایم کیو ایم نے حکومتی ارکان کو ووٹ نہیں دیئے

جماعت اسلامی کے مولانا عبدالاکبرچتراالی نے بھی ووٹ کاسٹ نہیں کیا

ہمارے سیاستدان بہت باخبر ہیں مگر اقتدار کی راہداریوں کے حوالے سے عوام سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے

عوام یہ بات ٹھیک طرح سے ذہن میں رکھیں کہ ہمیشہ وہ اپنا ہی مفاد اور اقتدار عزیز رکھتے ہیں۔

نوٹ:نیوزنامہ پر شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کی ذاتی رائے ہے، ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

تبصرے