Urdu News and Media Website

پنجاب میں جولائی2020ء سے اب تک ترقیاتی اخراجات کی مد میں جاری کردہ بجٹ کا 65فیصد استعمال

وزیر خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جواں بخت کی زیر صدارت سالانہ ترقیاتی پروگرام برائے مالی سال2021-22کا جائزہ اجلاس پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ میں منعقد ہوا۔

اجلاس میں چیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ عبداللہ سنبل، سیکرٹری خزانہ افتخار ساہو اور تمام محکموں کے سیکرٹریز نے شرکت کی۔

چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ نے اجلاس کو بتایا کہ رواں مالی سال میں ترقیاتی اخراجات کے لیے 337ارب روپے مختص کیے گئے تھے

وفاق کی جانب سے واجب الاداء ادائیگیوں کے بعد ترقیاتی بجٹ کا حجم بڑھ کر 346 ارب روپے ہو گیا۔

جولائی2020ء سے اب تک ترقیاتی اخراجات کی مد میں جاری کردہ بجٹ کا 65فیصد استعمال میں لایا جا چکا ہے۔

جاری سکیموں کے لیے مختص کردہ200ارب روپے میں سے129ارب جاری کیے گئے جن میں سے83ارب روپے خرچ کیے جا چکے۔

نئی سکیموں کے لیے مختص کردہ71ارب روپے سے 39ارب روپے جاری کیے گئے جن کا68فیصد استعمال ہو چکا ہے

دیگر ترقیاتی پروگرامز کے لیے جاری کردہ بجٹ کا67فیصداستعمال میں لایا جا چکا ہے۔

محکمہ لٹریسی اور نان فارمل ایجوکیشن اپنا 87فیصد بجٹ، اربن ڈویلپمنٹ 86فیصد، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ83فیصد

لیبر اور ہیومن ریسورس 79فیصد، سپورٹس اینڈ یوتھ افیئرز,79فیصد، انرجی 74فیصد، سپیشلائز ہیلتھ 73فیصد استعمال کر چکا ہے

باقی تمام محکمے 56فیصد سے زائد بجٹ استعمال کر چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:

لاہور: انویسٹی گیشن پولیس فیصل ٹاؤن کا بڑا کارنامہ

پنجاب بورڈ آف ریونیو اور ایف بی آر کی ٹیکس سلیب میں یکسانیت لائی جائے گی: صوبائی وزیر خزانہ

پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ پراجیکٹس میں اراضی کے حصول سے متعلق قوانین تاخیر کا سبب بن رہے ہیں۔

اجلاس میں مختلف محکموں کی جانب سے استعمال شدہ بجٹ اور زیر تکمیل سکیموں بارے تفصیلات بھی زیر بحث آئیں۔

صوبائی وزیر نے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ وہ مالی سال کے اختتام تک

ترقیاتی منصوبہ جات پر زیادہ سے زیادہ پیش رفت اور بجٹ کے استعمال کو یقینی بنائیں۔

پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ منصوبہ جات میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے جہاں ضروری ہو گا

قوانین میں ترمیم کروائی جائے گی اس ضمن میں حکومت پنجاب اپنے شراکت داروں کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرے گی۔

لاہور(بیوروچیف)

تبصرے