Urdu News and Media Website

پنجاب بورڈ آف ریونیو اور ایف بی آر کی ٹیکس سلیب میں یکسانیت لائی جائے گی: صوبائی وزیر خزانہ

پنجاب بورڈ آ ف ریونیو اور ایف بی آر کی ٹیکس سلیب میں یکسانیت لائی جائے گی ۔

ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے تحت ٹیکس وصولیوں کے لیےمنفعت بخش ٹیکسیشن کا ماڈل
متعارف کروایا جائے گا۔ عوام میں یہ شعور عام کیا جائے گا کہ میونسپل سمیت مقامی سطح
پر فراہم کی جانے والی تمام سروسز ٹیکس کے عوض مہیا کی جا رہی ہیں ۔

سروس ڈیلیوری میں بہتری عوامی اعتماد میں اضافے کو یقینی بنائے گی۔
پنجاب ریونیو اتھارٹی شہریوں کو آلودگی سے پاک صاف ستھرے ماحول کی
فراہمی کے لیے گرین ٹیکسیشن کو فروغ دے گی۔ محکمہ آ بپاشی کی نہروں کے ساتھ
منسلک زمین کو صوبائی وسائل میں اضافے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

بورڈ آ ف ریونیو بے زمین کسانوں کو زمین کی فراہمی کے منصوبہ پر عمل درآمد
کو یقینی بنائے گا ان خیالات کا اظہار وزیر خزانہ پنجاب نے آ ج محکمہ خزانہ میں
وزرا ء کمیٹی برائے ریسورس موبلائزیشن کے پانچویں اجلاس کی صدارت
کے دوران کیا۔ اجلاس کے دیگر شرکاء میں صوبائی وزیر برائے بورڈ آف ریونیو
ملک انور، صوبائی وزیر برائے زراعت حسین جہانیاں گردیزی،
سیکرٹری فنانس افتخار علی ساہو، ممبر ٹیکس بورڈ آ ف ریونیو ،
سیکرٹری ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن، چیئرمین پنجاب ریونیو اتھارٹی اور محکمہ آ بپاشی
اور فنانس کے متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
سیکرٹری فنانس نے اجلاس کو محصولات کی موجودہ صورتحال بارے بریفننگ دیتے
ہوئے بتایا کہ رواں مالی سال میں کوویڈ نے مجموعی طور پر صوبے کے
ذاتی وسائل کو متاثر کیا ۔

یہ بھی پڑھیں:

پریزائیڈنگ افسران کی گمشدگی، الیکشن کمیشن کا بڑا ایکشن

پولیس کا (ن) لیگ کے سینیٹ امیدوار عباس آفریدی کے گودام پر چھاپہ

ٹیکس اور نان ٹیکس وصولیوں کی شرح میں کمی آ ئی ۔

پی آ ر اے اور ایکسائز کی وصولیوں میں بہتری آ ئی۔ پی آ ر اے نے
گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 12فیصد جبکہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے
3 فیصد زائد ٹیکس اکٹھا کیا۔ بورڈ آ ف ریونیو میں وصولیوں کی شرح منفی رہی۔
سیکرٹری خزانہ نے امید ظاہر کی کہ مالی سال کے اختتام تک پی آ ر اے اور
ایکسائز ٹیکس وصولیوں کے ٹارگٹ مکمل کر لیں گے ۔

اجلاس میں ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ، بورڈ آ ف ریونیواور محکمہ آ بپاشی کے
ٹیکس اور نان ٹیکس محصولات کی مد میں وصولیوں اور صوبے کے ذاتی وسائل
میں اضافے کے لیے تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی
جانب سے پراپرٹی ٹیکس کے موجودہ ویلیو ایشن ٹیبل اور استثنیٰ پر نظر ثانی کی
تجاویز پیش کی گئیں ۔ محکمہ آ بپاشی کی تجاویز کو آ ئند ہ اجلاس میں نظر ثانی
تک موخر کر دیا گیا۔

صوبائی وزیر نے محکمہ خزانہ کو ہدایت کی کہ آ ئند ہ اجلاس میں
ریسورس موبلائزیشن کمیٹی اور کابینہ سے منظور شدہ تجاویز زیر بحث لائی جائیں
جن کا اطلاق اب تک ممکن نہیں ہوا۔ صوبائی وزیر نے محکمہ ایکسائز کو
گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ٹرانسفر کے لیے منظم میکانزم متعارف کروانے اور
جی ٹی روڈ کے لیے ٹیکسیشن قابل عمل ماڈل متعارف کروانے کی بھی ہدایت کی۔
لاہور( بیوروچیف)

تبصرے