Urdu News and Media Website

ایک چراغ جو برف نے بجھا دیا

تحریر:عاقب شہزاد

دنیائے کوہ پیما ‏کے عظیم مہم جو محمد علی سدپارہ برف پوش پہاڑوں کی آغوش میں ابدی نیند سو گئے۔ علی سدپارہ کے جذبہ جنون اور ان کی مہارت و ہمت کو سلام۔ ہم بچپن میں شوق سے برف کھایا کرتے ہیں اب معلوم ہوا برف بھی بندے نگل جاتی ہے۔
میں کئی دِنوں سے عالمی ہیرو محمد علی سدپارہ کی جرآت و بہادری اور مہم جوئی پر لکھنا چاہ رہا تھا لیکن ان دنوں بلکل فری ہونے کے باوجود بھی وقت نہیں مل رہا تھا اور ویسے بھی میں انتظار میں تھا ان کے واپس آنے کا انتظار لیکن ساتھ ہی ساتھ میرا دل کہتا تھا شاید یہ عالمی ہیرو اپنے اس سفر سے اگلے جہان کے سفر پر روانہ ہو جائیں گے اور اس ظلم وستم سے لتھڑی دنیا میں کبھی واپس نہیں آئیں گے کیوں کہ بوتلنیک سے جب انہوں نے ساجد کو واپس بھیجا میرا دل دھک سا گیا کہ۔۔۔
وہ اب واپس آنے کیلئے نہیں گئے
اگر واپس آجاتے تو عاشق نہ ہوتے وہ عاشق تھا پہاڑوں کا عاشق اتنی صعوبتیں سہہ کر تیز و تند طوفانی ہواؤں سے لڑ کر دشوار گزار موت کے رستے طے کر تے ہوئے بغیر کسی حکومتی سرپرستی کے اپنے معشوق برف پوش پہاڑوں کے نظاروں کیلئے گیا تھا۔
عاشق کبھی معشوق کا دیدار کر کے واپس آ نا نہیں چاہتا۔۔
دنیا کا کوئی عاشق "علی سدپارہ” کا قائم کردہ ریکارڈ توڑنا نہیں چاہے گا۔۔۔۔۔
اور اسی قسم کے عاشقوں کے نرالے انداز  ہوتے ہیں۔
ہم سب کے حصے کی محبت بھی نبھا گیا وطن کے عشق میں
جس کے سینے کے ساتھ جیب میں ہمیشہ وطن کا پرچم ہوتا تھا ہر وقت مہم جوئی اور سرفروشی کیلئے سر بکف تھا
یہ داستان عشق ہے وطن کے عشق میں کچھ کر گزرنے کا جنوں۔۔۔
موت کی وادی سے اتنی دیر کے بعد کوئی زندہ لوٹ کر نہیں آتا۔لیکن ایک خیال آتا تھا ہو سکتا ہے لوگ ٹھیک کہتے ہوں میں کوہ پیما نہیں ہوں نہ ہی مجھے کوہ پیمائی کی باریکیاں پتہ ہیں۔۔۔مجھے بس اتنا پتہ ہے کہ محمد علی سدپارہ وہ سخت جان شخص ہے جو کہتا تھا کہ اگر میں پہاڑوں میں کہیں کھو جاؤں تو بھی کچھ دن برف میں گھر بنا کے زندہ رہ سکتا ہوں وہ اتنی جلدی ہمت نہیں ہار سکتا اس کے ساتھی ہمت نہیں ہارسکتے میری آنکھوں سمیت بہت سی آنکھیں ان کے زندہ سلامت لوٹ آنے کی منتظر تھیں میرے کانوں سمیت بہت ساری سماعتیں اچھی خبر کی منتظر تھیں میرے دل سمیت بہت سارے دل ان کیلئے دھڑک رہے تھے مجھ سمیت بہت سارے لوگ ان کیلئے سجدوں میں رو رو کر زندگی مانگ رہے تھے۔ ان گنت دستِ دعا بلند تھے مجھے بس اتنا پتہ ہے کہ میرے رب کیلئے کچھ بھی مشکل نہیں ہے نہ ہی ناممکن سب ایک "کن” کی بات ہے میرے مولا کُن کہہ کر فیکون کر دے ہمیں اپنی رحمت کا معجزہ عطاء کر دے لیکن کہا نا عاشق جب معشوق کو دیکھ لے اُس کا دل نہیں کرتا واپس آنے کا یہ محمد علی سد پارہ کا عشق تھا پہاڑوں سے جو اب انہیں کبھی واپس نہیں آنے دے گا۔۔۔ خُدا باری تعالیٰ سد پارہ کو جنّت میں اعلیٰ ترین مقام سے نوازے اور گھر والوں کو صبر جمیل عطاء فرمائے
آمین ثم آمین!

نوٹ:نیوزنامہ پر شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کی ذاتی رائے ہے، ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

تبصرے