Urdu News and Media Website

ہر دشواری کے بعد آسانی ہے

تحریر:مدیحہ شوق۔۔۔۔غلاظت میں جو ڈوب کے ابھرے وہ گوہر ہے نہ کہ غلاظت میں پڑے بے مول موتیوں کا حصہ بن جائے لیکن موتی تو اپنی اہمیت کبھی نہیں کھو سکتا وہ تو کیچڑ میں بھی پڑا موتی ہی کہلائے گا
مغرب میں تو سورج ڈوب جاتا ہے مگر تصویر کا دوسرا رخ دیکھیں ذرا "سورج روز مغرب میں بھی نکلتا ہے”
خرابی خود میں تلاش کریں نہ کہ مغرب اور مشرق کو غلط صحیح کرتے کرتے خود کو اچھائی میں کھو کر سب غلط کر بیٹھیں!
خود کیلئے جینا!
خود کو نکھارنا!
اور خود کو سنوارنا!
سب اختیاری ہے مشکل ہے مگر کر گزرنے والا اس چڑیا کی مانند ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بچانے کیلئے پانی کے کچھ قطروں سے آگ بجھانے کی کوشش کرتی رہی اور حکم الٰہی سے آخرکار آگ گلزار ہوگئی.
سورج، مغرب، آگ یہ سب جذبات کی تشنگی کا استعارہ ہیں، سورج مغرب میں بھی نکلتا ہے، شرک کی آگ اندر کے آگ سے ہی نکلتی ہے سوچ کے زاویے ہیں.
سوچ وسیع اور ایمان میں خلقِ خدا کیلئے جگہ ہونا ہے فلاح پانے کا ذریعہ ہے ورنہ مشرق ہو یا مغرب سورج دونوں طرف ہی سب لے ڈوبتا ہے لیکن صبحِ صادق کی امید تو قیامت تک باقی رہے گی کیونکہ قرآن مجید میں ربِّ کریم کا فرمان ہے: "ہر مشکل کے بعد آسانی ہے” اور زور دے کر فرمایا: "بے شک ہر مشکل کے بعد آسانی ہے”

اقبال کا قول سچ ہے، اور آج شوقِ عشق بھی بول رہا ہے کہ سورج مغرب سے بھی نکل سکتا ہے

نوٹ:نیوزنامہ پر شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کی ذاتی رائے ہے، ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

تبصرے