Urdu News and Media Website

عربی لازمی کیوں؟

تحریر:امجد عثمانی۔۔۔۔ پارلیمان کے ایوان بالا نے وفاقی تعلیمی اداروں میں پہلی سے پانچویں تک عربی کو لازمی مضمون کے طور پر پڑھانے کا بل کیا منظور کرلیا،”ہارڈ لائنر لبرلز ” غصےسے”لال پیلے” اور "عربی لازمی کیوں "کے عنوان پر نت نئی کہانیاں گھڑ رہے ہیں.
کسی ایک "تحریری نشست "میں کہا تھا کہ” قدامت پسندوں” کو چھوڑیے وہ تو ٹھہرے ہی ضدی ،”روشن خیالوں” کا کیا کریں کہ وہ دوسروں کو جس کام سے روکتے ہیں وہی خود” ضدی بچوں” کی طرح کرتے ہیں…
عجب "خود پسند "لوگ ہیں کہ اپنے” کلین شیوڈ چہرے” اور پینٹ شرٹ پر تنقید برداشت نہیں مگر دوسرے کی ڈاڑھی اور پگڑی پر طنز” جائز "سمجھتے ہیں.
ان کے نزدیک انگریزی ضروری ہے مگر عربی کا کیا فائدہ”…..اندازہ نہیں تھا کہ یہ بات اتنی جلد سچ ثابت ہو جائے گی.
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر "روشن خیال” دکھائی دینے والے ایک دوست نے جناب رضا ربانی کو سینیٹ میں عربی بل کیخلاف تقریر پر سچا جمہوریت اور کھرا ترقی پسند قرار دیکر "خراج تحسین” پیش کیا ہے.
وہ اپنی پوسٹ میں لکھتے ہیں کہ سابق چیئرمین سینیٹ نے تعلیمی اداروں میں عربی زبان کو لازمی مضمون کے طور پر پڑھانے کے حوالے سے منظور ہونے والے بل کی بنا کسی لگی لپٹی کے بغیر مخالفت کر کے ثابت کر دیا کہ وہ منافقت اور جبر کے اس دور میں سچے ڈیمو کریٹ اور کھرے ترقی پسند پارلیمنٹرین ہیں.
پوسٹ کے مطابق بل کی مخالفت کرتے ہوئے رضا ربانی کا کہنا تھا کہ عربی کا اسلام، قرآن اور مسلک سے تعلق نہیں اور ہم سب الحمد اللہ مسلمان ہیں، ہمیں کسی سے مسلمان ہونے کے سرٹیفیکٹ لینے کی ضرورت نہیں.
انہوں نے کہا کہ عربی زبان کو ہم نہیں اپنائیں گے تو ہم اسلام کی دائرے سے باہر نہیں ہو جائیں گے، ریاست کی کوشش رہی ہے کہ پاکستان کی کثیر الثقافتی، زبان کے تنوع کو ختم کیا جائے.
رضا ربانی نے کہا کہ ریاست میں عرب کلچر لانے کی کوشش کی جا رہی ہے، بل کے ذریعے میری مادری اور علاقائی زبان پر عربی کو فوقیت دی جائے گی.
عربی کو لازمی زبان بنانے کا اسلام قرآن اور دو قومی نظریے سے کوئی تعلق نہیں، ریاست کی سوچ ہے کہ اسلام کو سیاسی ایجنڈے کے حصول کے لیے استعمال کیا جائے.
عربی زبان بطور آپشنل موجود ہے لیکن لازمی کیوں قرار دیا جائے کہ میں عربی لازمی پڑھوں.
رضا ربانی کی مدلل انداز میں کی گئی پر زور مخالفت کے بعد اس حوالے سے مزید کچھ کہنے کی ضرورت تو نہیں تاہم اتنا ضرور کہوں گا کہ ارباب اقتدار کا تعلیمی اداروں میں عربی کو لازمی مضمون کے طور پر پڑھانا طلبہ پر غیر ضروری بوجھ ہے.
عربی زبان خاص طور پر عربی گرائمر پر عبور خاصا مشکل اور محنت طلب کام ہے.
اپنی زبان و ثقافت کو نظر انداز کرتے ہوئے عربوں کی زبان و ثقافت کی ترویج کو کیا سمجھا جائے ؟؟؟؟
ربانی صاحب معتدل اور معقول سیاستدان ہیں….لگتا ہے کہ وہ کچھ باتیں” جوش خطابت "میں کہہ گئے…..وہ عالم فاضل آدمی ہیں ….یہ کیسے ہوسکتا ہے وہ نہ جانتے ہوں کہ عربی کا قرآن اور اسلام سے کتنا بنیادی رشتہ ہے….. قرآن مجید تو نازل ہی عربی میں ہوا.
اسے کلام اللہ بھی کہا جاتا ہے یعنی اللہ کریم کی گفتگو……مطلب یہ بادشاہوں کے بادشاہ کی زبان ہے.
حضرت محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اقرا سے والناس تک کتاب ہدایت کی ایک ایک آیت مبارکہ لیکر جناب جبرائیل امین کبھی مکہ مکرمہ تو کبھی مدینہ منورہ تشریف لاتے رہے.
نبیوں کے امام اور فرشتوں کے سردار کے درمیان عربی ہی "رابطہ زبان” رہی…..کتاب وسنت پر مبنی پورے کا پورا دین مبین اور احادیث پر مشتمل تمام علوم نبوی بھی عربی میں ہیں.
اصحاب پیمبر رضی اللہ عنہم اور آل رسول رضی اللہ عنہم کی بھی یہی زبان ہے…. عربی اللہ والوں کی زبان ہے اور کائنات میں عرش تا فرش سب سے زیادہ اسی زبان کی گردان ہے……
عربی کا دو قوی نظریے سے بھی گہرا تعلق ہے کہ تقسیم ہندوستان میں اسلام ہی بنیادی تشخص بنا….تب سے اب تک ” پاکستان کامطلب کیا….لاالہ الااللہ”کا وادی فاران والا نعرہ ہی گونج رہا ہے.
اسلام کا سرٹیفیکیٹ کلمہ طیبہ بھی عربی میں ہے جبکہ عربی اپنانے سے دل میں اسلام کا دائرہ اور کھل جاتا ہے……
ویسے بھی اگر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلام کی زبان کی بات نہیں ہوگی تو کیا نریندر مودی کے ہندوستان میں اس کے ترانے بجیں گے؟؟؟؟
اگر مسلمان بچے بھی اپنے دین کی زبان نہیں سیکھیں گے تو کیا سکھوں کے بالکے اس کے گن گائیں گے؟؟؟

ہمارا نہیں خیال تھا کہ ہمارے "شدت پسند لبرلز” اتنے "کوتاہ فکر "ہونگے کہ اسلام کی زبان کو” آل سعود” کی زبان سمجھ کر آسمان سر پر اٹھا لیں گے…..

بھلا کوئی ان سے پوچھے عربی زبان میں عرب کلچر کہاں سے آگیا….کیا اسلامی زبان و ثقافت سے آگاہی اچھی بات نہیں….کیا دنیا بھر کے مسلمان عربی سیکھ کر کسی سعودی بادشاہ کی مدح سرائی کرتے ہیں….؟؟نہیں بھائی وہ عربی میں قرآن کے نغمے گاتے اور شاہ مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قصیدے پڑھتے ہیں…
وہی بات جو صرف سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہی کہہ سکتے ہیں….جناب فاروق اعظم نے حجر اسود کو مخاطب کر کے کیا خوب فرمایا تھا کہ مجھے پتہ ہے تو پتھر ہے… اگر تجھے میرے آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بوسہ نہ دیا ہوتا تو میں تجھے کبھی نہ چومتا……..واللہ !عربی زبان بھی اللہ کریم اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان نہ ہوتی تو کون اس کو چوم چوم کر پڑھتا….؟؟یہ عالی شان نسبت ہی عربی کی فوقیت کی وجہ ہے….!!!

ہمارے "روشن خیال ” بھائی یہ بھی منطق پیش کرتے ہیں کہ انگریزی سائنس اور ٹیکنالوجی کی زبان ہے، اس لیے یہ ضروری ہے… درست فرماتے ہیں مگر پھر عربی تو دین کی زبان ہے ، وہ کیوں لازمی نہیں ہو سکتی؟؟اگر یہ دلیل مان لیں کہ سائنس، سائنس کی زبان کے بغیر سمجھ نہیں آسکتی تو پھر دین ،دین کی زبان کے بغیر کیسے سمجھ آ سکتا ہے؟؟اگر اقبال اور غالب استاد کے بغیر نہیں کھلتے تو دینی امور کسی عالم دین کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیے بغیر کیسے واشگاف ہونگے…اسی لیے زندگی کے ہر شعبے کی ماہر کی طرح علمائے کرام کی اہمیت بھی مسلمہ ہے….
کوئی شک نہیں اردو ملک کی اکائیوں کو وحدت کی لڑی میں پروتی ہے…پنجابی بولنے سے سرحد کے آر پار پنجابیوں کے دل جڑتے ہیں تو پھر عربی بولنے سے دنیا بھر کے مسلمانوں کی مرکزیت میں کوئی شائبہ کیسے ہوسکتا ہے ؟؟
کچھ دن پہلے لاہور پریس کلب میں بیٹھے پنجابی کے خوب صورت شاعر جناب بابا نجمی بتا رہے تھے کہ 21فروری کو ماں بولی کا دیہاڑ منانے جار ہے ہیں….ہم خوشی کے اس تہوار پر بابا جی کے شانہ بشانہ ہیں …..
ماں بولی دیہاڑ سے یاد آیا کہ ہماری پنجابی، سندھی، بلوچی اور پشتو بولنے والی مائیں تو اپنی صبح کا آغاز تلاوت قرآن کی صورت عربی سے کرتی ہیں تو پھر ماؤں کی "دینی زبان” یعنی عربی کا دن منانے میں کیا حرج ہے؟؟؟؟
قومی زبان کی بات کریں تو یہ ویسے بھی عربی کو خوب اپنے دامن میں سجائے ہوئے ہے…. اردو کی لغت اٹھا کر دیکھ لیں عربی الفاظ سے مزین نظر آئے گی….ہمارے کئی شاندار اردو لکھنے والے” لبرل دانشور” بھی اپنی تحریروں میں عربی کے ثقیل الفاظ استعمال کر کے دوسروں پر دھاک بٹھاتے ہیں اور پھر اسی عربی کیخلاف بھاشن بھی دیتے ہیں…..کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟؟؟ عربی کا ذکر آیا تو ایک "صحافتی لطیفہ "بھی سن لیجیے…..مجھے ایک مرتبہ ایک بڑے عالم دین کا حج کے موضوع پر فورم کرنا تھا…..ایڈیٹر صاحب نے میرے ساتھ ایک اچھے بھلے رپورٹر کو بٹھا دیا ….اسلامی سکالر حج کی اصطلاحات بیان کرنے لگے تو رپورٹر صاحب میری طرف دیکھنے لگے…. میقات اور تلبیہ پر سوچ میں پڑھ گئے کہ کیسے لکھوں…حج قارن اور تمتع پر گھبرا گئے کہ یہ بھی کوئی الفاظ ہیں….یوم الترویہ اور یوم النحر پر پسینے چھوٹ گئے کہ کیسی رپورٹنگ سے واسطہ پڑگیا…….انٹرویو کے بعد عزت مآب عالم دین بولے بھائی یہ کیسے صحافی ہیں؟میں نے عرض کی حضرت یہ دینی جماعتوں نہیں نیب اور ایف آئی اے کے رپورٹر ہیں…..پلی بارگین اور سائبر کرائم ایسی ٹرمینالوجیز لکھنے کے ایکسپرٹ ہیں…….
بہر کیف قومی زبان سر آنکھوں پر کہ کسی بھی ملک کی پہچان ہوتی ہے،مادری زبان پر وارے وارے کہ ماں بولی کی مٹھاس ہی اپنی ہے لیکن یاد رکھیں کہ عربی بھی پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری سی زبان ہے جن پر ہمارے ماں باپ قربان…….اب اس کا مقام یہی ہے کہ اس مقدس زبان کے سامنے پلکیں بچھائی جائیں….!!!یہی "عربی لازمی کیوں” کا جواب بھی ہے…..
اللہ کے پسندیدہ اور آخری دین اسلام کی زبان ہونے کے باعث عربی "زبانوں کی امام” ہے….کسی زبان کا اس سے تقابل ہے نہ کوئی ثقافت اسلامی کلچر کے ہم پلہ….بکھیڑوں میں الجھے کسی دانشور کے من گھڑت مغالطوں میں نہ پڑیں….فتنوں کے اس دور میں اپنی اولاد کو قرآن بطور مضمون پڑھانے کے لیے پورے اہتمام کے ساتھ عربی سکھائیں کہ قبر میں ایک دو منٹ کی خاموشی نہیں دو چار منٹ کی تلاوت ہی کام آئے گی…..!!!
شاعر مشرق بھی یہی بات کہہ گئے

وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہو کر
اور ہم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر

تبصرے