Urdu News and Media Website

گھبرانا نہیں، دل ابھی دھڑکتے ہیں

تحریر:عتیق الرحمان خاں۔۔۔۔
گھبرانا نہیں کا لفظ ہر کسی کی زبان پر آج کل عام ہے کچھ اس کو مثبت اور کچھ اس کو طنزکے طور پر گردان رہے ہیں سیاسی طور پر جس کیساتھ آپ کی وابستگی ہوگی یہ لفظ اسی کے تناظر میں آپکو معنی دیتا نظر آئے گاکسی کو کوئی بات سمجھنے کیلئے اسکی گہرائی تک پہنچنے کے لئے اپنی پسند نا پسنداور وابستگیوںکے حصار سے باہر نکلنا بہت ضروری ہوتا ہے۔
آج کے موضوع کے مطابق بھی ہمیں ہر چیز کو بلائے طاق رکھتے ہوئے انسانیت کے جذبہ کو ابھارنے کی اشد ضرورت ہے۔ہر کسی کو اپنے ہم عصر لوگوں میں بیٹھنا بہت اچھا لگتا ہے بچہ بچوں میں اور عمر رسیدہ اپنے ہم عمروں میں بیٹھ کر لطف اندوز ہوتے ہیں مگر جب کلاس فیلوز اور بچپن کے یار مل جائے تو پھر دوستوں کے پائوں زمین پر نہیں لگتے۔
اور پھر یہی وہ یار یا دوست ہوتے ہیں جن کی محبتیں بے لوث ہوتیں ہیں باقی دنیا داری میں تو دوستی کا معیار مفادات کی بنیاد پر رکھا جاتا ہے اگر آپ اچھی سیٹ پر برا جمان ہیں تو ہر دیکھنے والے اور آس پاس کے حلقہ احباب کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ جس طرح بھی ہو آپکے ساتھ تعلقات کو آگے بڑھایا جائے اور آپ کی قربت حاصل کی جائے۔
اپنے انہی مقاصد کی تعمیل کے لئے بعض شاطر لوگ جائز ناجائز ہر حربہ استعمال کرنے سے بھی نہیں گھبراتے اور بہت سے سادہ لوح پھر جب ان کے چنگل میں پھنس جاتے ہیں تو پھر زندگی ان کو کوئی نہ کوئی نیا سبق سکھا کر دم لیتی ہے۔ہمار لئے بھی آج ایک خوشگوار شام تھی کہ ایک کلاس فیلو کی کال نے سب پروگرام ملتوی کروا کر گھر میں انتظار کا جواز پیدا کر دیا۔
حسب پروگرام صاحب گھر تشریف لائے چائے کی ٹیبل پر باتوں کے دوران انھوں نے اظہار کیا کہ آجکل کچھ طبیعت ناساز ہے اور پریشان ہوں ہم نے بھی پاکستانی ہونے کا بھر پور موقع ہاتھ سے نا جانے دیا اور فوراََکئی ڈاکٹر اورحکماء کے نام گنوا دیئے اور ساتھ چلنے کے لئے تیار ہوگئے۔
ڈاکٹروں کے ٹیسٹوں کی بھر مار سے موصوف پہلے نالاں تھے جس پر اتفاق اس بات پر ہوا کہ حکیم صاحب کو چیک اپ کروایا جائے صاحب کو ساتھ لیکر ایک جاننے والے حکیم صاحب کے پاس کریم پارک میں جا پہنچے جہاں پر مریضوں کارش دیدنی تھا کرونا کی وباء کے باوجودحکیم صاحب کے مطب میں تل دھرنے کو جگہ نہ تھی ہم نے بھی حسب ضابطہ ٹوکن لیا اور انتظار کرنے والوں کی پارٹی میں جا بیٹھے۔
کوئی دو گھنٹے انتظار کے بعد خدا خدا کر کے ہماری باری بھی آن پہنچی ہم نے بھی دوسرے انتظار کرنے والوں کی طرح ایک لمبی سانس لیکر خدا کا شکر ادا کیا اور باری آنے پر ایک عجیب سے خوشی بھی محسوس ہوئی شاید اس کو بیان کرنے کیلئے الفاظ نہیں ہیںحکیم صاحب نے تفصیلی چیک اپ کیا رپورٹس دیکھیں اور نبض پر ہاتھ رکھ کر بتانا شروع کیا کہ آپ کی ٹانگوں میں خون کی گردش ٹھیک نہیں ہے تھوڑا چلنے پر آپ کے پائوں میںدرد شروع ہوجاتی ہے دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے اور یہ سب آپ کا خون گاڑھا ہونے کی وجہ سے ہو رہا ہے اب یہ وہ سب باتیں تھیں جو کسی بھی حکیم کے پاس جائیں تو سننے کو عام ملتی ہیں ہم نے بھی روٹین کی باتیں سمجھ کر ایک کان سے سنی دوسرے سے نکال دیں اب چونکہ کافی مشقت کے بعد اس مرحلے تک پہنچے تھے تو دوائی لینا تو پھر فرض تھاتو اس فرض کو پورا کرنے کیلئے ہم نے دوائی کوبھی دوائی سمجھ کر وصول کیا اور گھروں کی راہ لی دو تین دن بعد میں نے فون کرکے صحت کے بارے میں دریافت کیا تو صاحب نے کہا یار وہ دوائی مجھے کچھ سوٹ نہیں کی اس لئے میں نے ٹھیک طریقہ سے کھائی نہیں میں نے بھی ان کی طبیعت کو جانتے ہوئے ان کی ہاں میں ہاںملانے میں ہی خیر سمجھی۔وقت گزرتا گیا زندگی کی مصروفیت میں ایک دوسرے کا حال نا دریافت کر سکے پھر اچانک ایک دن صاحب کی کال موصول ہوئی کہ پائوں کے انگھوٹھے کی ساتھ والی دونوں انگلیوں میں زخم ہونے کیوجہ پیپ بہنا شروع ہو گئی ہے اور تکلیف کیوجہ سے کئی دنوں سے سو بھی نہی سکاتکلیف کی شدت کے باعث جناح ہسپتا ل کے سرجن صاحب کے پاس پرائیویٹ چیک اپ کروایا تو انھوں نے سی ٹی سکین ایڈوائس کی ۔
میں ہسپتال پہنچا۔سی ٹی سکین کا رزلٹ دیکھ کر تو ہوش اڑ گئے کہ دائیں ٹانگ کی تین نالیاں خون جم جانے کی وجہ سے بند ہو چکی ہیں اور اس کو گینگرین کے نام سے منسوب کیا گیا گینگرین ایک ایسی بیماری ہے جس کا واحد حل ہی متاثرہ اعضاء کو جسم سے الگ کرنا ہوتا ہے اور یہ بیماری دنوں میں نہیں گھنٹوں میں جسم کے مختلف حصوں میں اثرانداز ہوتی ہے۔
وینز کے پروفیسر صاحب سے مشورہ لیا تو انھوں نے ٹانگ کو گھٹنے کے نیچے سے کاٹنے کا لکھ دیاڈاکٹر صاحب تو لکھ کر چلے گئے مگر یہاں پر سوچوں اور پریشانیوں کے انبار چھوڑ گئے۔گھر والے تو اپنی جگہ میں نے اپنے کلاس فیلوز کیساتھ رابطہ کرنے اور اس سنگین صورت حال سے آگاہ کرنے اور مشاورت کرنے میں ہی بہتری جانی۔
دوستوں کو بتانے کیساتھ ہی مشاورت کا ایک طویل مرحلہ شروع ہو گیا اعظم صاحب کے بھانجے امریکہ میں میڈیسن کے پروفیسر ہیں ان سے رابطہ کر کے ساری صورتحال سے آگاہ کیا وہ چونکہ میڈیسن کے پروفیسر تھے اور یہ وینز کا مسئلہ تھا تو انھوں نے اپنے وینز کے پروفیسر دوست کے ساتھ مشاورت کیلئے سی ٹی رپورٹس منگوا لیں اور اگلے دن پروفیسرز کی ایک ٹیم نے ویڈیولنک کے ذریعے پائوں کا معائنہ کیا اور پھر ان کی رائے بھی وہی نکلی کہ جو جناح ہسپتال کے پروفیسر صاحب نے کہا ہے وہی کرناہی اس بیماری کا واحد حل ہے۔باقی دوستوں نے بھی لوکل سطح پر اپنے تعلق والے دوستوں کیساتھ مشاورت کی مگر سب کی رائے ایک ہی نکلی کہ ٹانگ کو کاٹ دینا ہی جان بچانے کا واحد حل ہے۔
اگلے دن ٹانگ کو کاٹ دیا گیا تمام رشتے دار یار دوست اس کام کے سامنے بے بس تھے۔دوستوں کاتو حوصلہ نہیں پڑ رہا تھا کہ اس کو کس طرح تسلی دی جائے۔لیکن قدرت کے اس کام کے سامنے سب نے سر تسلیم خم کر لیا اب مرحلہ شروع ہوا کہ یا جس طرح بھی ہو ان کی کسی نا کسی طریقہ سے خدمت کی جائے۔ملک میں موجود اور ملک سے باہر کلاس فیلوز نے جس میں عبدالرزاق صاحب نے اور چوہدری اختر صاحب نے بھر پور تعاون کیا وقار عظیم صاحب اپنی ٹیم کے ہیڈ کی حیثیت سے ٹرینگ کے دوران ٹائم نکال کے بھر پور تعاون کیا۔
اور خاص کر جس بات نے یہ مجھے لکھنے پر مجبور کیا کہ اس گئے گزرے دور میں بھی انسانیت اور دوستی ختم نہیں ہوئی ۔حافظ عرفان صاحب نے اور چوہدری اختر صاحب نے اپنی علالت کے باوجود اپنی حاضری کو یقینی بنایا۔
شبیر صاحب نے اس سارے کام کو زندہ رکھنے میں بھر پور کردار ادا کیاسب دوستوں نے ہسپتال سے فارغ ہونے پر ان کے گھر جاکر اپنی طرف سے بھر پور تعاون کا یقین دلا یا۔
ایک دوست نے ان کی مصنوعی ٹانگ لگوا نے کے تمام خرچہ کو بھی پورا کرنے کی ذمہ داری لی۔یہ تمام کارووائی دیکھ کر میں بہت دیر تک اور اب بھی سوچتا ہو ں کہ ہر کوئی کہ رہا ہے کہ ہر طرف قیامت کا سماں ہے نفسا نفسی کا دور ہے کوئی کسی کو پوچھنے والا نہیں ہے مگر یہ سب کچھ ہونے کے باوجود بھی ابھی انسانیت ختم نہیں ہوئی ابھی بھی تکلیف کے وقت آپ کیساتھ کھڑے ہونے والوں کی بہت بڑی تعداد موجود ہے۔اس لئے یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ گھبرانا نہیں ابھی دل دھڑکتے ہیں۔۔۔

تبصرے