Urdu News and Media Website

نام نہاد بھارتی یوم جمہوریہ پر کشمیر سنٹر لاہور کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرہ

لاہور(نیوزنامہ) کشمیرسنٹرلاہور کے زیراہتمام پریس کلب کے باہر منعقدہ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا ہے کہ بھارت نے نام نہاد جمہورت کا لبادہ اوڑھ رکھاہے۔ وہ خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہتاہے لیکن کشمیریوں کو ان کا پیدائشی حق حق خودارادیت دینے پر تیار نہیں۔ ان خیالات کا اظہار وزیرٹرانسپورٹ آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر ناصرحسین ڈار‘ مشیرحکومت سیدنصیب اللہ گردیزی،رکن قانون سازی اسمبلی و رہنما پی ٹی آئی غلام محی الدین دیوان، انچارج کشمیرسنٹرلاہور سردارساجدمحمود، رہنما کل جماعتی حریت کانفرنس انجینئرمشتاق محمود، میڈیاکوآرڈینیٹر تحریک انصاف اشتیاق ملک، صدرمسلم کانفرنس لاہور سرکل حاجی اقبال قریشی، فاروق آزاد، مرزاصادق جرال،مولاناشفیع جوش،آغا رب نواز خان درانی’علامہ فداء الرحمان حیدری، سینئرصحافی ڈاکٹراحسن محمود، ایڈیٹر ڈیلی نوٹ ایبل ڈاکٹرعطاء الودود، قاری مشتاق احمد، جواد چغتائی، امجدراٹھور، راجہ رفیق،عرفان عباسی، سردارشاکر، صدر عمران ٹائیگرفورس حسن سجاد اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مقررین نے کہا کہ تحریک آزادی کشمیر میں کشمیریوں نے جتنی قربانیاں دیں آج دنیا اس کی مثال دینے سے قاصر ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر بھارت نے کشمیر پر قبضہ نہ کیا ہوتا تو آج پاکستان کے لیے مسائل انتہائی کم ہوتے۔ورکنگ باونڈری پر اسی فیصد کشمیری مہاجرین آباد ہیں لائن آف کنٹرول پر پاک فوج سے آگے لوگ رہتے ہیں جن کے جذبے اور حوصلے کو سلام پیش کرتے ہیں جو پاک افواج کے ساتھ ملکر دفاع وطن میں اپنا کلیدی کردار ادا کررہے ہیں۔ ہندوستان کی کوشش ہے کہ مقامی آبادی پیچھے ہٹ جائے لیکن کشمیری اس سے ڈرنے والے نہیں۔بھارت نے 27اکتوبر1947ء کو کشمیر پر جابرانہ اور ظالمانہ تسلط جمایاجس کے خلاف کشمیری پون صدی سے جدوجہد رکھے ہیں۔ہماری آخری منزل بھارت سے آزادی اور پاکستان کے ساتھ الحاق ہے۔ اس کے علاوہ ہمیں کوئی دوسری چیز قبول نہیں۔مقررین نے کہا کہ آج کے دن پوری دنیا میں مقیم کشمیری بھارت کی نام نہاد جمہوریت کو بے نقاب کررہے ہیں تاکہ دنیا جان لے کہ بھارت کس قدر دھوکے اور فریب سے کام لے رہاہے۔
اس موقع پر مندرجہ ذیل قراردادیں بھی منظور کی گئیں۔ پہلی قراردادمیں کہا گیا یہ اجتماع بھارت کی طرف سے آرٹیکل 370اور/A 35 کے خاتمہ سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور مسلم اکثریت کی آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی گھناؤنی سازش کی پرزور مذمت کرتاہے۔ دوسری قراردادمیں کہا گیا 5اگست 2019ء سے تاحال لاک ڈاؤن سے ریاست جموں وکشمیر کو بدترین جیل میں تبدیل کرنے جیسے غیر انسانی فعل کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے اقوام عالم بالخصوص بین الاقوامی طاقتوں سے اپنا کردار اداکرنے کی پرزور اپیل کی جاتی ہے۔ تیسری قراردادمیں کہا گیا یہ اجتماع قراردیتاہے کہ بھارت کا یوم جمہوریہ اور سیکولر ریاست کہلانا صرف ایک ڈھونگ ہے۔ بھارت نے سیکولرازم کے نام پر تمام مذہبی اقلیتوں کا استحصال کرتے ہوئے جینا دوبھر کررکھاہے۔ جمہوریت انسانی آزادیوں اور حق رائے دہی کا نام ہے جب کہ ہندوستان نے کشمیریوں کو 73سال سے ان کے جمہوری اور پیدائشی حق ”حق خودارادیت“ سے محروم کیا ہواہے۔ چوتھی قرارداد میں کہا گیا بھارت کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، کالے قوانین، پرامن شہریوں پر تشدد، گرفتاریوں اور پیلٹ گنوں کے ذریعے پرامن مظاہرین کو بصارت سے محروم کرنے جیسے انسانیت سوز مظالم کی بھرپور مذمت کی جاتی ہے۔پانچویں قرارداد میں کہا گیا یہ اجتماع لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوجیوں کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ کی بھرپور مذمت کرتا ہے اور اقوام متحدہ کے مبصرین سے مطالبہ کرتاہے کہ وہ بھارت کی جانب سے اس بلااشتعال فائرنگ کا نوٹس لے۔

تبصرے