Urdu News and Media Website

شہد کی مکھیاں قاتل بِھڑّوں سے بچنے کے لیےکیا کرتی ہیں؟

شہد کی مکھیاں قاتل بِھڑّوں کے حملے سے بچنے کے لیےکیا کام کرتی ہیں،حال ہی میں کی جانے والی تحقیق میں نئے انکشافات۔

تحقیق میں سائنسدانوں کو پتا چلا ہے کہ ویتنام میں شہد کی مکھیاں قاتل بِھڑوں کے حملے سے بچنے کے لیے اپنے چھتوں کے گرد جانوروں کا فضلہ لگاتی ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ یہ شہد کی مکھیوں کی جانب سے کسی قسم کے ’آلات‘
کے استعمال کے پہلے باقاعدہ شواہد ہیں۔
یہ شہد کی مکھیاں اپنے ٹھکانوں کو بچانے کے لیے بھینس کا گوبر
حتیٰ کہ انسانی پیشاب تک جمع کرتی ہیں۔
’ پلوز ون‘ نامی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق میں سائنسدانوں
کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق اس وقت شروع ہوئی جب ویتنام میں شہد کی مکھیاں
پالنے والوں نے شہد کی مکھیوں کے چھتوں کے داخلی راستوں کے قریب
گہرے رنگ کے دھبے دیکھے جو کہ دراصل فضلہ تھا۔

تحقیق کے رہنمائی کرنے والے محقق بہیتھر مٹیلا نے نیوز ایجنسی

اے ایف پی کو بتایا ’ہم نے سوچا کہ یہ تو پاگل پن ہوگا کیونکہ
شہد کی مکھیاں گوبر جمع نہیں کرتیں۔‘
تاہم تحقیق سے یہ تصدیق ہو گئی ہے کہ یہ فضلہ ہی تھا جو کہ شہد کی مکھیوں نے
اپنے دفاع کے لیے باہر رکھا تھا خاص طور پر بڑی بھڑّوں سے بچنے کے لیے۔
ڈاکٹر مٹیلا کے مطابق یہ شہد کی مکھیوں کی جانب سے دفاع کے مؤثر حربوں میں
سے ایک اور اضافہ ہے جو وہ اپنے چھتّوں کو محفوظ رکھنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔
شہد کی مکھیاں اپنے خلاف بھڑّوں کے حملوں کو روکنے کے لیے متعدد طریقے
اختیار کرنے کے لیے مشہور ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اسکاٹ لینڈ میں انوکھی چوری، چور 60 ہزار شہد کی مکھیاں لے اڑا

بڑی ایشیائی بِھڑ جو شہد کی مکھی سے پانچ گنا بڑی ہوتی ہے، شہد کی مکھیوں کے
پورے چھتے کو چند گھنٹوں میں تباہ کر سکتی ہے۔ وہ انسانوں کو بھی ایسا ڈنک
مار سکتی ہے جو خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
تحقیق سے یہ ثابت ہوا ہے کہ یہ بِھڑیں ایسے چھتوں پر کم حملہ کرتی ہیں
جن پر فضلہ موجود ہو، اور اگر وہ ایسے چھتوں پر اتر بھی جائیں تو اس کے
داخلی راستوں کو چبانے کا تناسب 94 فیصد کم ہوتا ہے۔
خیال رہے کہ دنیا بھر میں شہد کی مکھیوں کی تعداد میں کمی ہو رہی ہے اور یہ ان پودوں
کی پولی نیشن یا زیرگی کے لیے بہت زیادہ ضروری ہیں جن پر انسان
خوراک کے لیے انحصار کرتے ہیں۔
لاہور(ویب ڈیسک)

تبصرے