Urdu News and Media Website

ماتحت کی جیت ،سربراہ کو شکست! ۔۔۔

تحریر:عرفان ڈوگر
پنجاب پولیس کا سربراہ ایک بار پھر تبدیل کیوں۔؟
تعیناتی پر تعریفیں۔۔تبدیلی پر الزامات۔۔۔
کیانئے سی سی پی او کی تعیناتی وجہ بنی۔۔۔؟
کیاشعیب دستگیر پنجا ب میں گڈ گورننس میں ناکام رہے۔؟
۔۔۔۔۔
پی ٹی آئی حکومت کا ویژن۔۔۔تبدیلی تھا۔عمران خان کی ساری عمر کی جدوجہدکرپشن،کرپٹ نظام،برابر قانون پر تھی۔۔کپتان نے حکومت میںآتے ہی تبدیلی کے جھکڑ چلنے کی کی نویدسنائی۔بوسیدہ نظام نہیں چلے گا،قانون سب کے لئے برابر ہو گا۔پولیس کو تبدیل کیا جائے گا۔یہ وہ تبدیلی کے وعدے تھے جوکئے گئے لیکن ۔۔تبدیلی ہوئی توصر ف سرکاری محکموں میں۔۔ پھرپنجاب پولیس کے سربراہ کو تبدیل کر دیا گیا۔۔۔۔2سال میں 5آئی جی تبدیل۔ سی سی پی او عمر شیخ کی تعیناتی شعیب دستگیر کی تبدیلی کی و جہ بنی۔۔۔۔

شعیب دستگیر کو سی سی پی او عمر شیخ کی تعیناتی پر آئی جی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا جس کا اظہار انہوں نے وزیر اعظم عمران خان سے بھی کیاتھاذرائع کے مطابق سی سی پی او نے اپنی پہلی میٹنگ میں یہ واضح کر دیا تھا کہ میں کسی کا حکم ماننے کا پابند نہیں اور نہ ہی میں اپنے کاموں میں کسی کی مداخلت برداشت نہیں کروں گا چاہے وہ آئی جی ہی کیوں نہ ہو۔۔آئی جی کو اس بات کا علم ہو ا تو انہوں نے احتجاج کرتے ہو ئے آفس آنے سے انکار کر دیا،لیکن انکااحتجاج کسی کام نہیںآیااور پی ٹی آئی حکومت میں بہت سے انہونیوں کے ساتھ ساتھ ایک ماتحت کی اپنے افسر پرجیت بھی شامل ہوگئی ہے۔اب اس سے پولیس محکمے پر کیا اثرات پڑتے ہیں یہ تو آنے والے دنوں
میں پتا چلے گاانکی آپس کی چپقلش میں کہنے والے یہ کہہ چکے تھے کہ آئی جی صاحب کے دن گننے جاچکے ہیں۔۔ایک اور بات بھی قابل غور ہے کہ سی سی پی او کی تعیناتی کا جیسے ہی اعلان ہوا ساتھ ہی سوشل میڈیا پر انکی پروفائل ہسٹری اس طرح وائرل ہو ئی جیسے وہ پنجاب میں آئی جی آ رہے ہیں۔
اب تصویر کا دوسرا رخ دیکھتے ہیں،جیسے کی آئی جی صاحب کی تبدیلی کی خبر ٹی وی چینلوں کی زینت بنی معاون خصوصی وزیر اعظم ڈاکٹرشہبازگل صاحب کا ٹویٹ آتا ہے کہ
”لاہور پولیس نے نئے سی سی او پی کی تعیناتی کے دو دن کے اندر قبضہ گروپ کے دو افراد کو گرفتار کیا جنہوں نے ایک شریف شہری کو قتل کیا اور اس کے پلاٹ پر قبضہ کیا تھا۔ شاباش لاہور پولیس“
اب اس موقعے پر اسطرح کا ٹویٹ کرنا وہ بھی سمجھ سے بالاتر ہے۔مطلب کہ لاہورپولیس آئی جی کے انڈر نہیںہے۔۔تھوڑی دیر بعد ایک چینل پر جس پر ہمیشہ کی طرح سرکاری خبر پہلے آتی ہے ایک خبر بریک ہو تی ہے کہ آئی جی پنجاب کی تبدیلی کی وجہ قبضہ مافیا کے خلاف کارروائی سے سی سی پی او کو منع کرنا تھا۔۔کیا یہ سب پلان تھا۔۔یا۔۔ اسکا مقصدسی سی پی او کو فتح دلوانا تھا۔۔۔جواب طلب ہے
اب ایک نظر 23مہینوں میں تبدیلی سرکار کی تبدیلیوں پر ۔۔
پنجاب میں حدود مدت میں 5 آئی جی تبدیل ،کلیم امام نگران حکومت میں آئی جی تعینات ہوئے ان کے ایک ماہ بعد پی ٹی آئی کے ہاٹ فیورٹ محمد طاہر، پھرامجد جاوید سلیمی اور ان کے کچھ ہی عرصہ بعد عارف نواز آئی جی تعینات ہو ئے، انہیں بھی چند ماہ بعد ہی ہٹا کر شعیب دستگیر کو تعینات کیا گیا اور اب انہیں بھی تبدیل کر دیا گیا
یہ تو تھی پولیس کے محکمے میں تبدیلیاں اور ان23ماہ میں دوسرے محکموںمیں کتنے افسر تبدیل ہوئے ان پر بھی ایک نظر۔۔۔۔
آئی جی پنجاب ۔۔۔5دفعہ
چیئرمین ایف بی آر۔۔۔۔4دفعہ
چیئرمین بورڈ آف انوسمنٹ۔۔۔4دفعہ
سیکرٹری کامرس۔۔۔4دفعہ
چیف سیکرٹری۔۔۔3
سیکرٹری ہائر ایجوکیشن۔۔۔9
سیکرٹری فیڈرل فنانس۔۔۔ 3
چیئرمین ایس ای سی پی ۔۔3
انفارمیشن سیکرٹری۔۔۔3
منسٹر فوڈ۔۔۔3
منسٹر انڈسٹری۔۔3
پنجاب اریگشن۔۔11
سیکرٹری داخلہ۔۔4
کمشنر پنڈی۔۔۔4
پی ٹی آئی نے ووٹ اس لئے لیا کہ وہ اس ملک میں تبدیلی کی خواہاں تھی اور لوگوں نے بھی اس لئے ووٹ دیا کہ وہ تبدیلی چاہتے تھے لیکن۔۔۔موجودہ حالات میں ملک کے لئے تبدیلی تو شاید نہ ہو سکی لیکن محکموں میں تبدیلیوں کے جھکڑ ضرور چل رہے ہیں۔۔۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.