Urdu News and Media Website

’’ابا جی آپ کے سارے دوست کہاں چلے گئے ہیں‘‘؟

ڈاکٹر نے جب میرے والد کے حقے پر پابندی لگائی تو والد نے حقہ گودام میں رکھوا دیا.یوں دکان کی بڑی اٹریکشن اچانک ختم ہوگئی‘ انہی دنوں’’ایکس چینج‘‘کی ’’اپ گریڈیشن‘‘بھی شروع ہوگئی اور ہمارا فون بھی عارضی طور پر کٹ گیا۔

یوں دکان کی دوسری اٹریکشن بھی ختم ہو گئی.وہ لوگ جو روز صبح سویرے ہماری دکان پر آ کر بیٹھ جاتے تھے اور ان کی شام بھی اسی دکان پر ہوتی تھی وہ بھی اچانک غائب ہو گئے۔ ہم جن کو والد کا انتہائی قریبی دوست سمجھتے تھے‘ جو لوگ
ہمارے چاچاجی ہوتے تھے‘جو گلی میں داخل ہوکر اونچی آواز
میں چوہدری صاحب کا نعرہ لگاتے تھے اور جو گھنٹوں

ہمارے والد کی تعریفیں کرتے تھے‘ وہ سب بھی غائب ہو گئے‘
ہم انکی شکلیں تک بھول گئے‘ میرے والد سارا دن دکان پر
اکیلے بیٹھے رہتے۔

میں اس وقت پرائمری اسکول میں پڑھتا تھا‘
میرے کچے ذہن کے لیے یہ صورتحال ہضم کرنا مشکل تھا‘
میں ایک دن والد کے پاس بیٹھا اور میں نے ان سے پوچھا

’’ابا جی آپ کے سارے دوست کہاں چلے گئے ہیں‘‘؟

میرے والد نے غور سے میری طرف دیکھا‘
میری آنکھوں میں اس وقت آنسو تھے‘ میرے والد
نے رومال سے میری آنکھیں صاف کیں‘ سر پر ہاتھ پھیرا
اور بڑے پیار سے کہا ’’بیٹا یہ لوگ میرے دوست نہیں تھے‘
یہ حقے اور ٹیلی فون کےدوست تھے‘ حقہ بند ہو گیا‘
ٹیلی فون کٹ گیا‘ یہ لوگ بھی کٹ گئے. جس دن ٹیلی فون
اور حقہ واپس آ جائے گا‘ یہ لوگ بھی اس دن واپس آ جائیں گے۔‘‘
میرے کچے ذہن نے یہ فلسفہ سمجھنے سے انکار کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں: دوست اوراس کے حقوق

میرے والد نے میرے چہرے کی گومگو پڑھ لی. وہ بولے
"بیٹا یاد رکھو، اللہ تعالیٰ جب آپکو کوئی نعمت دیتا ہے تو یہ نعمت
اپنے ساتھ نئے دوست لے کر آتی ہے لیکن ہم نعمت کے ان
دوستوں کو اپنا دوست سمجھ بیٹھتے ہیں‘ یہ ہماری بے وقوفی
ہوتی ہے‘ یہ نعمت جس دن چلی جاتی ہے‘ یہ سارے دوست بھی
رخصت ہو جاتے ہیں.

"میرے والد نے اسکے بعد شاندار نصیحت کی

‘انھوں نے فرمایا ’’بیٹا آپکا اصل کمال یہ ہو گا آپ نعمتوں کے
دوستوں کو نعمتوں کا دوست رہنے دو‘ آپ ان لوگوں کو کبھی
اپنا دوست نہ بننے دو‘ تم زندگی میں کبھی مایوس نہیں ہو گے‘‘
میرے والد نے فرمایا ’’بیٹا آپ کار کے دوستوں کو کار کا
دوست سمجھو‘ کاروبار کے دوستوں کو کاروبار کا دوست سمجھو
اور اپنے عہدے کے دوستوں کو عہدے کا دوست سمجھو
‘ ان لوگوں کو کبھی اپنے دل تک نہ پہنچنے دو‘ تمہارا دل کبھی
زخمی نہیں ہوگا‘ تم کبھی خون کے آنسو نہیں روؤگے‘‘۔

نوٹ: یہ تحریر سوشل میڈیا پوسٹ سے لی گئی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.