Urdu News and Media Website

بکھری یادیں (ساتویں قسط)

تحریر:مولانا محمد جہان یعقوب
شیخ الحدیث مفتی محمدنعیمؒ یوں توگرین کارڈکےبھی حامل تھے،لیکن روئے زمیں پراُنھیں حرمین شریفین زادھمااللہ شرفاًوکرامةًسے بڑھ کرکوئی مقام عزیزنہیں تھا۔اُن کی کوشش ہواکرتی تھی کہ جوں ہی موقع ملے وہ فوراًحرمین شریفین پہنچیں،بیت اللہ کے جی بھرکرطواف کریں اورروضہ رسولﷺپرحاضری دے کرکائنات کی سب سے شفیق ہستی کوحالِ سنائیں۔اگریہ کہاجائے توبالکل حسبِ حال ہوگاکہ وہ جہاں کہیں بھی ہوتے تھے اُن کادل وہاں اٹکاہوتاتھا،جہاں جانے کی آرزوہرمُسلمان کے دل میں ہوتی ہے۔بقولِ شاعر؎
میں یہاں ہوں میرادل مدینے میں ہے

مفتی صاحبؒ ایک حاضرباش مدرّس تھے،لیکن جوں ہی نصاب مکمل ہوتااورسہ ماہی امتحان کی تیاری کے لیے اسباق کے سلسلے کوموقوف کیاجاتا،وہ عازمِ حرم ہوجاتے تھے،سہ ماہی امتحان کی چھٹیاں گزارکرجب طلبہ جامعہ آتے تووہ اپنے شفیق مدیرمحترم کوپہلے ہی موجودپاتے تھے۔

مفتی صاحبؒ کامعمول تھاکہ ہرسال حج کے لیے تشریف لے جاتے تھے۔اُن کے جانے سے پہلے ہی اُن کاسامان وہاں پہنچ چکاہوتاتھا۔بیتُ اللہ شریف کے قریب ہی اُن کامکان تھااورپاک وہندہی نہیں عالَم بھرکے علماومشائخ تھکے ہارے اُن کے مکان پرآکراستراحت کیاکرتے تھے۔
مہمان نوازی تومفتی صاحبؒ کی طبیعت میں رچی بسی تھی؛سوایام حج میں بھی اُن کے مکان پرہروقت ضیافتوں کاسلسلہ جاری رہتاتھا۔اکثروبیشتریہ کھانے پینے کی محافل علمی وفکری مجالس میں تبدیل ہوجاتی تھیں۔مولاناطارق جمیل صاحب کی خطابت،ڈاکٹرذاکرنائک کی فکری باتیں،مولانامحمدکلیم صدیقی کی تبلیغی کارگزاریاں،شیخ الاسلام مفتی محمدتقی عثمانی کی مترنم نعتیں۔۔۔غرض ان محافل میں ہررنگ نظرآتاتھا۔شعرااورنعت خواں حضرات کی آمدسے محفل کی رونقیں مزیدبڑھ جاتی تھیں۔

لگ بھگ پینتیس چالیس سال سے مفتی صاحبؒ مسلسل حج بیتُ اللّٰہ کی سعادتوں سے بہرہ اندوزہورہے تھے۔وہ اپنے کوٹے پرکئی لوگوں کوہرسال حج پربھی بھیجاکرتے تھے۔یوں اُن کی برکت سے کئی بے وسیلہ عشاق کوبھی بیتُ اللّٰہ ودیارِحبیب کےمنورومعطرشب وروزنصیب ہوجایاکرتے تھے۔آہ!اب کون ان آبلہ پاعشاق کے لیے طواف وزیارت کاسامان کرے گا!

مفتی صاحبؒ کونبی کریمﷺ کامولدومسکن ہونے اورمرکزِ اسلام ہونے کی وجہ سے سعودی عرب سے بھی والہانہ محبّت تھی۔جب کبھی بھی ملک عزیزمیں یادنیابھرمیں کہیں بھی کوئی اسلام دشمن گروہ یاسازشی ٹولہ سعودی عرب کے خلاف سرگرم ہوتاتھا،مفتی صاحبؒ اًس کے مقابلے میں تمام کشتیاں جلاکرمیدان میں اُترتے تھے۔
چندبرس قبل جب آلِ مجوس کی طرف سے سعودی عرب کے خلاف شہرقائدمیں اشتہاری مہم چلائی گئی،بدبوداربینراورپینافلیکس لگائے گئے اوردرودیوارنفرت انگیزنعروں سے سیاہ کیے گئے۔۔۔تومفتی محمدنعیمؒ ہی وہ مردِحق آگاہ تھے جنھوں نے فوراًاس سازش کوبھانپ لیا،اس کے توڑکے لیے تمام مکاتبِ فکرکوجگایااورآمادہ کیاکہ تحریک تحفظ حرمین شریفین کے پلیٹ فارم سے مشترکہ جدوجہدکریں۔اس مقصدکے لیے اُنھوں نے اپنی ذات ہی نہیں ادارے کوبھی وقف کردیا۔اردو،انگریزی اورعرب میڈیامیں اہلِ حق کی نمائندگی کی۔اُن کی اِس مخلصانہ دعوت اورفدایانہ مساعی کودیکھ کرتمام اہلِ سنت مکاتبِ فکراُن کے ساتھ ہم آوازہوکردفاع حرمین شریفین کے کیے کمربستہ گئے۔اہلِ باطل نے دیکھاکہ مفتی محمدنعیمؒ کی قیادت میں تمام اہلِ سنت متحدہوچکے ہیں تواپنی شیطانی چالوں سے دست بردارہوکربل میں گُھس گئے۔

شاہراہِ قائدین پرہونے والے اُس اجتماع کوکون بُھلاسکتاہے جس میں تمام اہلِ سنت مکاتبِ فکرہرقسم کی تفریق سے بالاترہوکرہاتھ میں ہاتھ ڈال کرمفتی محمدنعیمؒ کی قیادت میں آخری سانس اورخُون کے آخری قطرے تک جدوجہدکرنے کے عزم کااظہارکررہے تھے۔
رات کواہلِ سبت والجماعت کے سرگرم کارکن مفتی سعودؒ کوشہیدکرکے اورجلسہ گاہ کے اطراف فائرنگ کرکے دشمن نے خوف وہراس پھیلانے میں کوئی کسرنہ چھوڑی تھی۔
راقم اُس وقت مفتی صاحبؒ کے ساتھ اُن کے دفترمیں موجودتھاجب قائدین باربارفون کرکے مفتی محمدنعیمؒ کوخطرات سے آگاہ کرتے ہوئے جلسے میں آنے سے روک رہے تھے۔۔۔مگریہ شیربھلاکسی کے روکے سے کب رُکنے والاتھا،اپنے فرزندارجمندمولانامحمدفرحان نعیم اوررفقاکے ساتھ جان کی پرواکیے بغیرجلسہ گاہ پہنچ گیا۔اُس وقت حاضرین کاجوش وخروش دیدنی تھا۔یہی وہ لمحہ تھاجب اہلِ حق کواپنی فتح اورباطل کواپنی شکست دیوارپرلکھی تحریرکی طرح صاف نظرآنے لگی تھی۔(جاری ہے۔۔۔)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.