Urdu News and Media Website

بکھری یادیں (چھٹی قسط)

تحریر:مولانا محمد جہان یعقوب
استادمحترم مفتی محمدنعیمؒ مردِمیدان بھی تھے اورمردِبُحران بھی؛اس کے باوجُودان کےپہلومیں جودل دھڑکتاتھا،وہ نرمی ورافت اورخشیت ورقت سے بھرپُورتھا۔کسی کوبھی تکلیف میں دیکھتے توتڑپ تڑپ جاتے تھے۔اُن کے قلب میں اپنے اورپرائے یامفیدومضرکے تفریقی خانے نہیں تھے۔یہ وہی رقت وترحّم تھاجوایک مؤمن کاخاصہ ہے۔

جیساکہ عرض کرچُکاہوں بڑے درجات میں پہنچنے کے بعدمیں جمعے کوبھی اکثرجامعہ بنوریہ عالمیہ میں ٹھہرجایاکرتاتھا۔جمعے کوفجرکے بعدناشتے کے لیے خلافِ معمول قریب کے کسی علاقے کی طرف نکل جاتے تھے۔راستے سے تمام مشہوراخبارات بھی لے لیتےتھے ؛چونکہ جمعے کومفتی صاحبؒ کے بچے ننھیال چلے جاتے تھے،اس لیے واپسی پرمفتی صاحبؒ کے گھرمیں ہی راقم اُنھیں اخبارات سے خبریں پڑھ کرسُنایاکرتاتھا۔یہ اخبارات پھرراقم کوہبہ کردیے جاتے تھے،جنھیں اگلے جمعے تک عصرتامغرب فارغ اوقات میں پڑھتارہتاتھا۔
راقم نے دیکھاکہ جوں ہی مفتی صاحبؒ کی سماعتوں سے کسی بے گناہ پرہونے والےظلم کی خبرٹکراتی، یادنیابھرمیں کفارسے برسرِپیکارمجاہدین پرکفارکے مظالم یابیجاپابندی وغیرہ کے حوالے سے کوئی خبراُن کے کان میں پڑتی تواُن کی آنکھوں سے آنسوجاری ہوجاتے تھے۔اُس وقت مفتی صاحبؒ اقبالؒ کے اس شعرکی زندہ تصویرنظرآتے تھے؎
اخوّت اِس کوکہتے ہیں چبھے کانٹاجوکابل میں
تو ہندوستان کا پیر و جواں بے تاب ہوجائے

اُن کی یہی کیفیت اُس وقت بھی دیکھنے میں آتی تھی جب کسی غیرمُسلم کے اِسلام قبول کرنے کی روداداُنھیں سُنائی جاتی تھی۔وہ بے خُودہوکرانتہائی توجہ واِنہماک سے ایسی ایمان افروزداستانیں سُنتے تھے اوراُن کی آنکھوں سے بہتے اشک اُن کے دِل کاحال سُنارہے ہوتے تھے۔
معروف عالمی مبلغ مولانامحمدکلیم صدیقی سے حج کے دِنوں میں بطورِخاص ملاقات کرتے اور گھنٹوں گھنٹوں نومُسلموں کی داستانیں سناکرتے تھے،اس دوران اُن پررقت طاری رہتی اورآنکھوں سے آنسوجاری رہتے تھے۔
شایداِس کی وجہ یہ بھی ہوکہ وہ اپنے والدِبزرگوارسےاُن مظالم کی داستانیں سُن چُکے تھے،جوقبولِ اسلام کے بعدمفتی صاحبؒ کے دادااوراُن کے اہلِ خانہ پرروارکھے گئے تھے؛یہاں تک کہ ہجرت کے بعدبھی اُن کاتعاقب نہیں چھوڑاگیاتھا۔
راقم نے مفتی صاحبؒ کے چھوٹے بھائی قاری عبدالمنان کے کہنے پرجب قاری عبدالحلیمؒ کی سوانح مرتب کی اورقاری صاحبؒ کے ساتھ روزانہ کئی کئی گھنٹے گزارے؛تودیکھاکہ قاری صاحبؒ اِس داستانِ عزیمت کوبیان کرتے ہوئے خُودبھی روپڑتے تھے اورسامعین کوبھی رُلادیتے تھے۔خاص طورپرجب وہ اپنے بڑے بھائی کاواقعہ سُناتے؛جس نے اِسلام قبول نہیں کیاتھا۔قاری صاحبؒ کئی دہائیوں بعدڈھونڈتے ڈھونڈتےجدہ اُس کے دفترپہنچے تواُس نےپہلے توملنے سے ہی انکارکردیاتھا؛پھرملازموں کے اِصرارپرملاقات کی توچائے پانی کے بارے میں پُوچھناتودرکنار،سیدھے منہ بات بھی نہ کی تھی اوردفترسے نکال دیاتھا۔
شایدنومُسلموں کی داستانُوں میں مفتی صاحبؒ کواپنے خاندان کی داستان نظرآتی تھی،یہی وجہ ہے کہ مفتی صاحبؒ نے نومُسلموں کی اعانت کابیڑااُٹھانے کافیصلہ کیا۔

وہ مردِمیداں تھے۔اِس انتظارمیں نہیں رہتے تھے کہ کوئی اورکرے گا؛بلکہ خُودہی خم ٹھونک کرمیدان میں آجاتے تھے۔اِسی جذبے کے تحت اُنھوں نے اعانتِ نومُسلم کاشعبہ قائم کیا۔
اِس پلیٹ فارم سےاب تک سیکڑوں نومُسلموں کوبرادری اورعلاقے والُوں کے مظالم کے مقابلے میں اخلاقی مددوقانونی معاونت فراہم کی جاچکی ہے۔اس شعبے سے جاری کی جانے والی سندِقبُولِ اسلام،نومُسلموں کے لیے بہت بڑاقانونی سہاراہے۔ا
ب بھی درجنوں نومُسلم بچیاں جامعہ بنوریہ عالمیہ سے دینی تعلیم وتربیت حاصل کررہی ہیں،جبکہ درجنوں لڑکیوں کے،فراغت کے بعدنکاح بھی کرائے جاچُکے ہیں۔تفصیلات”خمیری مسلمان”نامی کتاب میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ملک بھرکے مدارس ومساجدکے منتظمین،بلاتفریقِ مسلک ومشرب، نومُسلموں کی اعانت کے لیے جامعہ بنوریہ عالمیہ ہی کوآخری امیدسمجھتے ہیں۔

جس طرح نومُسلموں کی اعانت مفتی صاحبؒ کاتجدیدی کارنامہ ہے،اسی طرح بیرون ممالک سے علوم دینیہ کے حصول کے لیے آنے والے مہمانانِ رسولﷺکے لیے جدوجُہدبھی مفتی صاحبؒ کی انفرادیت ہے۔اس معاملے میں اُنھوں نے کبھی حکومتی مداخلت سمیت بڑے سے بڑے دباؤکوکوئی اہمیت نہیں دی۔وہ اِن پردیسی مہمانانِ رسولﷺکے لیے ہرآندھی سے ٹکراگئے،ہرطوفان کامقابلہ کیااوربالآخراپنامطالبہ منواکرہی دم لیا۔
یہ2000ءکی بات ہے۔جب ڈکٹیٹرپرویزمشرف کے ٹیک اوورکے بعدتمام مدارس نے ان مہمانانِ رسولﷺکی مزیدمیزبانی سے معذوری ظاہرکی اوراپنے دروازے بندکردیے تھےتویہ مردِبحران مفتی محمدنعیمؒ ہی تھے جنھوں نے اِن طلباکے لیے اپنے ادارے کے دروازے کھول دیے اورتمام مدارس سے نکالے جانے والے غیرملکی طلبہ کوداخلہ دیا۔
اُنھوں نے ہمیشہ اِن طلبہ کے لیے آوازبلندکی۔اِن کواپنے اپنے ممالک میں پاکستان کاسفیرقراردیا۔آج دیارِغیرمیں اکثرممالک میں اِنھی طلبہ نے مدارس اوراسلامک سینٹرزکاجال بِچھاکراپنے ہم وطنوں کوکفروالحادکے عمیق گڑھوں میں گِرنے سے بچارکھاہے تویہ مفتی محمدنعیمؒ اوراُن کے ادارے ہی کامرہونِ منّت ہے۔
اب بھی پاکستان کے کسی بھی تعلیمی ادارے کے مقابلے میں سب سے زیادہ غیرملکی طلبہ جامعہ بنوریہ عالمیہ میں ہیں۔دوسرے تعلیمی اداروں میں جوطلبہ زیرِتعلیم ہیں،وہ بھی اپنے مسائل کے حل کے لیے جامعہ بنوریہ عالمیہ سے رجُوع کرتے ہیں اورجامعہ بلاتفریق اُن کو ہرممکن قانونی معاونت فراہم کرتاہے۔
راقم ایسے درجنوں غیرملکی طلبہ کوجانتاہے جوغریب ممالک سے تعلق رکھتے ہیں اوراُن کے تمام اِخراجات مفتی صاحبؒ اپنی جیبِ خاص سے پُورے کیاکرتے تھے۔
(جاری ہے۔۔۔۔)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.