Urdu News and Media Website

بکھری یادیں (پانچویں قسط)

تحریر:مولانا محمد جہان یعقوب
جب ہم بڑے درجات کی طرف گامزن ہوئے اورپانچویں درجے میں پہنچے جوعالِم بننے کی سرحدپارکرنے کے لیے پل صراط کادرجہ رکھتاہے؛تواکثرطلبہ کی طرح ہم بھی آزمائش کاشکارہوگئے۔
ایک آزمائش تویہ آئی کہ جامعہ بنوریہ عالمیہ کاامتحانی دستورہے کہ طلبہ بال چھوٹے کرائیں۔ہمارے بال کچھ بڑھے ہوئےتھے،جوپہلے تونگرانوں کی نظرمیں نہیں آئے مگرعین پہلے پرچےکے لیےجاتے ہوئے ہمیں روک لیاگیا۔ہم اکیلے نہ تھے درجن سے زائدطلبہ تھے۔ادارے کی طرف سے آدھے گھنٹے کاوقت دیاگیاکہ بال کٹواکریاکم ازکم کٹ لگواکرامتحان میں بیٹھ سکتے ہیں۔اکثرطلبہ نے اس پیشکش سے فائدہ بھی اُٹھایا۔ہم چندطلبہ نے،جونسبتاًذہین اورپوزیشن ہولڈرسمجھےجاتے تھے،پرچہ نہ دینے کافیصلہ کیا۔میں اورمولانامحمداسلم شیخوپُوریؒ کے بھانجے نے فیصلہ کیاکہ حضرتؒ کے پاس جاتے ہیں اوراس”ظلم”پراُن کے سامنے احتجاج کرتے ہیں۔ہم حضرت کے لاڈلے اوراُن کی مسواک اورشہدکی پیکنگ اورکتب ورسائل کی تصحیح کی وجہ سے اُن کے منظورِنظرتھے۔
حضرتؒ نے پہلےتوہماری خاطرتواضع فرمائی پھرہم سے حقیقتِ حال سُنی توکہا:ابھی اوراسی وقت جاؤاورمعافی مانگ کرامتحان دو۔ہم پرشیطان سوارتھا،اوپرسے یہ ڈربھی تھاکہ گھنٹاڈیڑھ توضائع ہوچکا،اب پرچہ دیابھی تومحنت کے مطابق نمبرنہیں آئیں گے،سوہم حضرتؒ سے وعدہ کرنے کے باوجُودامتحان میں نہیں بیٹھے۔
طلبہ پرچہ دے کرہاسٹل جانے لگے توہم بھی آگئے۔کسی نے ہماری مخبری کردی اوراگلے دن دفترِناظم تعلیمات میں ہمیں خُوب ڈانٹ سنناپڑی اورمرتے کیانہ کرتےاگلے دن سے امتحان میں بھی بیٹھناپڑا۔
ہماراخیال تھاکہ مفتی محمدنعیم صاحبؒ کوجب اپنے خاص شاگردکے ساتھ ہونے والے اِس”سلُوک”کاعلم ہوگاتوہماری اشک شوئی کریں گے۔۔۔لیکن اُنھوں نے بھی مولاناشیخوپُوریؒ والارویہ اختیارکیاکہ غلطی تمھاری ہے۔۔۔ادارے کے ضابطے سب کے لیے برابرواجبُ التعمیل ہیں۔اس رویے کودیکھتے ہوئے ہم نے ایک اورانتہاپسندانہ قدم اُٹھانے کی ٹھان لی۔
امتحان سے فارغ ہوکرہم جامعہ ستاریہ گئے کہ وہاں داخلہ لیتے ہیں،اورکچھ نہیں توعربی تواچھی ہوہی جائے گی۔۔۔یہ تواچھاہواکہ وہاں سے اچھارسپانس نہ ملا۔۔۔ورنہ ہم جانے کہاں بیٹھے ائمہ کی غلطیاں تراش رہے ہوتے۔
جب مفتی صاحبؒ کویہ بات بتائی توبہت ہنسے اورکافی دیرسمجھاتے رہے کہ سردوگرم زندگی کاحصہ ہیں۔کسی غیرمتوقع امرکودیکھ کرفوری ردعمل کی کیفیات کامظاہرہ کرنے سے اکثراپناہی نقصان ہوتاہے۔تب تویہ بات سمجھ میں نہ آئی تھی،مگراب حالات کے تھپیڑوں اورگردش زمانہ نے یہ بات اچھی طرح سمجھادی ہے۔
اس واقعے کے ذکرکاایک مقصدیہ بھی ہے کہ ہمیشہ اپنے بڑوں سے رابطے میں رہاکریں۔اپنے حالات اُن کے علم میں لاکراُن کی راہ نمائی میں چلنے کی کوشش کریں،ورنہ کوئی بھی ایمان کاڈاکوآپ کوشکارکرلے گا۔

اب ہم چونکہ بڑے درجے میں پہنچ چکے تھے،اس لیے مفتی صاحبؒ کے عمومی دسترخوان پربھی بیٹھنے لگے تھے،جس کی وجہ سے مفتی صاحبؒ کی شخصیت کے مزیدپہلوسامنے آنے لگے تھے۔دنیابھرکی جہادی تحریکوں کے حوالے سے اُن کی فکرمندی،امارتِ اسلامی کی کامیابی کے لیے اُن کی نیک خواہشات،تحفظ ناموس رسالت ودفاع صحابہؓ سے وابستہ جماعتوں کی قیادت سے مفتی صاحبؒ کااوراُن کامفتی صاحبؒ سے والہانہ تعلق،دینی سیاسی جماعتوں کی قیادت کی پذیرائی۔۔۔یہ تمام چیزیں مشاہدے میں آنے لگی تھیں۔مولاناعبدالغفورحیدری اورعلامہ علی شیرحیدری شہیدؒ کی کثرت سے آمدورفت رہتی تھی۔یہ دونوں حضرات جامعہ بنوریہ کواپنادوسراگھرکہتے تھے۔دن بھرکے جلسوں کے بعدسپاہ صحابہؓ کی قیادت یہیں محوِ استراحت ہواکرتی تھی۔مفتی صاحبؒ نوجوان قیادت کے ساتھ جس محبت سے پیش آتے تھےاُس کولفظوں میں بیان نہیں کیاجاسکتا۔لیکن یہ کسی تعصّب کانتیجہ نہیں تھا،دین کاکام کرنے والاخواہ کسی جماعت سے تعلق رکھتاہو،مفتی صاحبؒ کے ادارے میں یکساں مقام واحترام پاتاتھا۔

تبلیغ کے ساتھ مفتی صاحبؒ کی والہانہ وابستگی وشیفتگی کسی تفصیل کی محتاج نہیں۔وہ برملاکہتے تھے میرے اجدادکواسلام کی دولت تبلیغ کی وجہ سے عطاہوئی۔بڑے قاری صاحبؒ کے تبلیغی مرکزمکی مسجدمیں کئی سال امام رہنے کی وجہ سےدعوت وتبلیغ سے محبت گویامفتی صاحبؒ کی گھٹی میں تھی۔جمعے کوفجرکے بعدوالدگرامی کاباشتادینے یااُن کولینے کے لیے مدنی مسجدخُودجایاکرتے تھے۔
تبلیغی اکابربھی مفتی صاحبؒ پرغیرمُتزلزل اعتمادکرتے تھے۔باہمی مناقشے ہوں یابیرون سے آنے یابیرون جانے والی جماعتوں کے قانونی مسائل؛بزرگوں کی نظرمفتی صاحبؒ اوراُن کے ادارے ہی پرجاتی تھی۔جب لاہورکی ابراہیم مسجدکوفتنے کامرکزبناکرتبلیغی وحدت کوٹھیس پہنچانے کی کوشش کی گئی تواللہ تعالیٰ نے اس فتنے کے سدباب کاکام بھی جامعہ بنوریہ عالمیہ کے فضلاسے لیاتھا۔
آج کل ہندوستان کے تبلیغی اکابرین کے اختلافات کے حل کے لیے بھی مفتی صاحبؒ ہی پرپاک وہندکے بزرگوں کی نگاہیں مرکوزتھیں۔وہ اس حوالے سے کوشاں بھی رہتے تھے۔کئی کوششوں کے ہم خُودعینی شاہدہیں۔
اپنےانتقال سے چندگھنٹےپہلے بھی اُنھوں نے اپنے دیرینہ رفیق مولانامحمداسماعیل دہلوی سے اسی خواہش کااظہارکیاتھاکہ وہ ازخُوددونوں طرف کے اکابربالخصوص حضرت مولانامحمدسعدکاندھلوی اورمولاناابراہیم دیولہ سے فون پربات کرناچاہتے ہیں۔۔۔۔مگرداعی اجل کاپیغام آپہنچااوراس عالم اسباب میں اُن کی یہ خواہش پُوری نہ ہوسکی۔(جاری ہے۔۔۔۔)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.