Urdu News and Media Website

بکھری یادیں (چوتھی قسط)

تحریر:مولانا_محمد_جہان_یعقوب
مفتی صاحبؒ کوجب بتایاکہ آپ کی دُعاسے اس باربھی وفاق میں میری پوزیشن آئی ہے توکہنے لگے:میری دی ہوئی فیس وصول ہوگئی۔
یہ مفتی صاحبؒ کی ایسی خُوبی تھی جس کو”بڑا”بننے کے بعدبہت کم لوگ برقراررکھ پاتے ہیں کہ وہ بچوں کے ساتھ بچہ اورطلبہ کے ساتھ طالب علم بن جاتے تھے۔وہ کسی خول میں بندہونے کوبڑائی کامعیارنہیں سمجھتے تھے۔
عصرکے بعدحفظ کے بچوں کے ساتھ مسجدکے فرش پربیٹھ کرتلاوت سُناکرتے تھے۔مطعم میں جاکرملازموں کے ساتھ گُھل مل جاتے تھے۔مطبخ میں طلبہ کے درمیان بیٹھ کراُن کے ساتھ کھاناکھالیاکرتے تھے۔دفترمیں اُنہی کے دسترخوان پراُن کے خدام بھی بیٹھے نظرآتے تھے۔اس حوالے سے مفتی صاحبؒ کسی رکھ رکھاؤاورتکلف کے قائل نہیں تھے۔
لباس اورپہناوے میں بھی اُن کی فروتنی ومتانت اورسادگی کی جھلک صاف دیکھی جاسکتی تھی۔ساری عمرسفیدکے ٹی اورجالی دارٹوپی استعمال کی۔واسکٹ اورجبّہ کسی ناگزیرضرورت کے تحت پہنتے توبھی فوراًاُتاردیتے تھے۔پہلی بارملنے والے کوپُوچھناپڑتاتھاکہ مفتی محمدنعیمؒ کون سے ہیں؟یہ سادگی اُنھیں اپنے والدبزرگوارسے ورثے میں ملی تھی۔قاری عبدالحلیم صاحبؒ انتہائی سادہ لباس پہنتے،خدام اورملازمین کے ساتھ گھل مل جاتے اورجہاں اشراق،چاشت کاوقت ہوتاکاندھے سے رومال اُتارکربچھاتے اورنمازشروع کردیتے تھے۔

مفتی صاحبؒ کے لب ہمیشہ تلاوتِ قرآن سے رطب اللسان رہتے تھے۔فرماتے تھے کہ ابّاکے انتقال کے بعدتلاوت کی مقداربڑھادی ہے اورکوشش کرتاہوں کہ ابّاروزجتنی تلاوت فرماتے تھے،اپنے معمول کے ساتھ اُس کوبھی پُوراکرلوں۔اٹھتے بیٹھتے اورنوافل کے علاوہ ظہراورعصرکی سرّی نمازوں میں بھی،جن کی امامت خُودفرمایاکرتے تھے،لمبی لمبی سورتیں پڑھتے تھے۔میراغالب گمان یہ ہے کہ ان نمازوں میں بھی وہ سالانہ قرآن ختم کرتے تھے۔
رمضان المبارک میں تراویح کے دوران 8روزہ قرآن ختم کرکے بیرون ملک تشریف لے جانے کامعمول تھا۔چندبرسوں سے رمضان کایہ سفرترک کردیاتھا۔اِس رمضان سے پہلے طبیعت کافی خراب ہوئی جس کی وجہ سے معالجوں نے تراویح میں ختم سُنانے سے منع بھی کیا؛لیکن یہ معمول ترک کرناگوارانہ کیااور15روزہ ختم سُنایا۔یہ مفتی صاحبؒ کی کرامت تھی کہ اس قدروزن بڑھ جانے،دل کے تین والو بندہونے اورسانس کی مسلسل تکلیف کے باوجُوداپنامعمول برقراررکھا؎
یہ نصیب اللّٰہ اکبر!لُوٹنے کی جائے ہے

مفتی صاحبؒ چاہتے تھےکہ سارے عالم میں قرآن کاپیغام پھیلے۔اُن کاایمان تھاکہ قرآن ہی کے ذریعے امت کوایک لڑی میں پرویاجاسکتاہے۔بیرونی اسفارمیں وہ اِس بات کوبڑی شدت سے محسوس کرتے تھے کہ قرآن کی دعوت جس سطح پردی جانی چاہیے وہ نظرنہیں آتی۔وہ اِس بات کابھی ادراک رکھتے تھے کہ طالع آزمامتجدّدین قرآن کی آڑلے کرلوگوں کوسنّت سے برگشتہ کررہے ہیں۔اُن کی بڑی چاہت تھی کہ اِس محاذپرکام کیاجائے۔وہ اِس نوع کی ایک کوشش کچھ علماکے ذریعے پہلےکربھی چُکے تھے مگریہ کوشش نتیجہ خیزثابت نہ ہوسکی تھی۔اس کااُنھیں بہت قلق اورافسوس بھی تھا۔اپنی مصروفیات اورعوارض میں وہ خُوداتناوقت نہیں نکال پارہے تھے کہ خُودبیٹھ کردورِجدیدکے تقاضوں کوسامنے رکھتے ہوئے قرآن مجیدکی تفسیرلکھیں۔مگروہ ہتھیارڈال کربیٹھ رہنے کے بھی قائل نہ تھے۔دُعااورکوشش کاسلسلہ اُنھوں نے لمحہ بھرکے لیے بھی موقوف نہیں کیاتھا۔بس درِقبولیت کھلنے کاانتظارتھا۔

مجھے اکثرکہتے تھے:حضرت مولانامفتی محمدجمیل خانؒ،مولانامحمداسلم شیخوپوریؒ،مفتی خالدمحموددامت برکاتہم کے جامعہ بنوریہ عالمیہ سے چلے جانے کے بعدتصنیفی خدمات کاتسلسل بہت متاثرہواہے۔تُم جلدی سے فارغ ہوجاؤ،میں شعبہ تصنیف قائم کروں گا۔یہ بات اُنھوں نے جب پہلی بارفرمائی توراقم چھٹے درجے میں تھا۔اُسی سال دارالتصنیف کی تعمیربھی شروع ہوگئی تھی۔راقم جب ساتویں درجے میں آیاتومولاناسیف اللّٰہ ربانی نے "اخبارالمدارس” کے نام سے مدارسِ دینیہ کاپہلااخبارجاری کیا۔جب میں نے مفتی صاحبؒ کوبتایاکہ میں بھی اِس اخبارمیں کام کرریاہوں؛توبہت خُوش ہوئے۔
تب انٹرنیٹ اتناعام نہ تھا۔اخبارکی تیاری کی ترتیب یہ ہوتی تھی کہ ہم خبرلکھ کرکمپوزرکودیتے،وہ ٹائپ کرکے ٹریسنگ پرنکالتااوراُسی وقت پیسٹراسے پیسٹ کردیتا۔ساراکام آخری دن ہوتاتھااورساری رات بھی لگ جاتی تھی۔ایسی ہی ایک رات کاواقعہ ہے:فجرکی نمازکے لیے جاتے ہوئےمفتی صاحبؒ کی نظرکمپیوٹرروم پرپڑی،جہاں ہم لوگ کام کررہے تھے اورپیسٹراخبارپیسٹ کررہاتھا۔جب دیکھاکہ سارامواداُلٹاچُپکایاجارہاہے توکہنے لگے:یہ تم لوگ کیاکررہے ہو؟اُلٹااخبارکون پڑھے گا؟یہ اُن کی سادہ دلی تھی۔صرف اِس واقعےپرموقوف نہیں،اُن کامزاج ہی یہ تھاکہ اپنی لاعلمی کے نتیجے میں ہونے والی پریشانی کااظہارکرتے ہوئے کوئی باک محسوس نہیں کرتے تھے۔جب اُنھیں بتایاگیاکہ جب اخبارچھپے گاتوسیدھاچھپے گا؛تومطمئن ہوگئے۔

ایک بارمولانامحمداسلم شیخوپُوریؒ کی کال آئی کہ حضرت!اخبارمیں سیکڑوں پُروف کی غلطیاں ہیں،میں اس سلسلے میں اخبارکے عملے سے بات کرناچاہتاہوں؛تومیری ذمے داری لگائی کہ اخبارکالفظ لفظ پڑھ کرغلطیوں کی نشان دہی کرو،تاکہ معلوم ہوکہ کیاواقعی ایساہے؟
پھرمولاناشیخوپُوریؒ سے رابطہ کرکے اُنھیں بُلایا،وہ اخبارجس پرمیں نے اغلاط کی نشان دہی کی تھی،اُنھیں دِکھایااوریقین دلایاکہ آئندہ شکایت کاموقع نہیں ملے گا۔اس کے بعدعملے کوبُلاکرتنبیہ بھی کی۔

جامعہ میں شعبہ تصنیف کی تعمیر2004ءمیں مکمل ہوئی۔ستمبرمیں فراغت کے بعدراقم اپنے ہم جماعت علمااوروالدگرامی کے ساتھ تبلیغی چلّے پرتھاکہ دارالتصنیف میں تقرّرکی اطلاع ملی۔یہ مفتی صاحبؒ کااعتمادہی تھاکہ فراغت کے فوری بعدقرآن کریم کی تفسیرکے اعلیٰ کام سے عملی زندگی کاآغازہورہاتھا۔تفسیراوراخبارکے علاوہ،جب تک جامعہ میں میڈیاسیل کاباقاعدہ قیام عمل میں نہیں آیاتھا،مفتی صاحبؒ کے لیے ٹاک شوزاوربیانات کےموادکی تیاری بھی دارالتصنیف سے متعلق رہی۔مفتی صاحبؒ کاحافظہ بہت تیزتھا،اُنھیں برسوں قبل پڑھی ہوئی بات بھی یادرہتی تھی۔بس ہماراکام تھاکتب کی مراجعت کے ذریعے اُس کی توثیق کرنا۔الحمدللہ!اس حوالے سے بھی مفتی صاحبؒ کااعتمادراقم کوحاصل رہا۔بس اکابرکی اہمیت کودل ودماغ میں پیوست کرنے کے لیے اُن کاحکم تھا:اپنے شعبے کے بڑوں کودِکھادیاکرو۔کبھی یہ بات طبع پرگراں بھی گزرتی تھی؛مگراب شعبے کےاکابرکی نیابت کے کٹھن مرحلے سے گزرتے ہوئے احساس ہوتاہے کہ اُن کی یہ ہدایت کتنی مفیدتھی۔
یہ اُن بڑوں کی تربیت ہی کافیضان ہے کہ الحمدللہ!تفسیرکے کام کے تسلسل میں کوئی کمی نہیں آئی،حالانکہ شعبے کے رئیس مولاناحافظ محمدصادق شدیدعلیل اورکئی ماہ سے صاحبِ فراش ہیں اورنائب رئیس مولانامحمدحسین صدیقی تدریسی مصروفیات کی وجہ سے وقت نہیں دے پارہے۔راقم اوراُس کی تیارکردہ ٹیم تفسیرکے کام کواُن حضرات کے طے کردہ خطوط کے مطابق کررہی ہے۔قارئین سے اپنے اوراپنی ٹیم کے لیے اخلاص،ہمت واستقامت اورحافظ محمدصادق صاحب کے لیے صحت کی دعاؤں کی پُرزورعاجزانہ فدویانہ مؤدبانہ اپیل ہے۔
(جاری ہے۔۔۔۔)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.