Urdu News and Media Website

بکھری یادیں (تیسری قسط)

تحریر:مولانا_محمد_جہان_یعقوب
بات یہاں تک پہنچی تھی کہ ہمارااب یہ معمول بن گیاتھاکہ فجرکے بعدمفتی صاحبؒ کے ساتھ واک اورناشتاکرتے تھے۔اس کے بعدمفتی صاحبؒ کچھ دیربخاری جلدثانی کا،جواُن کے زیرِدرس تھی،سرسری مطالعہ کرتے پھرناشتے کی محفل سجتی۔اس محفل میں جوں ہی شرکت کے لیے مفتی صاحبؒ اٹھنے لگتے ہم بھی دفترسے اپنی درس گاہ کارُخ کرلیتے تھے،کیونکہ ناشتاتوہم کرہی چکے ہوتے تھے۔اس محفل میں جامعہ کے سینیئراساتذہ مدعوہوتے تھے۔جامعہ سمیت مختلف موضوعات پربات چیت ہوتی تھی اورہم بڑوں کے درمیان بیٹھنے کاخودکواہل نہیں سمجھتے تھے۔اس معمول میں جمعرات جمعہ کے ایام ابتداءًشامل نہیں ہوتے تھے،کیونکہ ہم اپنے گھریا24گھنٹے کی جماعت میں جایاکرتے تھے۔مفتی صاحبؒ کی طرف سے اس کی اجازت تھی۔

مہ وسال یوں ہی گزررہے تھے کہ ہماری بھابھی کسی جِلدی بیماری کاشکارہوگئیں اوربالآخرگھروالے ہنگامی طورپرمجھے اورمیری ہمشیرہ کو،جوبنات کے ایک مدرسے میں زیرِتعلیم تھی،تنہاچھوڑکرگاؤں منتقل ہوگئے۔بڑے بھائی کاارادہ فیملی کوگاؤں چھوڑکرجلدواپس آنے کاتھا،مگروہ نہ آسکے۔اتنے میں وفاق کے امتحانات کے فارم جمع کرانے کی تاریخیں آگئیں۔مفتی صاحبؒ کوصورت حال کاعلم تھا۔اُنھوں نے کمالِ شفقت سے مجھے دونوں کے فارمز کی فیس دی،یوں ہمارامسئلہ اس مردِدرویش کی توجہ سے حل ہوگیا۔یہ رازآج اُن کے اِس دنیاسے جانے کے بعدسامنے لارہاہوں۔ایک میں نہیں ایسے بیسیوں ملکی اورغیرملکی طلبہ وطالبات ہیں،جن کے ساتھ مفتی صاحبؒ اس طرح تعاون فرمایاکرتے تھے کہ دوسرے ہاتھ کوبھی خبرنہیں ہوتی تھی۔

مفتی صاحبؒ کومیرے مزاج کااندازہ تھااوراس بات کابھی کہ اس کے اوپرصرف اپناہی نہیں،ہمشیرہ کابھی بوجھ ہے،چنانچہ جامعہ کے ایک استادمفتی عبدالغفورسےجن کاجامعہ کے قریب مکتبہ تھا؛بات کی کہ یہ چھٹی کے بعدآپ کے پاس آیاکرے گا،اسے خرچہ پانی دے دیاکرنا۔اس مکتبے میں بیٹھنے کی وجہ سے میراایک اورمسئلہ بھی حل ہوگیا۔صاحبِ مکتبہ نے مجھے اجازت دی کہ جتنی بھی درسی شروحات اوراسٹیشنری کی ضرورت ہو،لے لیاکرواوراندراج کرادو۔میں نے کہا:اس کی ادائی کیسے ہوگی؟کہا:تم لکھناجانتے ہو۔میری کتابوں کی تصحیح وغیرہ کردیاکرو،میں یہ پیسے اُس معاوضے سے منہاکردیاکروں گا۔آج وہ صاحب پاکستان چھوڑچکے ہیں لیکن ان کی یہ نیکی کبھی نہ بُھولوں گاکہ جب میری فراغت ہوئی تواپنے گھرپرمیری دعوت کی اورکہا:جتنے بھی پیسے باقی ہیں وہ آپ کے عالم بننے کی خوشی میں معاف کردیے۔میراخیال ہے یہ رقم ہزاروں میں تھی۔اللہ اس نیکی کااُنھیں اپنے شایانِ شان اجرعطافرمائے۔

مجھے پوزیشنوں کی وجہ سے سال کے آخرمیں اچھی خاصی کتب ملتی تھیں۔وفاق کی پوزیشنوں پرجامعہ کے علاوہ قطب الاقطاب مفتی رشیداحمدلدھیانویؒ نے بھی کتابوں کے سیٹ ارسال فرمائے تھے۔ایک بارمیں نے مفتی صاحبؒ سے کہاکہ حضرت!کتابیں رکھنے کے لیے الماری کی ضرورت ہے۔فوراًاپنے دیرینہ ساتھی مولاناسیف اللہ ربانی سے کہاکہ جہان صدیقی کوکتابوں کے لیے الماری دلواؤ۔یہ الماری کئی برس میرے پاس رہی۔

بڑے بھائی توگاؤں میں رہ گئے۔ہم بہن بھائی پھوپھی کے گھررہنے لگے۔میراخامسہ کاسال تھاکہ یہ فیملی بھی اچانک گاؤں چلی گئی۔مجھے اس وقت علم ہواجب میں مدرسے سے چھٹی کے بعدبہن کے مدرسےگیااوراُسے لے کرپھوپھی کے گھرآیا۔یہ میرے لیے ایک اوربڑادھچکاتھا۔جب تک میرے دوسرے بھائی گاؤں سے نہیں آگئے ہم ایک کزن کے گھرآتے جاتے رہے۔

پھرمیرے منجھلے بھائی کوہماری سرپرستی کے لیے بھیج دیاگیا۔میں نے موجودہ مہتمم مولانامفتی محمدنعمان نعیم صاحب کے ذریعے،جومجھ سے ایک درجہ پیچھے تھے،مفتی صاحبؒ تک تحریری درخواست پہنچائی کہ میرے بھائی کوکہیں لگوادیں۔عشاکواُنھیں درخواست ملی۔فجرکے بعدمجھ سے پُوچھا:تمھارابھائی کتناپڑھاہواہے؟کیاکام جانتاہے؟
میں نے بتایا:میٹرک میں ہے۔لکھناپڑھناجانتاہے،توفرمایا:آج ہی اپنے بھائی کودوپہرمیں لے آؤ،میں مولوی غلام رسول سے کہتاہوں کہ اس کی ترتیب بنادے۔چنانچہ مفتی صاحبؒ کی توجہ سے میرابھائی کام پرلگ گیا۔مولاناغلام رسول صاحب نے بھائی کوصفامسجدشریف آبادمیں اجتماعی قربانی کی بُکنگ پرمامورکیاپھراس کے حسنِ کارکردگی کی وجہ سے مولاناسیف اللہ ربانی صاحب کے ذریعے بھائی کی بنوریہ ویلفیئرمیں ترتیب بنادی۔یہاں 2010ءتک بھائی نے کام کیا۔جب ذاتی وجوہات پربھائی نے استعفادیاتومفتی صاحبؒ اورنعمان صاحب مجھے کہتے رہے کہ بھائی کوسمجھاؤ،بہرحال وہ نہ مانااورکچھ عرصہ اپنے ویلفیئر کی ترتیب بنانے کی کوشش کی،مگربات قابومیں نہ آئی توگاؤں چلاگیا۔اب وہیں ہے۔

مفتی صاحبؒ کے یہ ایسے احسانات ہیں جن کی وجہ سے میں ہی نہیں میرے والدین بھی اب تک ان کے لیے سراپادعاہیں۔میری ہمشیرہ اب تک کہتی ہیں کہ میں مفتی صاحبؒ کی برکت سے عالمہ بنی ہوں۔مفتی صاحبؒ کےان حسنات کااجراُنھیں ہم تونہ دے سکے،لیکن خلاقِ عالم نے اُنھیں ہرہرنیکی کااجریقیناًہزارگنابڑھاکردے دیاہوگا۔
(جاری ہے۔۔۔)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.