Urdu News and Media Website

بکھری یادیں (دوسری قسط)

تحریر:مولانا_محمد_جہان_یعقوب
ناظم صاحب کے حکم کے مطابق عصرکی نمازکے بعدمیں اُن سے ملا،مفتی صاحب مسجدسے نکل کرصحن تک آچکے تھے۔ناظم صاحب میراہاتھ پکڑکراُن کے پاس لے گئے اوربتایاکہ یہ ہے وہ طالب علم جس کی وفاق میں پوزیشن آئی ہے۔مفتی صاحب واپس مڑے اورمسجدکے صحن میں بیٹھ گئے۔ہم بھی ساتھ ہی بیٹھ گئے۔میری بڑی حوصلہ افزائی فرمائی اورجیب سے کچھ رقم نکال کربطورانعام دیتے ہوئے ناظم صاحب سے کہنے لگے:ناظم صاحب!ایسے بچے ہماراسرمایہ ہیں،اس کاپوراخیال رکھیے گا۔پھرمیری طرف متوجہ ہوکرکہنے لگے:کوئی بھی مسئلہ ہو،آکرمجھے بتانااورروزفجرمیں مجھ سےملنا۔ایک بین الاقوامی معیارکی جامعہ کے مہتمم کی ایک بچے سے یہ شفقتیں؛اللہ اکبر!مفتی صاحب کی یہی شفقتیں ہی توتھیں جوہرملنے والے کوان کےدام محبت کااسیربنادیتی تھیں؎
ایساکہاں سے لائیں کہ تُجھ ساکہیں جسے

اب مجھے روزفجرکی نمازکے بعداس عظیم شخصیت کی ہمراہی کاشرف ملنے لگا۔فجرکی نمازسے فارغ ہوکرعمل الیوم واللیلة نامی کتاب سے کچھ وظائف پڑھتے تھے۔کوئی طالب علم یااستادملنے آتاتواس کی بات سنتے تھے۔پھرواک کے لیے نکل پڑتے تھے۔میں ان کاہاتھ تھامے ہوتا۔واک کے اختتام پربنوریہ ہوٹل میں ناشتہ ہوتا۔مفتی صاحب توصرف پھیکی چائے پیتے تھے البتہ ہم جومنگاناچاہتے منگاسکتے تھے،ادائی مفتی صاحب اپنی جیبِ خاص سے فرماتے۔

یادوں کے ہجوم میں کہیں یہ اہم بات رہ نہ جائے جس میں ہم سب کے لیے سبق ہے؛اس لیے اسے یہاں تحریرکیے دیتاہوں۔مفتی صاحب کی عادت تھی کہ وہ اپنے ہوٹل،مکتبے،سپرمارکیٹ سے بھی جتنی خریداری کرتے،اسی روزاس کابِل اداکردیاکرتے تھے۔مذکورہ اداروں کے بِل لیے ملازم روزہی اُن کے دفترآتے اوراپنی اپنی رقم لے کرجاتے تھے۔یہ ان کے کمالِ احتیاط اوراصول پسندی کابیّن ثبوت اورواضح دلیل ہے۔جوشخص اپنے ہی اداروں کے ساتھ معاملات میں اس درجے محتاط ہو،تصورکیجیے!وہ عوامی عطیات کے خرچ وصرف میں کتنی احتیاط برتتاہوگا۔اکثرفرمایاکرتے تھے:اجتماعی اموال کی چوری اورخیانت اتنابڑاگناہ ہے کہ اس کی تلافی ممکن ہی نہیں۔اس میں اَن گِنت لوگوں کاپیساہوتاہے جن سے معافی مانگناممکن ہے اورنہ ہی اُن کی رقوم اُنھیں لوٹانا۔اس لیے اس گناہ سے بہت زیادہ بچناچاہیے۔

مفتی صاحب اپنے بڑے پن اورشفقت کی وجہ سے ہرچھوٹے بڑے کی ہربات سُن لیاکرتے تھے۔جامعہ کاادنیٰ ملازم اورمزدوربھی اُن سے بے دھڑک بات کرسکتاتھا۔عام طورپرکہاجاتاہے:بڑے حضرات کانوں کے کچے ہوتے ہیں۔جوچرب زبان ہو،اسی کی بات کوحرفِ آخرسمجھاجاتاہے؛اس کاآپ کوبھی مشاہدہ ہواہوگا،ہمیں بھی کئی تجربے ہوئے ہیں۔

خیر،آمدم برسرمطلب!مفتی صاحب کی اس حوالے سے ایک منفردخوبی،جس کااُنھیں قریب سے جاننے والوں کویقیناًمشاہدہ ہواہوگا۔۔۔وہ یہ کہ کوئی شخص اگرمفتی صاحب کے پاس کسی کی شکایت لے کرجاتاتومفتی صاحب اُس کی پُوری بات سننے کے بعداُس دوسرے شخص سے بذریعہ انٹرکام اسی وقت رابطہ کرتے تھے کہ میرے پاس فلاں آیاہواہے اورآپ کے بارے میں یوں یوں کہہ رہاہے۔۔۔یااُس کوالگ سے بُلواکراستفساراورجواب طلبی کرتے تھے۔بہرطورمفتی صاحب یک طرفہ فیصلہ نہیں کرتے تھے۔یہ ایک ایسی خُوبی ہے جوفی زمانہ اہلِ اختیارمیں تقریباً ختم ہوتی جارہی ہے،جس کی وجہ سے حق تلفیاں اورمظالم عام ہیں۔اصیل رااِشارہ بس است!

مفتی صاحب کی ایک اورخُوبی جس کاخودمجھے اپنے حوالے سے بھی تجربہ ہواکہ اگرکوئی ان کاقریب ترین شخص بھی کسی بزرگ استادیاانتظامی شخصیت کے حوالے سے کسی ایسے جذباتی پن کااِظہارکرتاجواُس شخصیت کے مقام ومنصب یاعزت ووقارسے فروترہوتاتومفتی صاحب اِس قریبی شخص کوسمجھاتے،اُس کاغصہ ٹھنڈاکرتے اورمصالحت یامعافی پرآمادہ کرتے تھے۔میرے تقررکے ابتدائی دن تھے۔تب میں کافی جذباتی ہواکرتاتھا۔ہم تفسیرکاجتناکام لکھتے تھے وہ اپنے نگران کے پاس لے جاکرپڑھتے تھے۔نگران صاحب اس میں مزیدردوبدل کراتے تھے۔ایک بارمیں نے کسی چیزکی مُرادومصداق کی تعیین میں بیان القرآن (ازحکیم الامت مولانامحمداشرف علی تھانویؒ)کے حوالے سے کوئی قول نقل کیا۔نگران صاحب نے سُناتواُس قول کوردکردیا۔میں نے جھٹ سے کہا:یہ میری نہیں،حضرت تھانویؒ کی بات ہے۔اِس پروہ کہنے لگے:شایدحضرت اُس وقت کسی خاص کیفیت میں ہوں گے۔ہمیں یہ ریمارکس،جوہمارے فہم کے مطابق اکابرکی گستاخی پرمشتمل تھے،ہضم نہ ہوئے اورہم احتجاجاًکام ادھوراچھوڑکراٹھ گئے۔نگران صاحب نے یہ بات دل پرلی اورجامعہ آناترک کردیا۔کئی دن بعدعصرکی نمازسے فارغ ہوکرمفتی صاحب سے ملاقات ہوئی توبتایاکہ وہ تیری وجہ سےنہیں آرہے۔میں گاڑی اورڈرائیوردیتاہوں،تُواُن کے گھرجاکرمعافی مانگ لے۔مفتی صاحب کی شفقتوں نے ہمیں کافی جری بنادیاتھا۔ہم نے صاف انکارکردیا۔بالآخرہمیں اِس پرآمادہ کیاکہ میں اُنھیں کل بُلواتاہوں،تم بالشافہہ معافی مانگ لینا۔موصوف کوبھی اس کی خبردی۔موصوف میرے والدکی عمرکے بُزرگ ہیں،وہ دفترتشریف لائے اورمعافی تلافی ہوگئی۔؎
اب اُنھیں ڈھونڈچراغ رخ زیبالے کر (جاری ہے۔۔۔)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.