Urdu News and Media Website

بکھری یادیں

تحریر:مولانا_محمد_جہان_یعقوب
میرے گاؤں کے بعض لڑکے جامعہ بنوریہ عالمیہ میں دینی تعلیم حاصل کرتے تھے۔ہرجمعرات کویہ لڑکے ہمارے ڈیرے میں آیاکرتے تھے۔ان کوجوعزت ملتی تھی اوران کی جوآؤبھگت ہوتی تھی اس کی وجہ سے بچپن سے ہی دل میں یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ دینی تعلیم میں بڑی عزت ہے۔سب سے چھوٹااورسب کالاڈلامیں تھا،لیکن جمعرات کویہ لوگ میری جگہ لے لیتے تھے اوران کی چائے کے لیے دودھ لینے بھی مجھے ہی بھیجاجاتاتھا۔گویایہ آرام کرتے تھے اورمیری دوڑیں لگ جاتی تھیں۔میرے رشتے کے دوکزن اورکچھ اوررشتے دارجامعہ بنوری ٹاؤن میں پڑھتے تھے۔گاہے جب یہ ہمارے ہاں آتے تومجھے دینی تعلیم کی ترغیب دیاکرتے تھے کہ تم ذہین اورمحنتی ہو؛اگردینی تعلیم کی طرف آؤتوبہت آگے نکل جاؤگے۔

یہ تھے وہ ابتدائی نقوش جوذہن میں ثبت ہوچکے تھے،چناں چہ جب 1997ءمیں میٹرک کرلیاتوآدم جی جیسے اچھے انجینئرنگ کالج میں داخلے کی ترتیب بننے کے باوجودفیصلہ کیاکہ نہیں،اب مدرسہ پڑھناہے؛حالاں کہ فرسٹ ایئرکاکورس بھی لے چکاتھا۔یہ بڑی لمبی داستان ہے کہ والدصاحب اورپھوپھاکوکس طرح راضی کیا۔فی الحال اس سے صرفِ نظر۔قصہ مختصرمارچ کے ابتدائی دن تھے جب ہم نے تنِ تنہاداخلہ لینے کے لیے جامعہ بنوریہ عالمیہ میں قدم رکھا۔ایک ہی دن میں داخلے کی کارروائی مکمل ہوگئی اورچنددن میں ہم نے یہیں مستقل سکونت اختیارکرلی۔

مفتی محمدنعیم کانام اخبارات میں پڑھ رکھاتھا۔ہمیں بچپن سے اخباربینی کاجنون کی حدتک شوق رہا۔کبھی کسی نائی کی دکان پرتوکبھی چائے کے کھوکھے پرہم اخبارچاٹ رہے ہوتے تھے۔گھرمیں جنگ اخبارشروع سے آتاتھا۔خیر،مفتی صاحب کے نام سے واقف تھے۔غالباًچھٹی ساتویں جماعت کی بات ہے،اردوکی کاپی پرالفاظ کے جملے بناتے ہوئے ہم نے قائدکایہ جملہ بنایا:مفتی محمدنعیم سنی مجلس عمل کے قائدہیں۔ہمارے اردوکے استادتھے مولاناعبدالقادرسعیدی؛انھوں نے جملہ پڑھاتوپوچھابھی کہ تم ان سے کیسے متعارف ہو؟ہم نے بتایا:اخبارمیں ان کانام پڑھ رکھاہے؛توخاموش ہوگئے۔موصوف بریلوی مسلک کے سکہ بندخطیبوں میں سے تھے۔غالباًانتقال کرچکے ہیں۔اللہ انھیں غریقِ رحمت کرے۔

جامعہ میں داخلے کے بعدتمام طلبہ کی طرح مفتی صاحب کاکبھی قریب سے توکبھی دُورسے دیدارہوتارہتاتھا۔مفتی صاحب سہ ماہی امتحانات کے دوران ایک بارچندمعاونین کے ساتھ امتحان گاہ کے دورے پرآئے۔انگریزی کاپرچہ تھا۔میں پرچے پرخطاطی کے جوہربکھیرنے میں محوتھا؛کہ میرے قریب آکرکافی دیرکھڑے رہے۔پھرپوچھابھی کہ کس درجے میں پڑھتے ہو؟کتنااسکول پڑھاہے۔بعدمیں ہماراپرچہ دفتراہتمام میں منگواکربھی اپنے متعلقین کودکھایا۔آپ اس کو مفتی صاحب سے ہماری باقاعدہ پہلی ملاقات کہہ سکتے ہیں۔اس سے صرف دیدارہوتاتھا۔بقول شاعر؎
ملتے توروزرہتے ہیں پربات نہیں ہوتی
سہ ماہی امتحانات میں ہماری پورے جامعہ میں پہلی پوزیشن آگئی،یوں ہمارانام اورتذکرہ مفتی صاحب سمیت جامعہ کے اساتذہ وانتظامیہ تک پہنچ گیا۔یقیناًیہ میرے والدین کی دعاؤں اوراساتذہ کی شفقت کاثمرتھا۔ورنہ؎
من آنم کہ من دانم

وقت یوں ہی گزرتارہا۔ہم دوسرے درجے میں آگئے۔وفاق کاامتحان دے کرہم گاؤں چلے گئے۔ہمیں ضربِ مؤمن کے ذریعے معلوم ہواکہ اللّٰہ نے ہمیں پورے صوبہ سندھ میں پہلی اورپورے پاکستان میں دوسری پوزیشن سے نوازاہے۔شوال میں جب واپسی ہوئی توایک دن کلاس سے ناظم صاحب کابُلاواآگیا۔فرمانے لگے:آج عصرکی نمازچھوٹی مسجدمیں پڑھنااورنمازکے بعدمجھ سے ملنا۔مفتی صاحب باربارپُوچھتے ہیں:وہ لڑکاکہاں ہے جس نے وفاق میں پوزیشن لی ہے۔(جاری ہے۔۔۔۔)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.