Urdu News and Media Website

مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ۔۔۔ ایک تعارف

خاندانی پس منظر

محمد نعیم کے والد قاری عبد الحلیم جب چار برس کے تھے تو اپنے والد یعنی مفتی نعیم کے دادا کے ہمراہ پارسی سے اسلام میں داخل ہوئے تھے۔

ان کا تعلق بھارتی گجرات کے علاقے سورت سے تھا، تقسیم ہند سے قبل ہی پاکستان آ گئےتھے۔مفتی محمدنعیم اگست 1958میں کراچی میں پیداہوئے۔بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔

عصری ودینی تعلیم
مفتی محمدنعیم نے کراچی بورڈسے میٹرک کی۔اس کے علاوہ
جامعہ کراچی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کی،
آپ کے مقالے کا عنوان اسلام میں معذوروں اور
مجبوروں کے مسائل وحقوق تھا۔ پی ایچ ڈی کی ڈگری
کے حامل ہونے کئے باوجوداپنے نام کے ساتھ ڈاکٹر
لکھوانا پسند نہیں کرتے تھے۔

ناظرہ وحفظ قرآن کریم کی تعلیم پنے والدقاری عبدالحلیمؒ اور نانک واڑہ
سے حاصل کی اور اعلیٰ تعلیم جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن
سے حاصل کی اور سنہ 1979ء میں فارغ التحصل ہوئے۔

دینی خدمات

فراغت کے بعد 16 سال تک جامعہ بنوری ٹاؤن میں بطور استاد خدمات انجام دیں۔
ان کا شمار جامعہ کے بہترین اساتذہ میں ہوتا تھا۔
سنہ 1979ء میں جامعہ بنوریہ عالمیہ کا قیام عمل میں لائے۔
تصنیفی خدمات

مفتی محمد نعیم تصنیفی وتالیفی خدمات کے حوالے سے بھی معروف ہیں۔
جب اہتمام کی مصروفیات اور امراض کی وجہ سے خود لکھنامشکل ہوگیا
تواپنی نگرانی میں تالیفی وتصنیفی کاموں کا سلسلہ جاری رکھا۔
اس عرصے میں ان کی نگرانی میں لکھی جانے والی کتابوں کی تعداد
درجنوں میں جبکہ اصلاحی کالموں،مضامین اور مقالات کی
تعداد ہزاروں میں ہے۔یہ تمام کام ان کی نگرانی میں
جامعہ بنوریہ عالمیہ کے شعبہ تصنیف وتحقیق سے کیے گئے۔
ان کاموں میں ایک گراں قدر تفسیر روح القرآن بھی شامل
ہے جس کی اب تک سات جلدیں چھپ کر منظر عام پر آچکی ہیں،
جو 16سپاروں کی تفسیر پر مشتمل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: حضرت حلیمہؓ کی شان

اس کے علاوہ جلد اول کا نظرثانی شدہ ایڈیشن بھی منظر عام پر آچکاہے۔

تفسیرپرکام جاری ہے۔اس کے علاوہ اس شعبے سے
درج ذیل کتابیں شائع ہوکر منظر عام پر آچکی ہیں:م
سئلہ رویت ہلال۔زلزلہ۔نماز(سوالاجوابا)۔محمد الرسول اللہ۔
میرے نبی۔150اصلاحی کتابچے۔اوقات نماز کا دائمی نقشہ۔
علاوہ ازیں مفتی محمد نعیم کے درسی افادات پر مشتمل مقامات حریری
کی شرح المواہب النعیمیہ کے نام سے ان کے شاگرد
مولانا غلام رسول(ایڈمنسٹریٹرجامعہ بنوریہ عالمیہ)نے مرتب
کرکے شائع کی ہے۔ان کے شرح جامی کے دروس کو کتابی
شکل دینے کا کام ان کے ایک اور شاگرد مولانامحمد ارشد
(ناظم جامعہ عثمانیہ احیاء العلوم سعیدآبادکراچی)کررہے تھے،

یہ کام ان کے اچانک انتقال کی وجہ سے پایہ تکمیل کو نہ پہنچ سکا۔
مفتی محمدنعیم کی ایماپر کئی کتب لکھی گئیں جن میں سے ایک کتاب
فرق باطلہ اور صراط مستقیم کو فرق جدیدہ کے انسائیکلوپیڈیاکی
حیثیت حاصل ہے۔یہ کتاب کئی مدارس میں نصابی کتاب کے
طور پر پڑھائی جاتی ہے۔اسے بیت الاشاعت کراچی نے
شائع کیاہے۔

صحافتی خدمات

مفتی محمدنعیم ایک دینی رسالے البنوریہ اور
مدارس دینیہ کے ترجمان اخبارالمدارس کے ایڈیٹر انچیف تھے۔
وہ پرنٹ والیکٹرانک میڈیاکے محاذپرمتحرک اور
بیدارمغزشخصیات میں شمارہوتے تھے ۔
ان کے انٹرویوز،ٹاک شوز،اخباری بیانات کی وجہ سے
عوام میں ان کی خاص شناخت تھی۔اس کے لیے انھوں
نے اپنے جامعہ میں باقاعدہ میڈیاسیل،چینل اور
آئی ٹی ڈپارٹمنٹ قائم کررکھاتھا۔مفتی محمدنعیم کااصلاحی کا لم ہر
جمعے کو روزنامہ جنگ میں شائع ہوتاتھا۔اس کے علاوہ اہم مواقع
کی خصوصی اشاعتوں میں بھی ان کے مضامین شائع ہوتے رہے۔

مفتی محمدنعیم کی نگرانی میں متعدد اکابر وبزرگوں کی سوانح حیات پرمشتمل کتابیں
شائع ہوئیں۔ان شخصیات میں حضرت جی مولاناانعام الحسن کاندھلوی،
مولاناڈاکٹرنظام الدین شامزئی،حضرت مولانامفتی زین العابدین اور
مفتی محمد نعیم کے ہردلعزیزاستادمولاناڈاکٹر محمدحبیب اللہ مختارشہیدشامل تھے۔

سماجی خدمات

مفتی محمدنعیم ایک سماجی راہ نمابھی تھے۔سائٹ ہی نہیں کراچی بھر کے
دکھی لوگ اورکاروباری افراد ان کے پاس مشورے اور اپنے مسائل
کے حل کے لیے آتے تھے۔انھوں نے غریبوں کی امداد کے لیے
باقاعدہ بنوریہ ویلفیئرٹرسٹ کے نام سے رفاہی ادارہ بھی قائم
کررکھاتھا۔حالیہ لاک ڈاون میں بنوریہ ویلفیئرٹرسٹ کی طرف
سے دو سو خاندانوں میں راشن تقسیم کیاگیا۔

وفات

20 جون 2020ء کونمازمغرب کی ادائی کے بعدطبیعت خراب ہوئی۔
ہسپتال لے جاتے ہوئے راستے میں دل کادورہ پڑااور انتقال کرگئے۔
ان کےجنازے میں ایک محتاط اندازے کے مطابق تین لاکھ سے
زائدافراد شریک ہوئے ۔جنازہ مفتی محمد تقی عثمانی نے پڑھایا۔
ان کی تدفین جامعہ بنوریہ عالمیہ کے قبرستان میں ہوئی۔

تحریر:مولانا محمد جہان یعقوب۔۔۔

molana jehan yaqoob

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.