Urdu News and Media Website

باپ تن آور درخت اور گھنا سایہ

تحریر : عاصمہ حسن
والدین کی اہمیت کیا ہوتی ہے کوئی ان سے پوچھے جن کے سر پر والدین کا سایہ نہیں ہوتا ـ
ماں سے محبت اور ماں کی قربانیوں کے بارے میں ہر وقت بات کی جاتی ہےـ لیکن باپ کی محبت کسی بھی طرح ماں کی محبت سے کم نہیں ہوتی لیکن کیونکہ ماں کے ساتھ ہمارا وقت زیادہ گزرتا ہے اس لئے مانوسیت زیادہ ہوتی ہے ـ ماں دوست کی حیثیت اختیار کر جاتی ہے جس کا کہا برا بھلا سب پیارا لگتا ہے ـ چونکہ والد سارا دن معاش کے سلسلے میں گھر سے باہر ہوتے ہیں اس لئے ان کے ساتھ وہ گہرا تعلق نہیں بن پاتا ـ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ محبت دونوں طرف برابر ہوتی ہے ـ
ماں ہو یا باپ دونوں کے بغیر زندگی گزارنا بہت مشکل ہے ـ باپ وہ ہستی ہے جو محبت کا اظہار بہت کم کرتی ہے اپنا پیار’ جزبات اور احساسات دل میں چھپا کر رکھتا ہے باپ ایک گھنا سایہ ہوتا ہے جسکے سائے تلے سکون ہی سکون ہوتا ہے ـ
باپ کی مثال گھر کی چھت کی طرح ہے جو دھوپ’ گرمی’ سردی سے بچاتا ہے ـ خود تو تکلیف سہہ لے گا لیکن اپنی اولاد کو دکھ’ تکلیف یا پریشانی میں نہیں دیکھ سکتا ‘ خود تو پھٹے جوتے ‘ پرانے سوٹ میں گزارا کر لے گا لیکن اپنی اولاد کی ہر فرمائیش کے لئے ہر قربانی دینے کو تیار ہو جاتا ہے ـ
باپ وہ شفیق ہستی ہے جو غصے میں بہت کم نظر آتی ہے ـ مجھے آج بھی اچھی طرح یاد ہیں وہ بچپن کے دن جب میں کوئی غلط کام کرتی تو امی کی ڈانٹ کے خوف سے بھاگ کر ابو کے پاس چلی جاتی اور وہ فورا سمجھ جاتے کہ میں کوئی کارنامہ سرانجام دے کر آئی ہوں امی کو بولتے کہ "میری بیٹی میری جان ہے اس کو بس ڈانٹا نہ کرو ” باپ کے علاوہ ایسا کوئی نہیں بول سکتا وہی وہ ہستی ہے جو آپ کی ساری غلطیوں کو ‘ کوتاہیوں کو اپنے اندر دفن کر لیتا ہے اور آپ پر آنچ نہیں آنے دیتا زمانے کی گرم ہوا سے’ ہوس سے بھری نظروں سے بچا کر رکھتا ہے ـ
یہ والدین بھی بڑے دل کے مالک ہوتے ہیں ـ جتنا پیار یہ اپنی اولاد کو دیتے ہیں اس کا ایک چھوٹا سا قرض بھی ہم نہیں اتار سکتےـ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اسکول پھر کالج سے لینے کی ذمہ داری میرے ابو کی تھی مجھے یاد نہیں پڑتا کی کبھی وہ لیٹ ہوئے ہوں گرمی’ سردی’ بارش’ آندھی یا طوفان جیسا بھی موسم ہوتا وہ چھٹی کے وقت سے پہلے گیٹ پر پہنچ جاتے اور انتظار میں کھڑے ہوتے میں اکژ دیر سے نکلتی ‘ خفا ہونے کی بجائے بڑے پیار سے پوچھتے کہ آج میری بیٹی کا دن کیسا گزرا ‘اور گاڑی میں اے سی میری طرف کر دیتے ٹھنڈا پانی ساتھ لے کر آتے کہ میری بیٹی کو پیاس لگی ہو گی ایسا جگرا صرف ایک باپ کا ہی ہو سکتا ہے ـ
یہ باپ ہی ہوتا ہے جو بچوں کی ہر خواہش پوری کرنے کے لئے در در کی ٹھوکریں کھاتا ہے خود پر تو جبر کر لیتا ہے لیکن اپنی اولاد کو محرومی کا احساس نہیں ہونے دیتا ـ
جو باپ ہوتا ہے وہ ماں کی طرح اپنے جزبات کا اظہار نہیں کر پاتا لیکن اولاد کی ہر خواہش سے باخبر ہوتا ہے ـ مجھے ڈرامہ دیکھنے کا بہت شوق تھا اُس زمانے میں صرف ایک ٹی وی ہی انٹرٹینمنٹ ہوتی تھی اور رات کو آٹھ سے نو ڈرامہ لگا کرتا تھا اس کے بعد خبرنامہ سنا جاتا اور ٹی وی بند ہو جاتا مزے کی بات تھی کہ ہمارا دودھ والا بھی ڈرامے کے دوران ہی آتا نہ ادھر نہ ادھر اب امی نے کہا کہ دودھ دیکھو جا کر ابال نہ آجائے اب انکار تو کیا نہیں جا سکتا تھا لہذا کچن کی طرف جانا پڑا لیکن پیچھے پیچھے ابو بھی آ گئے میں نے پوچھا آپ کو کچھ چاہئیے کیا ؟ بولے نہیں بیٹا آپ جا کر ڈرامہ دیکھو میں دودھ کو دیکھ لیتا ہوں اتنا لاڈ اور پیار باپ کے علاوہ کوئی نہیں اُٹھا سکتاـ
یہ صرف باپ ہی ہوتا ہے جو اپنا سب کچھ اپنی اولاد کے لئے قربان کر دیتا ہے ان کا مستقبل بنانے ‘ ان کے خواب پورے کرنے کے لئے اپنے خواب منوں مٹی تلے دبا دیتا ہے ـ اپنا آپ بھول جاتا ہے وہ اک شخص جب باپ بن جاتا ہے ـ
جہاں بیٹے والد کو اپنا ہیرو مانتے ہیں وہیں بیٹیوں کے لئے باپ ان کا پہلا پیار ہوتے ہیں یہ رشتہ اتنا خوبصورت اور انمول ہے کہ اس کا کوئی نعم البدل نہیں ـ
مجھے آج بھی یاد ہے کہ میں اپنے ابو کو گھوڑا بنا لیا کرتی تھی جو شخص کسی کے آگے جھکتا نہ ہو لیکن اپنی اولاد کے لئے گھوڑا بن کر بھی خوش ہوتا تھا ـ اسی طرح کبھی ابو کے بال بناتی’ پونیاں کر دیتی اکثر انکا میک اپ کرتی ان کو نیل پولش لگاتی ـ امی اکژ غصے میں آ کر بولتی کہ آپ بگاڑ رہے ہیں لیکن باپ تو ہوتا ہی شفقت’ پیار اور محبت کا پیکر ـ ساری دنیا کے لئے سخت چٹان لیکن اپنی اولاد کے لئے نرم موم کیطرح ـ
یہ بھی سچ ہے کہ ہر کامیاب ‘ پراعتماد لڑکی کے پیچھے اس کا باپ ہوتا ہے ـ ایک دفعہ مجھ سے گاڑی چلاتے ہوئے لگ گئی گاڑی کا کافی نقصان ہوا ابو کو کال کی سنتے ہی سب سے پہلے پوچھا تم تو ٹھیک ہو نا ؟ تمھیں تو چوٹ نہیں لگی ـ ان کو صرف میری فکر تھی ان کی بھرائی آواز سن کر میں پریشان ہو گئی کی ابو کو مجھ سے کتنا پیار ہے ـ میں نے اس ایکسیڈینٹ کے نتیجے میں گاڑی نہ چلانے کا فیصلہ کیا اس پر ابو نے بڑے پیار سے سمجھایا کہ جب تک میں زندہ ہوں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں نہ گھبرانے کی ـ تمھارے ساتھ تمھارا باپ کھڑا ہے ـ اگر اس وقت ابو مجھے اعتماد نہ دیتے تو میں کبھی دوبارہ گاڑی نہ چلا سکتی ـ اولاد کی شخصیت میں جو اعتماد آتا ہے وہ باپ ہی دیتا ہے اپنے پیار اور توجہ سے ـ
والدین اللہ کی بہت بڑی نعمت ہیں ان سے پیار کے اظہار کے لئے میں ایک دن مختص کرنے کے حق میں نہیں ـ ہر دن ان کے لئے ہے جنھوں نے اپنی ساری زندگی ہمارے لئے جی لی اور اپنا آپ بھلا دیا ـ اللہ سب کے والدین کو صحت و تندرستی والی لمبی عمر عطا فرمائیں اور ہمیں ان کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائیں ـ آمین

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.