Urdu News and Media Website

کراچی اور پی آئی اے 8303 جہاز کا دل خراش سانحہ

تحریر : عاصمہ حسن۔۔۔
22 مئی 2020′ جمعتہ الوداع کو ہر آنکھ اشک بار ہو گئی جب پی کے 8303 جس نے لاہور سے کراچی کے لئے پرواز بھری اور لینڈ کرنے سے ایک منٹ پہلے تمام مسافروں جن میں بوڑھے’ بڑے’ جوان اور بچے سب شامل تھے قریبی آبادی پر جا گری اور سوائے دو افراد کے سب جاں بحق ہو گئےـ 

اس سانحے پر لکھنا انتہائی مشکل کام ہے سمجھ نہیں آتا کہ کیسے اس دکھ کو’ کرب کو لفظوں میں ڈھالوں ـ کہاں سے اور کیسے لکھنا شروع کروں ـ

کرونا کی وبا کی تباہ کاریوں کی وجہ سے پہلے ہی دل دکھی تھا ہر لمحہ خوف اور ڈر نے گھیرا ہوا تھا گھروں میں محدود ہو کر رہ گئے تھے جو جہاں تھے وہیں پھنس گئے کوئی اپنے گھروں کو واپس نہ جا سکا’ کہیں مہمان آئے تھے وہ بھی وہیں کے ہو کر رہ گئے ساری سرگرمیاں ختم کر دی گئی تھی ایسے میں عید کے موقع پر حکومت نے لاک ڈاؤن کو ختم کیا پروازیں بحال ہوئیں لوگ اپنے پیاروں کے ساتھ عید منانے کے لئے تیاریاں کرنے لگے ـ

جمعتہ الوداع تھا نماز سے فارغ ہو کر ٹی وی لگایا تو پی آئی اے کے جہاز کے کریش ہونے کی
اندہوناک خبر دیکھنے کو ملی ـ دل دھک سے رہ گیا دل جیسے درد سے دکھ و تکلیف سے پھٹ گیا ہو
جیسے میرا کوئی بہت پیارا آنے والا تھا میں افطاری پر خاص احتمام کر رہی تھی ساتھ عید گزارنے
کے خواب آنکھوں میں سجائے ہوئے تھے ـ

اس جہاز پر وہی لوگ سوار تھے جو عید اپنے پیاروں کے ساتھ گزارنے جا رہے تھے جو کرونا اور

لاک ڈاؤن کی وجہ سے پھنس گئے تھے اب جیسے ہی پروازوں کا سلسلہ شروع ہوا تو وہ
اپنے پیاروں سے ملنے ایک ساتھ عید کی خوشیاں منانے چل پڑے ـ کسی کو کیا خبر تھی کے منزل
کے اتنے قریب آ کر بھی منزل پر پہنچ نہ پائیں گے ـ اپنے پیاروں کا دیدار نہ کر پائیں گے ـ
دوسری طرف انتطار تھا کہ کب جہاز لینڈ کرے گا بار بار گھڑیوں کو دیکھا جا رہا تھا لینڈنگ میں
ایک منٹ رہ گیا تھا بس انتظار تھا کہ جہاز لینڈ کرے ان کے پیارے باہر آئیں اور
گلے لگا لیں ـاور کلیجوں کو ٹھنڈ پڑ جائے ـ

ادھر گھروں میں مائیں ‘ بہنیں ‘ بھائی اور بیٹیاں انتظار میں تھیں ‘ گھر اسپیشل کھانوں کی خوشبو
سے مہک رہے تھے افطاری کے لئے خاص اہتمام کیا گیا تھا دسترخوان سجنے والے تھے
مائیں دل تھام کر بیٹھی تھیں کہ اپنی اولاد کو اپنی آنکھوں کے نور کو دیکھیں گی’ بار بار گھر کی
چوکھٹ کو تک رہی تھیں اور پوچھا جا رہا تھا کہ چیک کرو جہاز لینڈ کر گیا کتنا وقت رہ گیا
اب تو ٹیکنالوجی نے اتنی ترقی کر لی ہے کہ ہم جہاز کو بھی ٹریک کر لیتے ہیں اور اس کی
حرکات و سکنات کو فلائیٹ ٹریکر میں دیکھتے رہتے ہیں بس اماں ایک منٹ رہ گیا ہے
جہاز لینڈ ہونے میں ـ یہ کسی نے کب سوچا ہو گا کہ وہ ایک منٹ بس ایک منٹ
کبھی نہیں آئے گا ـ

وہ ایک منٹ اتنا بھاری پڑا کہ سب کی جان لے گیا ـ

ان مسافروں پر جن میں معصوم بچے بھی شامل تھے کیا گزری ہو گی جب جہاز رن وے پر اترا
ٹکرایا اور لینڈنگ کی ناکام کوشش کر کے پھر پرواز بھر لی جب وہ پندرہ منٹ اردگرد چکر
لگاتا رہا تب سب پر کیا گزر رہی ہو گی اپنی موت کو اتنا قریب دیکھ کر ‘ کسی نے ایسا کب
سوچا ہو گا کہ ان کی زندگی ختم ہونے والی ہے ‘ کیا معلوم کہ
جہاز کے اندر سب کلمے کا ورد کر رہے ہوں ـ

جب جہاز میں سفر کے دوران اونچائی پر ٹربولینس ہوتی ہے تو دل مٹھی میں آجاتا ہے اور
زبان سے بے اختیار کلمے کا ورد جاری ہو جاتا ہے ـ دل بند ہو جاتا ہے جب یہ سوچتی ہوں کہ
ان سب پر کیا گزری ہو گی جب ان کو معلوم ہوا ہو گا کہ جہاز میں ٹیکنیکل پرابلم آگیا ہے
انجن فیل ہو گئے ہیں اور جہاز لینڈ نہیں کر پا رہا ـ کیا معلوم تھا کہ ایک لمحہ میں سب جل کر
خاک ہو جائے گا ـ اپنے پیارے لواحقین بن جائیں گے جو ہمارے جسموں کو پہچان
بھی نہ کر پائیں گے’ گھڑی یا کپڑوں سے پہچان ہو گی ـ یا
پھر ڈی این اے ٹیسٹ کروایا جائے گا ـ

یہ بھی پڑھیں: کشمیر کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

ابھی تو وڈیو کال کی تھی کہ امی جہاز میں بیٹھ گیا ہوں بس تیار ہو جائیں میں آرہا ہوں

ـ کچھ خاندان باہر سے آ رہے تھے نانا نانی کے پاس عید گزارنے
یا اللّٰہ ایسا دکھ ایسا دن کسی دشمن کو بھی نہ دکھانا ـ
مسلمان ہونے کے ناتے ہمارا ایمان ہے کہ موت کا وقت مقرر ہے اور
ویسے ہی آئے گی جیسے اور جہاں لکھی گئی ہے اس کی مثال ہمیں اس سے بھی ملتی ہے کہ
ائیر ہوسٹس کو فلائیٹ سے اتار کر دوسری ائیر ہوسٹس کو بھیجا گیا پھر جس کی زندگی
اللّٰہ نے رکھی تھی وہ بچ گئے کیا پتہ اللّٰہ نے کوئی خاص کام ان سے لینا ہو یا
کوئی خاص عمل ان کا پسند آ گیا ہو ـ اللّٰہ کے راز وہی بہتر جانتا ہے ـ

دوسری طرف کہا جاتا ہے کہ گھر میں انسان محفوظ ہوتا ہے لیکن جو لوگ اپنے گھروں

میں تھے روزہ رکھ کر سو رہے تھے یا اپنے کاموں میں مصروف تھے ان کو کیا خبر تھی کہ
وہ بھی حادثہ کا شکار ہو جائیں گے اس جہاز کی لپیٹ میں آ جائیں گے اور وہ ہمیشہ
کے لئے سوتے رہ جائیں گے ـ ان کے ارمان ‘ خواہشات سب جل کر راکھ ہو جائیں گی
بس اس ایک آخری منٹ میں سب جل کر خاک ہو جائے گا
اور جب دھوئیں کے بادل چھنٹیں گے تو کچھ نہیں ہو گا سوائے راکھ کے ـ

ہماری زندگی عارضی ہے کس لمحے کیا ہو جائے کچھ خبر نہیں بس خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں
ـ زندگی کے سبھی رنگوں کے لطف اٹھا لیں اپنے پیارے رشتوں کے ساتھ وقت گزاریں
اچھی یادیں چھوڑ جائیں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہم ایک پل میں زندگی جی لیتے ہیں اور
کبھی زندگی گزار دیتے ہیں اس ایک خوشی کے پل کے لئے ـ ایسے لمحے
جن سے خوشی مل سکے اچھی یادیں وابستہ ہو سکیں ان کو کل پر نہ چھوڑیں ـ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.