Urdu News and Media Website

بچے ویڈیو گیم کی نقل میں عمارت سے کود گئے،والدین کا کمپنی پر مقدمہ

ویڈیو گیم کی نقل کرنے کے چکر میں بچے عمارت سے کود کر شدید زخمی ہوگئے، والدین نے گیم بنانے والی کمپنی پر مقدمہ دائر کر دیا۔

چین میں دو بچے ویڈیو گیم کے کرداروں کی طرح چھت سے کود گئے کیونکہ اس ویڈیو گیم کے کردار گرنے کے بعد بھی دوبارہ زندہ ہوجاتے ہیں۔ اس کے بعد والدین نے ویڈیو گیم کمپنی پر مقدمہ قائم کردیا ہے۔

یہ واقعہ چین کے شہر ہیندان میں پیش آیا جہاں
9 اور 11 برس کے دو لڑکے منی ورلڈ اور گیم آف پیس
کھیلتے ہوئے اپنی بلڈنگ سے چھلانگ لگانے کے بعد
اس وقت شدید زخمی ہیں۔ وہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے اس گیم
کو کھیل رہے تھے۔ اس کے بعد والدین نے

چینی گیم کمپنی ٹینسنٹ پر مقدمہ کردیا ہے۔

PUBG Mobile

پب جی نے نوجوان کی زندگی کے ساتھ ہی گیم کردی

اس گیم میں اوتارجیسے کردار عمارتوں سے گرتے ہیں
اور دوبارہ زندہ ہوجاتے ہیں۔ دونوں بچے لاک ڈاؤن
کی وجہ سے روزانہ 8 گھنٹوں تک یہ گیم کھیلتے رہے۔
اس کا ان پر اتنا اثر ہوا کہ انہوں نے گیم کے کرداروں
کو حقیقی سمجھ لیا اور 22 مارچ کو 50 فٹ کی بلندی سے
کود گئے۔
لیکن افسوس گیم کے برخلاف دونوں بچے دوبارہ ٹھیک
تو نہ ہوئے بلکہ ان کی کئی ہڈیاں ٹوٹ گئیں،
وہ بری طرح زخمی ہوئے اور اب ان کے
کئی آپریشن ہوچکے ہیں لیکن اب بھی بچے خطرے
سے باہر نہیں آسکے ہیں۔

ان میں ایک لڑکی اور ایک لڑکا شامل ہے۔

والدین نے تمام جمع پونجی بچوں کے علاج میں لگادی ہے
اور لوگوں کے عطیات سے ان کا علاج کرارہےہیں۔

PUBG Hack

ویڈیو گیمز میں’چیٹ کوڈز ‘ کا استعمال

منی ورلڈ گیم میں کردار کسی بھی طرح مرتے نہیں ہیں اور
وہ ہر حادثے میں زندہ رہتے ہیں۔
والدین کے مطابق ان کے بچے نارمل تھے اور وہ گیم
کے عادی ہوکر اس خطرناک اور جان لیوا تجربے
پر مجبور ہوئے۔
بیجنگ(ویب ڈیسک)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.