Urdu News and Media Website

ریسٹورینٹ میں سماجی دوری کیلئے مجسموں کا استعمال

چین کے شہر ووہان سے پھیلنے والے خطرناک کرونا وائرس کے دنیا بھرمیں وار جاری ہیں،جس کی وجہ سے دنیا بھر میں سماجی دوری کیلئے تمام تر عوامی مقامات، ریسٹورینٹس اور شاپنگ سینٹرز بند ہیں۔

کرونا وائرس کے پھیلاؤ سے بچنے کے لیے لوگ اپنے اپنے گھروں میں ہی موجود ہیں اور سماجی دوری اختیار کر رہے ہیں مگراس کے ساتھ ساتھ  اب وہ اپنے پرانے طرزِ زندگی اور باہر جا کر ریسٹورینٹس میں کھانا کھانے کو بہت یاد کرنے لگے ہیں۔

متعدد ممالک نے سماجی دوری کی احتیاط کے ساتھ
لاک ڈاؤن میں نرمی کرتے ہوئے ریٹسورینٹس اور
اور دکانوں کو کھولنے کی اجازت دی ہے۔
اب حال ہی میں امریکا کے ایک ریسٹورینٹ کی ٹیبلز پر
1940 کے اسٹائل کے مجسموں کو رکھا گیا ہے جو کہ
ریسٹورینٹ کھلنےکے بعد سماجی دوری کو برقرار رکھنے
کے لیے کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کرونا وائرس:’’اوبر‘‘ استعمال کرنے کیلئے آپ کو کیا کرنا ہوگا؟

اس حوالے سےریسٹورینٹ کےمالک کا کہنا ہے کہ
لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد ہم ایک مرتبہ پھر اپنا
ریسٹورینٹ کھول رہے ہیں اور اس وقت سماجی دوری
کا خیال رکھتے ہوئے ہم نے یہاں مجسمے بھی رکھ دیے ہیں
تاکہ ان کی وجہ سے اصل لوگ دور بیٹھ سکیں۔

یہ بھی پڑھیں: ٹوئٹر ملازمین اب ہمیشہ گھروں سے کام کریں گے

خیال رہے کہ اس سے قبل سوئیڈن میں سماجی دو ری پر
خاص عمل کرتے ہوئے ایک ایسا ریسٹورینٹ کھولا گیا ہے
جس میں ایک دن میں ایک ہی شخص کھانا کھا سکتا ہے اور
وہاں بیٹھنے کے لیے صرف ایک ہی ٹیبل لگی ہوئی ہے۔
واشنگٹن(ویب ڈیسک)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.