Urdu News and Media Website

ہولناک حادثہ اور خون کی ہولی کئی زندگیوں کے چراغ گل کر گئی

انسان نہ کچھ ہونے کے باوجود انا ،ضد ،گھمنڈ ،سفاکیت ،درندگی اوربربریت کے حوالے سے ایک ایسی انتہائی زہر آلودمخلوق ہے جس کا زہردنیا کی ہرجاندار چیز میں سب سے زیادہ خطرناک ہے یہ کرہ ارض پر واحد مخلوق ہے جس کا زہر منہ میں نہیں بلکہ دل میں ہوتا ہے،اسکی حیثیت کچھ بھی نہیں نہ کوئی اوقات ہے جب خداکی جانب سے اس کی پکڑ ہوتی ہے تب یہ بہت گڑ گڑاتا ہے ،اس کا رخ مسجد کی جانب اوراللہ کرنے کے علاوہ اسے کوئی کام نہیں ہوتا۔

قدرت کے بھی عجب نظارے ہیں ،ہزاروں سال گذرنے کے باوجود بھی انسان کے پاس آج بھی موت کا علاج نہیں،کچھ پتہ نہیں کوئی کب ،کہاں اورکیسے اپنے سانسوں سے محروم ہو جائے ،جب موت کا فرشتہ آنکھیں دکھاتا ہے تب دنیا میں اکڑ اکڑ کر چلنے والا ،باقی لوگوں کو کیڑا مکوڑا سمجھنے والا خودکیڑوں ،چیونٹینوںاور مٹی کی خوراک بن جاتا ہے،تب اس کی انا،ضد ،سفاکیت ،درندگی اور مال و دولت کا زعم مٹی مٹی ہو جاتا ہے۔

یہ انسان جہاں بہت بڑے مسیحا کے روپ میں نظر آتا ہے وہیں وہ
انسانیت کا بھی بدترین قاتل ہے،تب اسے کچھ نہیں سوجھتا وہ
کتنوں کو یتیم کر رہا ہے،کس ماں کی گود اجاڑ رہا ہے،کس باپ
کے آنکھ کے تارے کو توڑ رہا ہے،کتنی بہنوں کو ویر کے رشتے
سے ویران کر رہا ہے،وہ یہ تو کر ہی لیتا مگر اپنی رعونت کی بھینٹ
اپنے گھر والوں سمیت سارے خاندان کو چڑھا جاتا ہے،
پنجاب کے صوبائی دارلحکومت کے قریب شیخو پورہ شہر کے
تھانہ بھکی کے علاقہ کھاریانوالہ میں بچوں کے درمیان معمولی
اور اتفاقیہ لڑائی ہوئی ،بڑوں کے درمیان کچھ تلخ کلامی بھی ہوئی
جس پرمقامی افراد نے مداخلت کرتے ہوئے فریقین میں صلح
کرا دی معاملہ رفع دفع ہو گیا ،مگر ایک گروپ کے بڑوں کادماغ
خناس سے لبریز ہو گیا،بات دل و دماغ میں اٹک گئی اور

پھر وہ وقت آن پہنچا جب بدترین طریقے سے سر عام خون کی ہولی کھیلی گئی ،

دونوں فریق قاتل اور مقتول کا تعلق ایک ہی خاندان
سے ہے ،جب انسانی آنکھوں میں خون اترا آتا ہے تب وہ سب
کچھ فراموش کر جاتا ہے کہ اس کا مقابل کون ہے،ماہ مقدس ہے،
میری زندگی جیل کی سلاخوں پیچھے گزر جائے گی ،

یہ بھی پڑھیں: پیسے دینے سے انکار پر باپ کی فائرنگ، 2کمسن بیٹیاں جاں بحق

میرے بچے،بیوی ،بھائی اور خاندان کے دیگر
افراد کی زندگی کس نہج پر پہنچے گی ،ایسا ہی کچھ ہفتہ کے روز
ہوا جب دو موٹر سائیکلوں پر سوار جدید اسلحہ سے لیس
چار سفاک کرداروں نے اپنے ہی رشتہ داروں کو چن چن

کر مارا،کھاریانوالہ کے علاقے چنگڑ محلہ سے اٹھنےوالی
چنگاری نے شعلہ بن کر 8جانوں کو نگل لیا، موٹر سوار قاتلوں
نے کھیتوں اور بازاروں میں مخالف گروپ کے افراد کو
ڈھونڈ ڈھونڈ کر مارا،قاتلوں کا تعلق شفقت عرف سولی جٹ
اور مقتول گروپ کا تعلق خادم جٹ گروپ سے ہے،

یہ بھی پڑھیں: ٹک ٹاک ویڈیو بناتی طالبات کے ہاتھوں پولیس اہلکار قتل

جاں بحق ہونے والوں میں ماں ،باپ اوربیٹا بھی شامل ہے،

قاتلوں نے بشیراں بی بی کو راستے میں اس وقت گھیر کر گولیوں
سے چھلنی کیا جب وہ کھیتوں میں اپنوں کے لئے کھانا لے کر
جا رہی تھی اسے کیا خبر اب وہ لوگ کھانا نہیں بلکہ
گولیاں کھائیں گے،فیصل آباد میںروڈ پر اعجاز ملز کے سامنے
شان علی او رقربان علی کو نشانہ بنایا جن میں قربان موقع پر
جاں بحق جبکہ قربان کو زخمی حالت مین ہسپتال پہنچایا گیا،
باقی افراد کو گندم کی کٹائی کے دوران ڈیرہ پر شدید فائرنگ
سے قتل کیاگیا، دیگر مقتولین میں خادم حسین ،طفیل ،وحید ،

یسین ،اکبر اور تنویر شامل ہیں، اس سنگین وقعہ کی اطلاع

ملتے ہی DPOشیخوپورہ صلاح الدین بھاری نفری او ر
فرانزک ٹیموں کے ساتھ ،وقع پر پہنچ گئے ،مقتول پارٹی کے
افراد نے اس واقعہ کے بعدمخالفین کے گھروں پر پٹرول چھڑک
کر آگ لگا دی ،تاہم پولیس نے حالات پر کنٹرول کرتے
ہوئے ایک ملزم نعیم شاہ کو گرفتار کر لیا،باقی کی تلاش جاری ہے،

اس واقعہ سے ایک درجن سے زائد بچے یتیم ہو گئے،

قاتلوں کے خلاف پولیس نے تین مقدمات درج
کرنے کے بعد چھاپہ مار ٹیمیں تشکیل دے دیں،
مگر اتنا ؓربڑا ظلم ،اتنی بڑی سفاکیت سے پورا علاقہ
سوگواری میں ڈوب گیا کاش یہی افراد جن کا ایک
دوسرے کے ساتھ انتہائی قریبی اور خونی رشہ تھا
برداشت کا مظاہرہ کرتے تو خون کی اس ہولی سے
کئی گھر اجڑنے کی نوبت نہ آتی ،گھروں سے لاشیںنہ اٹھتی ،

اب بھی علاقہ کے لوگ اس خاندانی دشمنی کی روک تھام میں کردار ادا کریں

ورنہ ابھی نہ جانے کتنی جانیں اسی دشمنی کی
نذر ہو جائیں گی ،اسی شہر شیخو پورہ سے ایک روز قبل لیہ اور
میاں چنوں سے تعلق رکھنے والا ایک خاندان رات کے وقت
شیخو پورہ سے بذریعہ موٹر وے میاں چنوں واپس روانہ ہوا،
سرکاری نمبر پلیٹ والی LLE,5690 اے پی وی وین
میں سوار ایک ہی خاندان کے 12افرادشیخو پورہ ایک
فوتگی کی وجہ سے گئے تھے بد قسمت خاندان میں 6 خواتین 2 بچے
بھی شامل تھے، یہ لوگ عبدالحکیم انٹرچینج سے اتر کر میاں چنوں
کی طرف بڑھے تو تلمبہ کے قریب پل باہمن کے ساتھ نہرکنارے

رات 2بجے کے قریب موٹر سائیکل سے ٹکرانے کے بعدبے قابو
ہو کرمیلسی لنک کینال میں جا گری ،وین میں سوار تمام چھوٹے بڑے
اچانک آنے والی اس آفت کے نتیجہ میںتڑپ تڑپ کر موت کے
منہ میں چلے گئے،رات 2بجے انہوں نے میاں چنوںاپنی فیملی سے
فون پر رابطہ کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ہم میاں چنوں کے نزدیک
پہنچ چکے ہیں مگر جب کچھ دیر بعد گھر والوں نے کال کی تو

وین میں سوار تمام افراد کے موبائل بند ملے ،اس سے قبل

ان کی موت کا نہ اگلوں کو پتہ نہ پچھلوں کو،کئی گھنٹے گذرنے
بعد وہ منزل پر نہ پہنچے تو لواحقین نے ان کی تلاش شروع کر دی ،

یہ بھی پڑھیں: تربت میں بڑی دہشت گردی ۔ سپوت ماں دھرتی پر قربان

انٹر چینج سے انہیں گاڑی باہر نکلنے کا علم ہو گیا تب انہوں نے

آگے تلاش شروع کر دی ، عبدالحکیم کے نواحی علاقے
پل مصطفی آباد المعروف پل باہمن والا پرموٹر سائیکل اور وین کے
ٹکرانے سے نہر کے پل کر ٹوٹے شیشے کے نشان وغیرہ برآمد ہوئے
مگر کسی نے توجہ نہ دی ،18گھنٹے تک لواحقین لا پتہ افراد کو
اپنی مدد آپ کے تحت ڈھونڈتے رہے،18گھنٹوں بعد

رات نو بجے انہیں علم ہوا کہ ان کے پیارے عبدالحکیم کے
نواحی علاقے تویہاں پانی میں پڑے ہیں،لواحقین کی دہائی اور
آہ و بکا پر انتظامیہ اور پولیس حرکت میںآئی مگر رات کے وقت
ریسکیو ٹیم نے آ پریشن کا آغاز نہ کیا جس پر دکھوں کا ڈھیر بنے

لواحقین نے اپنی مدد آپ کے تحت تلاش کا آغاز کر دیا،

ریسکیو اہلکاروں نے صبع آپریشن کا آغاز کیا تب تک
ڈی سی خانیوال نے سندھائی بیراج سے نہر کو بند کرایا،
عورتوں بچوں سمیت8افراد کی لعشیں وین سے ہی مل گئیں،
مرنے والوں کی تلاش میں40گھنٹے کے طویل آپریشن
کےبعد تمام نعشوں کا نکالا جا سکا،جس کے بعدمیان چنوںسے
تعلق رکھنے والوں کی میتوں کو میاں چنوں جبکہ باقی کو لیہ کی
تحصیل چوبارہ کے علاقہ میں بھیج دیا گیا، عوام پہلے ہی کرونا وباء
کے باعث بری طرح مصیبت میں ہے اوپر سے اوپر تلے

سانحات،حادثات اور سفاکیت نے قوم کو مزید دکھ میں دھکیل ڈالا،
وین حادثہ میں ہلاک ہونے والوں کی شناخت علی عمران ،دعافاطمہ،
صبا عمران،ثناء اعجاز،شبنم اعجاز،شمیم اعجاز،اعجاز گلزار
،اعجاز عمر،صفدر اور اعجاز شامی کے نام سے ہوئی ہے،
لمحہ بھر میں ہنستے بستے خاندان پر قیامت ٹوٹ پڑی،
وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزادار نے حادثے میں
جاں بحق افراد کے لواحقین سے گہرے رنج اور دکھ کا

اظہار کیا اور کہاحادثہ انتہائی افسوسناک ہے،
اس کے علاوہ وزیر اعلیٰ نے کمشنر ملتان سے واقعہ کی
فوری رپورٹ بھی طلب کی ہے،ایک طرف خاندانی دشمنی
اور دوسری جانب المناک حادثے نے پوری قوم کو
ہلا کر رکھ دیا ہے،انہی حالات میں ملک دشمن عناصر نے
بلوچستان میں ایف سی اہلکاروں کو شہید کر دیا تھا
تحریر:صابر مغل۔ ۔۔

صابر مغل

نوٹ: نیوز نامہ پر شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کی ذاتی رائے ہے،
ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.