Urdu News and Media Website

دنیا میں ’’کرونا ہیئر اسٹائل‘‘ کے چرچے

دنیا میں کرونا وائرس کے حوالے سے بہت ساری چیزیں مشہور ہوئی ہیں،کہیں ’’کرونا برگر‘‘ مشہور ہوا توکسی نے اپنی اولاد کا نام ہی’’ کرونا‘‘ رکھ دیا،مگر اب دنیا میں ’’کرونا ہیئر اسٹائل‘‘ مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔

پوری دنیا پر کرونا وائرس کے وار جاری ہیں اور نظام زندگی درہم بھرم ہواپڑا ہے،مگر اب دنیا بھر میں کرونا وائرس کے خطرے کے باوجود احتیاطی بنیادوں پر لاک ڈاؤن میں نرمی کی جارہی اورلوگ روزگار کیلئے گھر وں سے نکل رہے ہیں۔اور ایسے میں دنیا بھر میں ’’کرونا ہیئر اسٹائل‘‘ کے چرچے بھی بڑھ رہے ہیں اور حجاموں کا روزگار بھی۔
جی ہاں جہاں دنیا بھر میں کرونا وائرس کے باعث قرنطینہ
اور لاک ڈاؤن کے نتیجے میں کروڑوں لوگ بے روزگار
ہوگئے ہیں لیکن انہی حالات میں کینیا کی سب سے بڑی
کچی آبادی کبیرا کے حجاموں نے اپنے ہنر کو ایک نیا انداز
دیتے ہوئے ’’کرونا ہیئر اسٹائل‘‘ ایجاد کیا ہے۔جو کہ
اب کینیا کے بعد پوری دنیا میں مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ماں نے سامان لینے بھیجا، بیٹا دلہن گھر لے آیا

اس ہیئر اسٹائل میں بالوں کو اُن ابھاروں کی طرح ترتیب
دیا جاتا ہے جو کرونا وائرس کی سطح پر جگہ جگہ موجود ہوتے ہیں۔
یعنی ’’کرونا ہیئر اسٹائل‘‘ بنوانے والے/ والی کا سر
کرونا وائرس جیسا ہوجاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: والدین نے بچی کا نام ’کرونا‘ رکھ دیا

اورخاص بات یہ ہے کہ کرونا ہیئر اسٹائل کوئی مہنگا بھی نہیں
بلکہ اسے بنانے کی قیمت صرف ایک ڈالر سے بھی کم ہے،
جسے کچی آبادی میں رہنے والے غریب لوگ بھی
نسبتاً آسانی سے ادا کرسکتے ہیں۔
کم خرچ، بالا نشین اور حسین ہونے کی وجہ سے یہ ہیئر اسٹائل
اب پورے کینیا کے بعد دنیا میں بھی مقبول ہورہا ہے ۔
کبیرا(ویب ڈیسک)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.