Urdu News and Media Website

کرونا وائرس آنکھوں کے ذریعے بھی منتقل ہوسکتا ہے

دنیا بھر میں کرونا وائرس کی ہلاکت خیزی اور پھیلاؤ دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے اور اس موضی وائرس کے پھیلاؤ اور اس کے خاتمے کیلئے دنیا بھر میں سائنسدان دن رات تحقیقات کر رہے ہیں اور اس حوالے سے آئے روز ایک نئی پیشرفت بھی سامنے آ رہی ہے۔

کرونا وائرس کے پھیلاؤ سے متعلق حال ہی میں سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ یہ وائرس آنکھوں کے ذریعے بھی جسم میں داخل ہو سکتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق امریکا کی جونز ہاپکنز یونیورسٹی کے
سائنسدانوں کی جانب سے ایک تحقیق کی گئی جس میں انہوں
نے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ اگر کرونا وائرس سے متاثرہ شخص کی
چھینک یا کھانسی میں سے نکلنے والے قطرے کسی دوسرے شخص
کی آنکھوں میں جا گریں تو اس سے اس شخص کی آنکھوں کے
ذریعے سے وائرس جسم میں داخل ہو سکتا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں: کیا کرونا وائرس نوٹوں کے ذریعے بھی منتقل ہو سکتا ہے؟

سائنسداوں کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس انسان کے جسم میں موجود
’’اے سی ای 2 ریسیپٹر‘‘ کو نشانہ بناتا ہے اور یہ اے سی ای 2
ریسیپٹر آنکھوں میں موجود ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی وبا کرونا وائرس کی کتنی اقسام، زیادہ خطرناک کون سی ہے

تحقیق کے بعد سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ
کرونا وائرس کا علاج کرنے والے ڈاکٹرز
اور دیگر طبی عملے کو وائرس کے پھیلاؤ سے بچنے
کے لیے ناصرف ماسک، دستانے اور حفاظتی لباس
پہننا چاہیے بلکہ اب انہیں خاص چشمے کا
استعمال کرنا بھی ضروری ہے۔
میری لینڈ(ویب ڈیسک)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.