Urdu News and Media Website

تربت میں بڑی دہشت گردی ۔ سپوت ماں دھرتی پر قربان

آئی ایس پی آر کے میجر جنرل بابر افتخار کے مطابق پاک فوج کے میجر ندیم عباس جوانوں کے ساتھ انتہائی دشوار گذار علاقہ میں دہشت گردوں کی نقل وحرکت پر نظر رکھنے اوردہشت گردوں کے ممکنہ روٹس کا پتہ لگانے کے لئے پٹرولنگ کے بعد مکران کے پہاڑی سلسلے کی جانب سے واپس اپنے کیمپ کی جانب گامزن تھے کہ دہشت گردوں کی جانب سے فورسز کی گاڑی پر ریموٹ کنٹرول حملہ کے نتیجے میں میجر ندیم عباس بھٹی اپنے پانچ جوانوںلانس نائیک تیمور، نائیک جمشید (میانوالی ) ،لانس نائیک خضر حیات (اٹک)،سپاہی ساجد حسین (مردان ) اور سپاہی دنیم (تونسہ )شہید جبکہ ایک سپاہی شدید زخمی ہو گیا۔

یہ ریمونٹ کنٹرول (آئی ای ڈی )حملہ صوبہ بلوچستان میں پاک ایران بارڈر سے ملحقہ ضلع کیچ کی تحصیل بلیدہ کے علاقہ میں کیا گیا،کیچ کا پرانا نام تربت اور یہ ضلع مکران ڈویژن میں بلوچستان کے جنوب مشرق میں واقع ہے ،تربت اب بھی ضلع کیچ کا صدر مقام اورکوئٹہ سے 592کلومیٹر دوری پر سی پیک راہداری کے حوالے اس اہم ترین علاقہ سے موٹر وےM8 اسی ایریا سے گذرتی ہے ،بلیدہ بارڈر ایریا میں بلوچ قبیلے کا ایک بڑا سرحدی شہر ہے جہاں بلیدی نسل کے بلوچ رہائش پذیر ہیں۔

یہ وہ شہر سے جہاں سے پاکستان سے تعلق رکھنے والے
پہلے خلاباز سائنسدان عبدالصمد (پروفیسر یونیورسٹی آف کیمرج امریکہ )
نے جنم لیا،بلیدہ کے ایک طرف ایران اور دوسری جانب کوہ زامران
کا خطرناک پہاڑی سلسلہ ہے جو پودوں،درختوں ، جھاڑیوں ،
گھاٹیوں کی وجہ سے ملک دشمن عناصر اسے محفوظ پناہ گاہ سمجھتے ہیں
مگر ہماری دھرتی کے شیر دل سپوتوں نے مل و قوم کی حفاظت کے لئے
ان کے مذموم مقاصد کو بڑی حد تک نکیل ڈال رکھی ہے،ایرانی سرحد کی

وجہ سے یہ ناسور ناپاک اور بزدلانہ کاروائی کے بعد اکثر سرحد پار نکل

جاتے ہیں کیونکہ ایران سر حد پار بھی وسیع علاقے پر ویران علاقہ ہے ،
کئی کلومیٹر دورایرانی صوبہ سیستان کا شہر سرکان واقع ہے،میجر ندیم عباس بھٹی
کا تعلق پنجاب کے ضلع حافظ آباد کی ایک سیاسی فیملی سے ہے ،دو بیٹوں ،
ایک بیٹی کے باپ میجر ندیم عباس نے17اپریل 2007کو اپک فوج
میں کمیشن حاصل کیا گذشتہ ایک سال سے وہ ایف سی سائوتھ بلوچستان
کے126ویں ونگ میں تعینات اور دشمن کے خلاف نبرد آزما تھے،

وہ حافظ آباد کے سابق ایم پی اے نذر عباس بھٹی کے بیٹے ،پی ٹی آئی کے
ضلعی صدر و سابق ضلع ناظم مبشر عباس بھٹی کے بھائی ممبر قومی اسمبلی
شوکت علی بھٹی کے فرسٹ کزن اورسابق ارکان قومی اسمبلی
چوہدری مہدی حسن بھٹی ،لیاقت عباس بھٹی کے بھتیجے تھے،اللہ پاک
سب شہیدوں کے درجات بلند فرمائے،شہید بارے کہا جاتاہے کہ
اس نے دیگر فیملی کی طرح سیاست میں حصہ لینے کی بجائے پاک فوج
میں شمولیت کو ترجیح دی جن کا شمار فوج کے نڈت اور بہادر ترین افسران
میں ہوتا تھا وہ ہر لمحہ دمشن سے نبٹے کے لئے بے چینی کا شکار نظر آتے
اور بالآخر وطن پر قربان ہوگئے،اس آئی ای ڈی (سڑک کنارے
نصب بارودی مواد)حملے میں ان کے شہید ہونے والے ساتھیوں کی
قربانی در حقیقت اس جذبے کا نام ہے جو ہر کسی میں نہیں ہوتا،

یہ بھی پڑھیں: ایل او سی پر بھارتی جارحیت اور آرمی چیف کا دو ٹوک پیغام

پاک فوج دنیا کی واحد مایہ ناز فوج ہے جس نے دہشت گردی کی جنگ

میں ہزاروں قربانیاں دے کر اسے شکست سے دوچار کیااس فوج جہاں
بیرونی دشمنوں سے وطن کو بچانے کے لئے سرحدوں پر اپنے فرائض انجام
دے رہی ہے وہیں اسے اندرون ملک بیرونی عناصرتعلق رکھنے والے
دہشت گردوں کا بھی سامنا ہے ،مگر یہ فوج قربانیاں دیتی جا رہی ہے مگر
اندرون ملک اور سرحدوں پر دشمن کو ناکون چنے چبا رکھے ہیں یہ واحد فوج
ہے جس کے افسران فرنٹ لائن پر رہ کر قومی جذبہ سے سرشار جوانوں کے
کبھی قربانیوں سے نہیں گھبرائی بلکہ ہر ایک کی خواہش ہے کہ اسے

شہادت نصیب ہو،ڈیرہ اسمعیل خان کے علاقہ مین کرنل مجیب الرحمان بھی
دہشت گردوں کے مذموم مقاصد کو ناکام بناتے ہوئے شہید ہو گئے جن کا
تعلق استور کے علاقہ بنجی سے تھا اس کاروائی میں 2دہشت گرد وں کو جہنم
کا راستہ دیا گیا،، ،کیچ میں ہونے والی دہشت گردی سے دور روز قبل بدھ کی
رات شمالی وزیرستان کے علاقہ میر علی کے قریب ادیک نامی گائوں میں قائم
چیک پوسٹ پر نامعلوم سمت سے آنے والا میزائل گرنے سے حوالدارظفر

اور سپاہی آصف شہید ہو گئے تھے، شدت پسند عناصر کی جانب سے حملوں
کے نتیجہ میں ایک ماہ کے دوران 16سیکیورٹی اہلکار شہید اور18کے

قریب زخمی ہو چکے ہیں ،LOCپر بلا اشتعال بھارتی فوج کی جانب

سے شہری آباد ی کو نشانہ تھمنے میں نہیں آ رہا وہاں بھی سپاہی ارباز خان
سمیت کئی سول افراد بھی شہید اور زخمی ہوئے ،بلوچستان میں ہونے
والی یہ بہت بڑی دہشت گردانہ واردات ہے جبکہ اس سے قبل
گذشتہ دو ماہ کے دوران زیادہ تر ایسے واقعات شمالی وزیرستان کے
علاقہ میں ہی پیش آئے جن مین جہاں ہمارے جوانوں نے جام شہادت
حال کیا وہیں متعدد ناسوروں کو جہنم واصل بھی کیابر وقت کاروائی اور
مصدقہ اطلاعات پر فورسز نے جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے ملک
کو بہت بڑی دہشت گردانہ وارداتوں سے محفوظ کرایاورنہ کہیں نہ کہیں
بہت بڑی تباہی خدا نخواستہ ہو سکتا تھا،تحصیل دتہ خیل کے علاقے

طوطناری میں فورسز پر اچانک حملہ پر 4جوان سپاہی اد خان،سپای محمد شمیم ،
خالد اور خضر شہید ،جوابی کاروائی میں 7دہشت گرد ہلاک کر دیئے گئے ،
گذشتہ ماہ شمالی وزیرستان کے علاقوںخیورہ اور ڈوہالی میں دہشت گردوں کی
موجودگی کی خفیہ اور مصدقہ انٹیلی جنس رپورٹس پرکاروائی کی توایک دہشت گرد
گرفتار جبکہ 28سالہ لانس نائیک عبدالوحیدسکنہ راج کنڈی مظفر آباداور ایبٹ آباد
کی چھانگلہ گلی کے گائوں بندی اعوان کے رہائشی سپاہی سکم داد شہید ہوئے،
11اپریل کوبھی فورسز نے سات دہشت گرد ہلاک کئے گئے،14اپریل کو
شمالی وزیرستان میں آپریشن کے دوران فائرنگ سے ایک اہلکار شہید، 18اپریل

کو بھی وزیرستان اور مہمند میں الگ الگ آپریشنزمیں متعدد دہشت گرد مارے گئے،

18مارچ کوشمالی وزیرستان کے علاقہ دتہ خیل میں ہی آپریشن کے دوران 6دہشت
گرد ہلاک ،اس آپریشن میں لاہور کے رہائشی 26سالہ لیفٹیننٹ آغا مقدس علی خان ،
لیہ کے لانس حوالدار36سالہ قمر ندیم اور24سالہ سپاہی محمد قاسم اور23سالہ توصیف
(ناروال )شہادت کا رتبہ پا گئے،8مارچ کو شمالی وزیرستان کے گائوں ادیل خیل
میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر کاروائی کے نتیجہ میں محاصرہ
توڑ کر فرار ہونے کی کوشش کرنے والے 4شدت پسند ہلاک کرتے
ہوئے ٹھکانہ تباہ کردیا گیا ٹھکانے سے ریمونٹ کنٹرول ڈیوائسز،

شدت پسندی پر مائل کرنے والا لٹریچر اور بھارتی ساختہ ادویات برآمدہوئیں،
ٹانک کے قریب دہشت گردوں کے ٹھکانے پر آپریشن سے بھی بھاری
تعداد میں اسلحہ بارود برآمد ہوا،گذشتہ سال 12نومبر کو بھی دیسی ساختہ بارودی
سرنگ پھٹنے سے سپاہی ریاست،ساجد اور بابر شہید ہوئے ،ان تمام واقعات
کی کڑیاں پڑوسی دشمن ملک بھارت سے براہ راست ملتی ہیںاور ہمارے علیحدگی
پسند بلوچستانی ان کے اشاروں پر عمل پیرا ہیں جس کا اندازہ واقعہ کیچ کے موقع پر

بھارتی نیوز چینل ٹائمز نائوکے پاکستان دشمن اینکر اتاب گوسوامی جس کا ہر

پروگرام ہی پاکستان مخالفت سے شروع ہوتا ہے کے پروگرام میں بھارتی
ریٹائرڈ میجر گواروئو آریا نے بر ملا بکواس کی تھی کہ ہم ہندواڑہ کا بدلہ بہت
جلد بلوچستان میں لیا جائے گااگلے 10سے15 دنوں میں آپ دیکھ لیں گے،
بھارتی ریٹائرڈ میجر نے ٹی وی پر دعویٰ کیا کہ وہ بلوچستان کے تمام علیحدگی
پسند وں کے ساتھ رابطے میں ہیںمیرے موبائل میں بگٹی،مری اور مینگل
سرداروں کے فون نمبرز ہیں مجھے اس وقت بھی پتہ ہے کون کون کہاں کہاں
ہے مجھے ان کی لوکیشن کا مکمل علم ہے،بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کے ساتھ
پورا انڈیا کھڑا ہے اور ہم بلچستان کو آزاد کرا کر رہیں گے وہاں پاکستانی فوج کا
اتنا خون بہے گاکہ جسے پاکستان کی دس نسلیں یاد رکھیں گی ،ایسی بھونڈے

دعوے تو تواتر سے بھارت کی جانب سے کئے جاتے ہیں مگراس سابق بھارتی
آفیسر کی جانب سے یہ دعویٰ اور برملا اعتراف (جسے اسٹیبلشمنٹ کی مکمل آشیر با د
حاصل ہے جو متعدد مقامات پر ویڈیوز اور تصاویر میںبھارتی اعلیٰ فوجی قیادت
سے ملنے اور بریفنگ لیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے )اور بلوچستان میں ایف سی
کی گاڑی پر حملہ،صوبے میں بھارت کی مداخلت اور دہشت گرد کاروائیوں
میں ملوث ہونے کی تصدیق ہے،شہید میجر سمیت تمام شہادت ھاصل کرنے
والوں کو پورے فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا،میجر ندیم
کی نماز جنازہ ان کے آبائی گائوں برج دارا میں ادا کی گئی اس موقع  پر

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باوجوہ اور دیگر اعلیٰ عسکری قیادت کی جانب

سے پھولوں کی چادریں بھی چڑھائی گئیں،اس موقع پر ان کے
بھائی بشر عباس کا کہنا تھا کہ ہمیں فخر ہے کہ ہمارے بیٹے نے
ملک و قوم کی خاطراپنی جان کا نزرانہ پیش کیا،ان کے کم سن بیٹے
یحییٰ عباس نے کہامیرے بابا بہت اچھے تھے جب بھی آتے
میرے لئے گفٹ لے کر آتے، بھارت سمیت دنیا کے کئی ممالک
پاکستان دشمنی میں پیش پیش ہیں مگر وہ قوم جس کے فرزند شہید ہوں ،
میت گھر پہنچے تو کہرام پربا ہونے کی بجائے شہید کی والدہ بیٹے کے
تابوت کو بوسہ دتی ہیں،باپ ،بہن بھائی عزیز رشتہ دار فخر کا اظہار
کرتے ہیں جبکہ فورسز میں تعینات جوانوں مین شہادت کا جذبہ
مزید بڑھ جاتا ہے ایسی قوم کو کون شکست دے سکتا ہے
یہ الگ بات ملک دشمنوں کی کثیر تعداد اپنوں کی ہے۔
تحریر:صابر مغل۔۔۔

صابر مغل

نوٹ : نیوز نامہ پر شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کی ذاتی رائے ہے،
ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.