Urdu News and Media Website

ماں تیری عظمت کو سلام

تحریر: عاصمہ حسن۔۔۔

ماں سے محبت کے اظہار کے لئے ایک دن مختص کرنا مناسب نہیں میرے لئے ہر دن ماں کا دن ہےـ ربِ کائنات نے زمین پر ماں جیسی عظیم ہستی کو اتارا جو اللّٰہ تعالٰی کے بعد سب سے زیادہ محبت کرنے والی ذات ہےـ 

ماں نام ہے ایک عظیم ہستی کا ‘ ماں نام ہے ایک بے لوث رشتے کا ‘ ہر غرض’ لالچ سے بالاتر ـ ماں لفظ بہت پیارا اور خوب صورت اور اپنائیت سے بھر پور ہوتا ہےـ ماں کی اہمیت کا اندازہ ان لوگوں کو زیادہ ہوتا ہے جن کی ماں بچھڑ جاتی ہے کیونکہ اللّٰہ کو بھی اچھے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے ـ 

عمر کا کوئی بھی حصہ ہو ماں کی کمی محسوس ہوتی ہے
یہ وہ انمول رشتہ ہے جس سے آپ اپنے دل کی
ہر بات بلا جھجھک کر سکتے ہیں’ جس کی آواز
سن کر دل کو سکون مل جاتا ہے جس کو جپھی ڈال
کر ساری دنیا کے غم بھول جاتے ہیںـ دل کی
بات ماں سے کر کے دل کا بوجھ کم ہوجاتا ہے اور
انسان ہلکا پھلکا محسوس کرتا ہے ـ ماں بہترین راز
دار ہوتی ہے اپنی اولاد کی ہر بات’ ہر راز اپنے
دل کے قبرستان میں دفن کر دیتی ہے ـ اگر ماں کے
چار بچے بھی ہیں تب بھی یکساں پیار بانٹتی ہے ہر ایک
کو برابر وقت دیتی ہےـ ہر بچے کو اس کی عادات اور
ضروریات کے مطابق دیکھتی ہے ـ

گھر میں رونق ماں کے دم سے ہی ہوتی ہے

جب بچہ گھر میں داخل ہوتا ہے تو اپنی ماں کو
ہی پکارتا ہے کیونکہ ماں وہ چھاؤں ہے جو
تپتی دھوپ میں سایہ بن جاتی ہے ـ اولاد پر
آنچ نہیں آنے دیتی اور سخت دھوپ’ گرمی
میں ٹھنڈک دیتی ہے اپنی باتوں سے’ اپنے
لمس سے ‘ اپنے وجود سے ہر طوفان سے بچا کر رکھتی
ہے خود سینہ تان کر ہر مصیبت’ پریشانی کا مقابلہ
کرتی ہے لیکن اولاد کی آنکھ میں آنسو نہیں دیکھ سکتی ـ

بہت خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جن کو ماں کا
بھرپور پیار ملا ہوتا ہے اور وہ لوگ اللّٰہ کے عطا
کردہ اس تحفے کی قدر بھی کرتے ہیں ـ
جب ایک عورت کو پتہ چلتا ہے کہ وہ ماں بننے والی
ہے اس میں قدرتی طور پر بہت ساری تبدیلیاں
رونما ہوتی ہیں نو مہینے اپنے پیٹ میں پالتی ہے پہلے
دن سے آخری دن تک تکالیف برداشت کرتی ہے
بچے کو جنم دینا انتہائی مشکل کام ہے اللّٰہ تعالٰی نے
ماں کو اتنی ہمت و حوصلہ عطا کیا ہے کہ وہ سب سہہ
لیتی ہے ساری ساری رات جاگ کر پالتی ہے
اپنی اولاد کو اور ان کی معمولی سی تکلیف پر تڑپ
اُٹھتی ہےـ

آسمان پر اللّٰہ مہربان ہوتا ہے تو زمین پر مہربان

ہستی ماں کی ہے ـ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ
” مجھے موت سے اتنا ڈر نہیں لگتا جتنا ڈر ماں کے
بغیر اس دنیا میں جینے سے لگتا ہےـ "

یہ بھی پڑھیں: ڈنگر ڈاکٹر

اس خودغرض دنیا میں ماں جیسا دل کسی کا نہیں ـ اگر
کھانے کی کوئی چیز بچے کی پسند کی ہو تو بولے گی
مجھے تو یہ پسند ہی نہیں’ مجھے تو بھوک ہی نہیں اور
اپنی اولاد کو کھلائے گی ایسا جگرا صرف ماں کا ہی ہوتا
ہے اپنے کپڑے’ جوتی کا نہیں سوچے گی پہلے اپنی

اولاد کا سوچے گی اور جو بچہ تھوڑا کمزور ہو گا اس کا ساتھ
زیادہ دے گی ـ اپنی اولاد کے چہرے پر مسکان دیکھ کر
جینے والی صرف ماں ہی ہوتی ہے اس کی آواز سن کر
بھانپ جاتی ہے کہ طبعیت خراب ہے چہرے کو
پڑھ لیتی ہے کہ کوئی بات ضرور ہے یہ صلاحیتیں
صرف اللّٰہ نے ماں ہی میں پیدا کی ہیں جو مرتے
ہوئے بھی اپنی اولاد کا سوچ رہی ہوتی ہے ـ

بے لوث دعائیں کرنے والی ذات بھی صرف ماں

کی ہی ہوتی ہے ماں کے بعد کوئی دعا کرنے والا
بھی نہیں ہوتا نہ کوئی یہ پوچھنے والا کہ تم نے کھانا کھایا
یا نہیں’ ماں اپنی اولاد کے نخرے اٹھاتی ہے فرمائشیں
پوری کرتی ہے’ من پسند کھانے بناتی ہے ہر وہ کام
کرتی ہے جس سے اس کی اولاد خوش ہوتی ہے ان کی ہر
خواہش پوری کرنے کی بھرپور کوشش کرتی ہے اپنا
سب کچھ سکون’ آرام قربان کر دیتی ہے اور
کبھی جتاتی نہیں ہے ـ

ماں کے وجود سے بچے میں خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے
جب بچہ کوئی کام کرتا ہے تو فوراَ ماں کو دیکھتا ہے
کیونکہ وہاں سے اس کو پزیرائی ملتی ہے حوصلہ ملتا
ہے سکوں ملتا ہے اطمینان ملتا ہےـ اسی طرح جب
کوئی چوٹ لگتی ہے یا کوئی تکلیف ہوتی ہے تو
منہ سے بے اختیار لفظ ماں نکلتا ہے ـ
ماں تو آسمان سے اتارا گیا عظیم تحفہ ہے اللّٰہ تعالیٰ
فرماتے ہیں کہ ماں کو مسکرا کر دیکھ لینا بھی عبادت
ہے ـ ماں کی شان دیکھئیے کہ جنت بھی ماں کے قدموں
میں رکھ دی گئی ہے ـ
خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کی ماں حیات ہیں
خدارا اس رشتے کی قدر کریں کیونکہ ماں انمول ہے
اس کا نعم البدل کوئی نہیں ـ ماں راضی تو رب راضی ـ
کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ماں نے مجھے سب سکھا
دیا لیکن یہ نہیں سکھایا کہ اس کے بغیر کیسے جینا ہے ـ ماں تیری عظمت کو سلام ـ

ایک نظم ماں کے نام

تیرا میرا کچھ ایسا ناتا ہے
جب بھی تکلیف ہوئی
درد اُٹھا
دل نے تڑپ کر تجھ کو پکارا
جب کہیں ڈھونڈنے سے بھی
تیرا مسکراتا چہرہ نظر نہ آیا
بے اختیار آنکھوں میں پانی اتر آیا
وہ آنسو جو تو دیکھ نہ پاتی تھی
رخساروں پر گرنے سے پہلے تڑپ کر
اپنے نرم گرم ہاتھوں کی پوروں سے پونجھ لیتی تھی
میرے بِن کچھ کہے دل کی بات جان جاتی تھی
میری آنکھوں کی نمی سے سب پہچان جاتی تھی
کیسی بے رنگ زندگی ہے اب تیرے بنا
بس کچھ سانسیں ہیں
ان سانسوں میں بھی تیرا نام ہے
تیرے گلے سے لگنے کی تڑپ ہے
ہر لمحہ تجھے ڈھونڈتی ہوں
تجھے پکارتی ہوں
تیری دید کو ترستی ہوں
تیرے بعد بہت تنہا ہوں
کوئی نہیں ماں تیرے جیسا
ماں میری پیاری ماں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.