Urdu News and Media Website

ڈنگر ڈاکٹر

تحریر:انیلہ افضال ۔۔۔

تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے نا! اوئےکوئی عزت ہے ہمارے پنڈ میں، کیا کہوں گا پنڈ والوں سے؟ اخے! میرا پتر ڈنگر ڈاکٹر بننا چاہتا ہے! چودھریچودھری کا پارہ ساتویں آسمان سے باتیں کر رہا تھا۔ڈنگر ڈاکٹر نہیں ابا! ویٹرنری ڈاکٹر کہتے ہیں۔ جان محمد سر جھکاتے ہوئے جواب دیا۔

چل اوئے! مجھے نہ پڑھا۔ انگریزی میں دینے سے کیا گالی گالی نہیں رہتی؟کیا ہو گیا ہے ابا! آپ تعلیم کو گالی کے ساتھ ملا رہے ہیں؟او میریا پترا! تجھے ڈاکٹر بننا ہے تو انسانوں کا ڈاکٹر بن، وہ کیا کہتے ہیں ایم بی بی ایس! گاؤں میں وڈا ہسپتال کھول کر دوں گا۔

اخے! چودھری غلام رسول ہسپتال!!!! او نئیں نئیں!
تیری دادی کے نام پر کھولیں گے: رحمت بی بی
فری ہسپتال! ہیں! کیا کہتا ہے؟ اور تجھے تو دادی
سے بڑا پیار بھی ہے نا! کیا کہتا ہے؟؟؟ اوئے پتر
! ہسپتال فری کا اور لمے ای نوٹ چھاپنا ساری عمر!
ہیں! ٹیکس سے بھی چھوٹ مل جانی ہے۔
خیراتی ادارے جو ہونا اے! ہیں! کیا کہتا ہے؟؟
ابا بات نوٹوں کی نہیں ہے۔ مجھے جانوروں سے
بڑا پیار ہے۔ لے! اخے! جانوروں سے پیار ہے۔

او گھوڑوں کی مالش کرتے تو تجھے کبھی نہیں دیکھا۔

نہ کبھی تو نے بھینسوں کا گتاوا بنایا ہے۔ اوئے کبھی
حویلی کے کتوں کو نہلایا ہے؟ ایویں ای زبانی زبانی
پیار ہے؟ ہیں!ابا ان سب کے لیے تو آپ نے
ملازم رکھے ہوئے ہیں نا! میں تو فطرت کو قریب
سے دیکھنا چاہتا ہوں۔ جنگل میں رہ کر
جنگلی جانوروں کی زندگی کو بہتر بنانے پر کام
کرنا چاہتا ہوں۔ہیییییںںںںں! چودھری
کی’ ہیں’ کچھ زیادہ ہی لمبی ہو گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: دل کو روؤں کہ جگر کو پیٹوں

او طفیل بی بی! نی طفیلاں! نی ادھر آ! لے تیرا
منڈا پاگل ہو گیا ای۔ اخے جنگلی جانوروں کی زندگی
اس نے بہتر بنانی ہے! نا تو نے ان کو سکولے
داخل کرانا ہے کہ ان کو پکے مکان بنوا کر
دینے ہیں۔کیا بات ہے جی! طفیل بی بی نے
دروازے میں کھڑے کھڑے پوچھا۔ منڈا تیرا
پاگل ہو گیا ہے! جنگل کے جانوروں کے لیے
سکول کھولے گا اب!ہیں جی! طفیلاں نے
انگلی ٹھوڑی پر جماتے ہوئے بیٹے کو دیکھا۔
سکول نہیں ابا اسپتال بنانا چاہتا ہوں!
تو میں وی تو ہسپتال بنانے کا ہی کہہ رہا ہوں۔

لمبے نوٹ!!!چوھدری نے انگلی کو انگوٹھے سے

رگڑتے ہوئے اشارہ کیا۔نہیں ابا! جنگل میں
جانوروں کا اسپتال! جانوروں کی نرسری!
جن بچوں کے ماں باپ مر جاتے ہیں۔
یا جو کسی وجہ سے شدید زخمی ہو جاتے ہیں۔
یا جو بیمار ہو جاتے ہیں۔ ان کی دیکھ بھال کے لیے
ایک سینئر بنانا چاہتا ہوں۔ اللہ کا دیا
سب کچھ ہے اس کی مخلوق کی خدمت کرنا چاہتا ہوں۔

یہ بھی پڑھیں: خواہش کا گھوڑا

اللہ بھی راضی اور میں بھی خوش!
کیوں طفیلاں بیگم! کج سمجھ میں آیا؟
آنکھیں پھاڑے کھڑی طفیلاں نے نفی میں سر ہلایا۔
مگر بات میرے بیٹے کی خوشی کی ہے تو میں تو
جند وار دوں گی۔ جا میرا پتر جو تیرا دل کرتا ہے کر!
او دونوں ماں پتر پاگل ہو گئے ہو اور مجھے بھی پاگل
کر کے چھوڑو گے۔ ہمیں بھی ساتھ ہی لیتا جا۔
میں اور تیری ماں وہاں جنگل میں جانوروں کے
پوتڑے دھویا کریں گے۔ چوھدری کا غصہ
اب بے بسی میں تبدیل ہو گیا تھا۔نہیں ابا!
ایسا کچھ نہیں! ماہرین کی ٹیمیں ہوتی ہیں،

یہ بھی پڑھیں: زنانی کی زبان

جو جانوروں کی بہتری کے لیے کام کرتی ہیں۔

اور یہ کام انٹرنیشنل سطح پر ہوتے ہیں۔ میں صرف
ان ٹیموں کا حصہ بننا چاہتا ہوں۔ اور رہی بات
پوتڑے دھونے کی! تو ابا! جانور بڑے پیار خورے
ہوتے ہیں۔ اور ایک دوسرے مدد بھی کرتے ہیں
اور دیکھ بھال بھی۔ میں نے خود اس طرح کے سینٹروں
میں جانوروں کو ایک دوسرے کی دیکھ بھال کرتے
ہوئے دیکھاہے۔ کہیں کوئی چمپینزی کسی شیر کے

بلونگڑے کو دودھ پلا رہا ہوتا ہے تو کہیں کوئی شیر بندر
کے بچے کو جھولا جھلا رہا ہوتا ہے۔اچھا! وہ کیوں بھلا!
چوھدری نے تمسخرانہ انداز میں کہا۔وہ اس لیے ابا!
کہ جانوروں نے ابھی تک لمے نوٹ نہیں دیکھے،
اور نہ ہی ان کو اس کی ضرورت پڑتی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.