Urdu News and Media Website

بیماری ، بے روزگاری اور سرمایہ داری

تحریر : آئمہ محمود ۔۔۔

پوری دنیا اور خصوصا ترقی پذیر ممالک کی ورکنگ کلا س دہائیوں سے سرمایہ داری نظام کے استحصال اور جبر کا شکار رہی ہے لیکن گذشتہ چار ماہ میں اس سسٹم کی سفاکی نے جیسے پورے خطہ ارض کے لوگوں کی زندگیوں اور موت سے کھلواڑ کیا ہے اس کی مثال صدیوں میں نہیں ملتی۔

عام انسانوں کی صحت ، تحفظ اور سماجی بہبود کو جسطرح یہ نظام نظر انداز کرتا ہے کرونا وائرس نے اس حقیقت کو بھیانک انداز میں اشکار کر دیا ہے ۔سمجھنے کی بات یہ ہے کہ وائراس اصل مسلہ نہیں بلکہ یہ تو محض symptomہے اس کھوکھلے اور خود غرض نظام کا جسمیں ملکی آمدنی کا تقریبا40فیصد سے زائد ہتھیاروں پر خرچ ہوتا ہے اورصرف 1فیصد عوامی صحت پر۔

لامحدود منافع کے حصول کی حرص سرمایہ داری سسٹم کی بنیاد ہے جو چند سرمایہ داروں
اور انکی ملٹی نیشنل کمپنیوں کو بے پناہ معاشی ، سیاسی اور قانونی اختیارات دے کر
اکثریتی آبادی کو کولہو میں جتے بیل کی طرح گول دائرے میں گردش کرنے پر
مجبور کر دیتا ہے۔ لاحاصل جنگیں ہوں ، دہشت گردی ہو، معاشی بحران ہو یا
متعدی بیماریاں ، محنت کش طبقہ اپنے جان و مال سے اسکی قیمت ادا کرنے پر
مجبور ہوتا ہے۔اور یہی کچھ کرونا وائرس کی عالمی وبا میں ہو رہا ہے غریب ملکوں
کی تو بات ہی جانے دیں سپر پاور امریکہ اور یورپ میں جس طرح لوگ بنا
علاج کے مارے جا رہے ہیں انکی اکثریت غریب ، بے روزگار، بے گھر
اور معاشی طور پر پسے ہوئے طبقے سے ہے ۔

یہ بھی پڑھیں: ہاتھ ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔ 

دنیا میں آنے والی یہ کوئی پہلی وبا نہیں اس سے پہلے بھی لوگ ایسے المیوں سے گزرے ہیں ۔

1918میں آنے والے Spanish Fluکا ذکر آجکل پھر سے زبان زد عام ہے
اس کے علاوہ سارس اور Abolaوائرسز اسی صدی کی وبائیں ہیں۔جنھوں نے
لاکھوں لوگوں کی جان لے لی تھی لیکن کرونا وائرس جیسی عالمی وبا کے اندیشے کی بات
گذشتہ 30,20سالوں سے ہو رہی تھی لیکن اس کے باوجود اس سے نپٹنے کے حوالے
سے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ۔اس کی ایک بڑی بنیادی وجہ ہیلتھ کو چند نجی کمپنیوں کے

ہاتھوں میںدینا ہے جن کے مطابق میڈیکل اور میڈیسن صرف اور صرف ایک کاروبار
ہے جو انحصار کرتا ہے منافع پر نہ کہ اکثریت کی صحت اور بہبود پر۔ یہی وجہ ہے کہ
اکیسویں صدی کی تیسری دہائی میں جب دنیا کو ڈیجیٹل بنانے کے دعوے ہو رہے ہیں
اور ٹیکنالوجی کی ہوش ربا ترقی کے گن گائے جارہے ہیں ایک وائرس سے بچنے کا طریقہ
یہ ہے کہ کاوربار حیات کو روک کر دنیا کی آبادی کو گھروں میں
بند رہنے کے فرمان جاری کیا جا رہا ہے ۔

,,وائرس سے پہلے ہمیں بھوک مار دے گی،، یہ الفاظ اس دیہاڑی دار مزدور

کے ہیں جو لاک ڈاون کی وجہ سے کام سے محروم ہو گیا ۔ یہ محض ایک فرد
کی بات نہیں ملک عزیز میں ایسے افراد کی تعداد کروڑوں میں ہے جو روزانہ
کی بنیاد پر کام کرکے اپنی آمدنی کا وسیلہ کرتے ہیں۔ چھوٹی بڑی صنعتوں اور
کارخانوں سے لوگوں کو کام سے نکالا جا رہا ہے یا غیر معینہ مدت کیلئے بنا تنخواہ
گھر بیٹھنے کو کہا جا رہا ہے ۔ حکومتی اعداوشمار کے مطابق لاک ڈوان کی وجہ
سے 18.5ملین افراد ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے لیکن حقیقت میں رسمی
اور غیر رسمی شعبے میں کام کرنے والے مزدوروں کے بے روزگار ہونے کی

تعداد اس سے کئی گنا زیا دہ ہے۔حکومت کے پاس تو زرعی اور غیر رسمی شعبے
سے وابسطہ محنت کشوں کے اعداوشما ر ہی نہیں ہیں تو وہ حالات کی سنگینی کا اندازہ
کیونکر لگا سکتی ہے۔سرکار تو فیکڑیوں میں کام کرنے والے محنت کشوں کی
ملازمتوں کو نہ بچا پائی وہ کروڑوں زرعی اور انفارمل ورکرز کو کیا تحفظ فراہم کرئے گی؟
حکومت عملی طور پر مزدوروں کو ریلیف دینے کے لیے کچھ کر ے یا نہ کر ے
البتہ وزیر اعظم ہر دوسر ے روز عوام سے خطاب میں لوگوں کو درپیش مشکلات کا
احساس ہونے کا دعوی کرتے دیکھائی دیتے ہیں لیکن مجال ہے کہ ان کے پاس

حالات میں بہتر ی کے لیے ایک بھی موثر تجویز ہو، سوائے چندے کی اپیل کے۔

(چند حاسدوں کا کہنا کہ موجودہ وزیر اعظم صرف چندہ اکٹھا کرنا ہی

جانتے ہیں باقی کاموں کے لیے کوئی نیا وزیر اعظم ڈھونڈ لو)۔
اچھا ہوتا اگرچندے کی اپیل کے ساتھ وزیر اعظم ملک کے سرمایہ داروں کو پا بند
کرتے کے وہ ان نامسائد حالات میں کسی ورکر کو ملازمت سے نہیں نکالیں گے ۔ محنت
کشوں کو رجسٹر کرنے کے لیے اقدامات کا اعلان کرتے، ملک میں
موثر سوشل سکیورٹی کے نظام کو قائم کرنے کیلئے حکمت اپنانے پر غورکرتے ۔

بجلی ، گیس اور پانی پر ٹیکس کی کٹوتی موخر کرکے، ضروریات زندگی کی بڑھتی قیمتوں
کو کنٹرول کرتے ہوئے حکومتی ایوانوں میں بیٹھے ملک کے امیر ترین افراد
چھ ماہ تک تنخوائیں نہ لینے کا اعلان کرتے تو عوام کو احساس ہوتا کہ حکومت
کوعام لوگوں اور محنت کشوں کی مشکلات کا ادراک ہے لیکن چینی آٹابحران
اور پاور کمپنیوں کے معاہدوں سے اربوں کمانے والے حکومتی نمائندے
غریبوں کی تکالیف کیا جانیں۔ٹی وی پر خطاب کے علاوہ سرکار آئندہ

یہ بھی پڑھیں: ہماری خوش بختی

بجٹ میں دفاعی اخراجات میں کمی اور انسانی ترقی اور بہبود کے بجٹ میں

اضافہ کرئے۔مزدوروں کے اربوں روپے جو EOBI اورو رکرز ویلفیئرفنڈ

میں موجود ہیں ان کے ذریعے محنت کشوں کے واجبات کی فوری ادائیگیوں
کو یقینی بنائے، تمام سٹیک ہولڈر سے مشاورت کے بعد فلاحی معاشی نظام کی بنیاد
رکھیں تو حالات میں کچھ بہتری کی امید کی جا سکتی ہے۔ محنت کشوں کے عالمی دن
پر انفارمل سیکٹر کے محنت کشوںکی رجسٹریشن اور سوشل سکیورٹی کا اطلاق، محنت کشوں
کو تنظیم سازی کا حق ، کم از کم تنخواہ میں اضافہ، حکومتی ایوانوں میں محنت کشوں کی
صنفی بنیاد پر نمائندگی، آئی ایل او کنونشنز پر عملدرآمد اور سہ فریقی مذاکرات کے عمل کو
مضبوط و موثر بنانے کے ساتھ کام کی جگہ پر تحفظ ، ایک سے کام کا ایک سا معاوضہ،

ترقی اور تربیت کے مواقع سے محروم محنت کش خواتین کی تنظیم سازی اور فیصلہ سازی
میں شمولیت جیسے اقدامات پر فوری عمل محنت کشوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے
بے حد ضروری ہے۔ سنگین معاشی حالات میں ٹریڈ یونینز کو بھی دور حاضر کے تقاضوں
کے ہم آہنگ ہونا ہو گا۔ ٹریڈ یونینز کی لیڈر شپ میں صنفی برابری اور نوجوان قیادت
مزدور تحریک کی کامیابی کی بنیاد ہے ۔

یہ بھی پڑھیں: مہنگائی کا خاتمہ، معاشی اور قانونی تحفظ، مزدوروں کا مطالبہ

حکومتوں کو یہ سمجھنا ہو گا کہ محنت کشوں کے تحفظ اور ترقی سے ہی دنیا کو انسانوں کے لیے

ایک پر امن اور محفوظ خطہ بنایا جا سکتا ہے ۔ لیکن یہ سب تب ہی ممکن ہو گا جب دنیا بھر
کے مزدور تاریخ کی بد ترین معاشی صورتحال میں اپنے مضبوط اتحاد اور صنفی برابری کے
ذریعے سر مایہ دارنہ نظام کے خونی شکنجے کو توڑنے کی کوششوں کو تیز تر کریں کیونکہ
کرونا وائرس کے ساتھ ناکام سرمایہ داری نظام کا خاتمہ ہی
دنیا کی بقا اور مزدوروں کی جیت کا ضامن ہے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.