Urdu News and Media Website

امریکہ میں کرونا وائرس کی تباہ کاریاں،کروڑوں افرادنوکریوں سے فارغ

دنیا بھر میں کرونا وائرس کی تباہ کاریوں کا سلسلہ جاری ہے،سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملک امریکہ میں مریضوں کی تعداد 7لاکھ کے قریب جبکہ 35ہزار قریب افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

امریکا میں اب تک کرونا وائرس سے ہلاک افراد کی تعداد34ہزار6سو سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ اب تک 6لاکھ 78 ہزار سے زائد افراد اس خطرناک وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔
جبکہ مریضوں اور ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔
دوسری کرونا وائرس نے امریکہ کی معاشی صورتحال کو بھی برُی طرح بگاڑ کر رکھ دیا ہے،
اب تک 2 کروڑ 20 لاکھ افراد نوکریوں سے فارغ ہو چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر گولی مارنے کا حکم

امریکی حکام کے مطابق گزشتہ ہفتے 52 لاکھ مزید افراد نے بے روزگار الاؤنس
کے لیے درخواستیں دیں جس کے بعد امریکا میں بے روز گار افراد کی تعداد
2 کروڑ 20 لاکھ تک پہنچ گئی ہے یعنی ہر سات میں سے ایک امریکی شہری
بے روز گار ہو گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملکی معیشت کو تین حصوں میں دوبارہ بحال
کرنے کی تجویز پیش کی ہے ۔

یہ بھی پڑھیں: کرونا وائرس: امریکی صدر کی ایران کو مدد کی پیشکش

دوسری جانب چینی شہر ووہان میں کرونا وائرس کی وجہ سے

ہونے والی ہلاکتوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔

چینی حکام نے ووہان میں کرونا وائرس سے ہلاک افراد کے حوالے سے
نظر ثانی شدہ ڈیٹا جاری کیا ہے جس کے مطابق ووہان میں مزید 1290
نئی اموات کے بعد ملک بھر میں اموات کی تعداد 4 ہزار 642 ہو گئی ہے
جب کہ متاثرہ افراد کی تعداد 82 ہزار 367 ہے جن میں سے 78 ہزار افراد
صحت یاب ہو کر گھرو ں کو جا چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: چین کے شہر ووہان کو جزوی طور پر کھول دیا گیا

خیال رہے کہ امریکہ کے کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک اٹلی ہے
جہاں عالمگیر وبا سے اموات کی تعداد 22 ہزارسے تجاوز جبکہ متاثرہ افراد کی
تعداد1لاکھ 70ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔
اس کے علاوہ اسپین میں اموات کی تعداد 19 ہزار سے زائد ، جبکہ فرانس میں بھی
اب تک 18ہزار کے قریب افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔
برطانیہ میں 13 ہزار سے زائد جب کہ ایران میں 4 ہزار 869 اور
جرمنی میں 4 ہزار 52 افراد کورونا کا شکار ہو چکے ہیں۔

دنیا بھر میں اب تک کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 21لاکھ 97ہزار سے
تجاوز کر چکی ہے جبکہ 1لاکھ 47ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
نیو یارک(مانیٹرنگ ڈیسک)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.